سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]

ریاست سوات کے آثار کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات کے ریاستی دور کے آثار مٹتے مٹاتے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ شاید ہی کہیں اِک آدھ باقی ہوں، باقی سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ’’آنجہانی‘‘ ہونے والی تحصیلِ بری کوٹ کی عمارت کی ایک تصویر دی ہے، جو اَب ’’سورگ باش‘‘ ہوچکی ہے۔ اُس کی جگہ جو […]

ریاست سوات کے کوٹہ قلعہ سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

کوٹہ قلعہ کا شمار ریاست کے اولین قلعہ جات میں ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ ریاست کا سرحدی قلعہ تھا۔ اس لیے اس کی عمارت بڑی شان و شوکت والی تھی۔ شاید یہ واحد قلعہ تھا،جس کے ارد گرد دوہری فصیل تھی اور فصیل میں بھی واچ ٹاؤر بنائے گئے تھے۔ مین بلڈنگ کے ٹاؤرز […]

والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]

سیدو ہسپتال کی ابتر صورتِ حال اور سنہرا ماضی

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی صفائی کے بارے میں ’’سوات نامہ‘‘ (فیس بُک صفحہ) کی ایک پوسٹ پڑھی، بہت افسوس ہوا۔ مَیں صرف ایک بار اس دیو ہیکل عمارت میں گیا تھا کسی کی عیادت کے لیے…… مگر لفٹ کی مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے لابی میں بیٹھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ صفائی […]

ماضی کے جہانزیب کالج کے جوشیلے طلبہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج میں صرف اُس وقت کے صوبہ سرحد (اَب خیبر پختونخوا) نہیں، بل کہ پنجاب تک سے لڑکے پڑھنے آتے تھے۔ پنجاب سے آئے ہوئے لڑکے اکثر بہت ذہین اور چالاک ہوتے تھے۔ یہ لڑکے دوسرے طلبہ سے الگ تلگ رہتے تھے اور اکٹھے پھرتے تھے۔ بعض کے سواتیوں سے اور […]

دریائے سوات اور کرش مافیا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کل جو اہم موضوع زیرِ بحث ہے، وہ ہے کرش مافیا اور دریائے سوات۔آخر یہ مسئلہ پیدا کیسے ہوا؟جس رفتار سے سوات میں تعمیرات بڑھ رہی ہیں۔ عظیم الجثہ کئی منزلہ پلازے، ٹاؤن شپ اور ہوٹل تعمیر ہورہے ہیں، اور جس طرح نقل و حمل کے لیے شاہ راہیں تعمیر ہورہی ہیں، اُن کے […]

جب تنخواہ کم تھی اور اطمینان زیادہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بُو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا۔یہ دراصل میری ملازمت کے ابتدائی برسوں کی […]

نسوار سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

چلیں، آج اس گھمبیر ماحول میں کچھ ہلکی پھلکی بات کی جائے۔نسوار کی برکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر وقت میں ناممکن ہے کہ اُن کا احاطہ ہوسکے۔ ہمارے سیدو شریف میں سیدو بابا مسجد کے پہلو میں ایک سپر سٹور تھا (شاید اب بھی ہو)، اُس کی ابتدا نسوار ہی سے ہوئی تھی۔ […]

ریاست سوات: فوج کی درجہ بندی

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وقت گزرنے کے ساتھ، نئی نسل کا سابق ریاستِ سوات کی یادوں کے ساتھ تعلق بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان نسل ریاست کے نظامِ حکومت، عدلیہ کے نظام، تعلیم اور صحت کے شعبوں اور […]

ہمارا بچپن

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ہمارے بچپن کے افسر آباد میں مختلف طبقات کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بالکل "Harmonious” بستی تھی۔ ایک بات جو اُن دنوں کی مجھے یاد ہے۔ ہم اپنے کھیلوں میں حقیقت سے زیادہ "Phantasies” کے رنگ بھرتے اور خود کو یقین دلاتے کہ ہاں ایسا ہی ہورہا ہے، جیسا ہم دیکھنا یا دکھانا چاہ […]

ریاست سوات کی سند ملکانہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

گذشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر سابقہ ریاستِ سوات کے دور میں حکم ران کے دستخطوں سے جاری شدہ اُن سندات کو شیئر کیا جا رہا ہے، جن میں کسی بھی علاقے کے صاحبِ جائداد شخص کو اپنی زمینوں (دفتر) اور مزارع (فقیروں) کا ملک مقرر کرنے کا ذکر ہوتا ہے اور بس۔ ان […]

مولوی صاحب، گدھا اور ہجوم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے۔ ان کا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہ تھا اور گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا ۔اُسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا۔ اُس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ […]

سیدو شریف قبرستان: سلگتا مسئلہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جیسا کہ سب متعلقہ متاثرین جانتے ہیں کہ سیدو شریف کے باسیوں کا "Burning issue” قبرستان کے لیے زمین کی تخصیص ہے۔ اس کے پُرامن حل کے امکانات دن بہ دن موہوم ہوتے جارہے ہیں اور خدا نہ خواستہ اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا، تو "Law and Order” کی صورتِ حال بگڑ […]

ریاستِ سوات کا جھنڈا اور ترانہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

دوستو! آپ سب ریاستِ سوات کے جھنڈے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اسے والئی سوات کی رہایش گاہ پر ہر صبح لہرایا جاتا اور غروبِ آفتاب کے بعد اُتار لیا جاتا۔ اس کے سکولوں میں 12 دسمبر اور 5 جون کو بھی ’’فلیگ ماسٹ‘‘ پر چڑھایا جاتا تھا۔ریاستِ سوات ایک شاہی ریاست تھی۔ یہ […]

ڈاکٹر لوکا اور جانو جرمن

Blogger Fazal Raziq Shahaab

1964ء کی بات ہے، ہم مختلف سائٹس کا انسپکشن کرتے کرتے میاندم پہنچ گئے۔ وہاں کے ریاستی گیسٹ ہاؤسز میں جو بڑا اور وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ہے، وہاں پر ہم نے پڑاو ڈالا۔ ایک درخت کی شاخ سے ذبح شدہ دُنبہ لٹکا کر کچھ ساتھی اس کا کوٹ اُتارنے لگے۔ کچھ مسالہ جات […]

ریڈیو سے جڑی ہماری یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab Swat

کبھی کبھی بڑھتی ہوئی ایجادات کا طوفان انسان کو ماضی کی طرف حسرت سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے ۔موبائل نٹ ورک نے تو انسان کو بالکل جکڑ لیا ہے ۔ مجھے تو یاد نہیں رہا کہ آخری بار مَیں نے کب ٹی وی چلاکر دیکھا ہے ۔ خبریں بھی یوٹیوب پر دیکھتے ، پڑھتے […]

سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]

باچا صاحب کے ساتھ جڑی ایک یاد

Blogger Fazal Raziq Shahaab

حکومتِ خداداد یوسف زئی ریاستِ سوات و متعلقات کے بانی میاں گل عبدالودود معروف بہ باچا صاحب میانگل عبدالخالق کے بیٹے اور اخوند آف سوات عبدالغفور الملقب بہ سیدو بابا کے پوتے تھے۔ یہاں پر ہم سوات کی تاریخ نہیں دہراتے۔ صرف اُن کے بارے میں چند ایسے واقعات کا ذکر مقصود ہے، جو میری […]

عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج سے وابستہ یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

پچھلے ہفتے جہانزیب کالج کے کچھ طلبہ کے ساتھ ایک بہت ہی مفید نشست رہی۔ مَیں اُن پیارے بچوں کا از حد ممنون ہوں، جنھوں نے نہایت تحمل سے مجھے سنا اور میری ثقلِ سماعت سے درگزر کرتے رہے۔ گفت گو کے اختتام پر اُن کے چند مختصر سوالات پر بحث سمیٹتے ہوئے میری توجہ […]