ہم جو بھی کام کرتے ہیں، ہمارے ذہن کی ظاہری سطح پر اُس کی گرفت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو ہم اپنا دماغ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا شعور بھی اُسی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اس شعور کے باطن میں کچھ نظریات، کچھ خیالات موجود ہوتے ہیں جس کو تحت الشعور کہا جاتا ہے۔ جیسے کل رات ہم نے کیا کھایا تھا، ہمارے گھر کا ایڈریس کیا ہے…… وغیرہ۔ اُن کو یاد کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔
ابو جون رضا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/raza/
’’سگمنڈ فرائڈ‘‘ (Sigmund Freud) کے مطابق شعور اور تحت الشعور کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ دماغ کا ایک اور حصہ ہے جو لاشعور کہلاتا ہے۔ یہ بہت طاقت ور اور کسی سمندر کے اوپری حصے سے نکلی چٹان کے مانند ہوتا ہے، جس کا نچلا حصہ اصل میں ایک پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔
اس کی مثال ایک گودام کی طرح ہے، جس میں ہم اپنی یادداشتیں، پرانی باتیں، خیالات وغیرہ کو پھینکتے رہتے ہیں۔
وہ افکار اور وہ خیالات جن کا تجربہ ہم نے کبھی کیا، یا پھر جن کو انجام دینے کی خواہش ہمارے ذہن میں ہوتی ہے، اسی لاشعور میں موجود ہوتے ہیں۔ اُلجھی ہوئی سوچ، ناتمام خواہشات…… سب یہاں موجود ہوتی ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ شعور کو اُن کی خبر نہیں ہوتی، مگر ہماری سوچ اور فکر پر اُن کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔
اس لاشعور تک خواہشات اور ناآسودہ جذبات کے پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔
٭ ایک طریقہ ، شعور سے گزر کر لاشعور تک پہنچنا ہے …… یعنی ماضی کے تجربات ایک یاد کے طور اس گودام میں پہنچ جاتے ہیں۔
٭ دوسرا طریقہ، زبردستی دھکیلی گئی سوچ اور جذبات ہیں۔
لاشعور میں پائے جانے والے ایسے جذبات اور احساسات جن کو وقتی طور پر دبا دیا گیا تھا، بعض اوقات اُبھر کر شعوری حصے تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے، تو انسان غیر معقول طریقے سے مختلف کام انجام دینے لگتا ہے۔ مثلاً: بعض رسومات کا بہت زیادہ اہتمام کرنے لگے گا، یا فضول میں ڈرنے لگے گا، یا پھر بیٹھے بیٹھے کوئی حرکت انجام دیتا ہے، جو لوگوں کو بہت عجیب محسوس ہوتی ہے۔
اس طرح کے مریضوں کا ادویہ سے علاج مشکل سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے ماہرِ نفسیات ’’تحلیلِ نفسی‘‘ کا طریقۂ کار تجویز کرتے ہیں۔
تحلیلِ نفسی کا ماہر ہی دبے ہوئے افکار کو شعور کے درجے تک لاسکتا ہے، جہاں جذبات اپنا اظہار کرسکیں۔
بیان نہ کیے گئے جذبات کبھی نہیں مرتے۔ وہ زندہ درگور ہوجاتے ہیں اور بعد میں زیادہ بدنما طریقوں سے سامنے آتے رہتے ہیں۔
فرائڈ خوابوں کو خواہشات کی تکمیل کرنے والا کہتے ہیں۔ یہ طاقت ور انسانی ضروریات سے متاثرہ ذہنی حالتوں کا نام ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ہم اور ہمارے خواب  
سگمنڈ فرائیڈ کی ایک لازوال کتاب کا جائزہ  
انسان ان خواہشات کو جو فوری اپنی تکمیل چاہتی ہیں، حالات اور وقت کی مناسبت سے دبالیتا ہے…… یعنی شعور سے لاشعور میں دھکیل دیتا ہے۔ یہ دبی ہوئی خواہشیں شعور کے کم زور پڑنے کی منتظر ہوتی ہیں۔ انسان جب سوجاتا ہے، تو یہ (خواہشیں) خوابوں کی شکل میں دوبارہ سامنے آجاتی ہیں۔
فرائڈ نے اپنی کتاب "The Interpretation of Dreams” میں اس حوالے سے کافی مثالیں پیش کی ہیں کہ خوابوں میں انسان کی حقیقی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کس طرح سے دوبارہ مختلف روپ دھار کر سامنے آتے ہیں۔
فرائڈ ایک لڑکے کی تحلیلِ نفسی کرتے ہوئے اس کے خواب بیان کرتا ہے، جو اپنے چچا کے ساتھ شطرنج کا کھیل کھیلتا ہوا خود کو دیکھتا ہے۔ اُس نے شطرنج کی مختلف چالیں دیکھیں، جو مشکل تھیں۔ اُس کے بعد اُس نے چیکر بورڈ پر ایک خنجر پڑا ہوا دیکھا، جو اُس کے والد کا تھا…… لیکن اُس کے خواب میں وہ چیکر بورڈ پر رکھا ہوا تھا۔ چیکر بورڈ پر ایک درانتی بھی پڑی تھی۔
فرائڈ کے مطابق ناسازگار خاندانی حالات نے 14 سالہ لڑکے کو پُرجوش اور بے چین کر دیا تھا۔ یہاں ایک سخت مزاج باپ کا معاملہ تھا، جو لڑکے کی ماں کے ساتھ ناخوش رہتا تھا…… اور جس کے تربیتی طریقے دھمکیوں پر مشتمل تھے۔ اُس نے اپنی شریف اور نازک بیوی کو طلاق دے دی تھی اور دوبارہ شادی کرلی تھی۔ ایک دن وہ ایک نوجوان عورت کو لڑکے کی نئی ماں کے طور پر اپنے گھر لے آیا۔ یہ اُس کے والد کے خلاف دبا ہوا غصہ تھا، جس نے اُن خوابوں کو قابلِ فہم اشارے میں جوڑ دیا تھا۔
’’ہنری برگساں‘‘ (Henri Bergson) کے نزدیک فرد جو کچھ سیکھتا ہے، وہ یاد رکھتا ہے، بھولتا نہیں۔ تاہم بیداری کے وقت شعوری قوتیں اُنھیں دبائے رکھتی ہیں…… اور جب شعوری قوتیں سوجاتی ہیں، تو یادداشت پر مبنی خیالات اور تصورات جیل کے قیدیوں کی مانند جیل سے بھاگ نکلتے ہیں، اور ذہن میں ایک طوفان برپا کردیتے ہیں…… یہی خواب ہیں۔
بعض لوگ خوابوں کو روحوں سے جوڑ دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مردے خواب میں آکر مختلف اشارے دے جاتے ہیں، یا اُن کے کسی عمل سے خوش یا غمگین ہوتے ہیں…… جب کہ یہی لوگ جب زندہ لوگوں کو خواب میں دیکھتے ہیں، تو بیدار ہوکر اُن لوگوں سے نہیں پوچھتے کہ کیا کل رات آپ ہمارے خواب میں آئے تھے؟
ارسطو (Aristotle) کے مطابق خواب کوئی روحانی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی معاملہ ہے۔ وہ روح کے خوابوں کے ساتھ کسی تعلق کا قائل نہیں اور نہ ہی وہ اُنھیں مستقبل کی اطلاعات کا ذریعہ سمجھتا ہے، بلکہ اُس کے نزدیک خواب، خوابیدہ شخص کی نفسیاتی اور شعوری کارکردگی ہوتی ہے اور اُن سے بعض بیماریوں کی تشخیص بھی کی جاسکتی ہے۔
ارسطو کے نزدیک ’’شریف آدمی وہی کام خوابوں میں کرتے ہیں، جو بدمعاش لوگ دن میں کرتے ہیں۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔