تحریر و تلخیص: اُسامہ رضا
سنہ 1901ء میں پہلی دفعہ منظرِ عام پر آنے والی کتاب ’’سائیکو پیتھالوجی آف ایوری ڈے لائف‘‘ "Psycho- Pathology of Everyday life” اپنی نوعیت کی واحد کتاب تھی۔ فرائیڈ نے اس کتاب میں گفتار و کلام کی غلطیاں بھول جانے کے مسایل اور زبان کے پھسل جانے جیسے اعمال و افعال کی نفسیاتی وضاحت کی۔
فرائیڈ کا ماننا تھا کہ انسانی افکار و اعمال اور رویے زیادہ تر لاشعوری تحریکوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف سائنسی و فلسفیانہ نظریہ یہ تھا کہ ہر چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز یا وجہ ہوتی ہے۔ فرائیڈ نے نفسیاتی امراض کے علاج کے دوران میں اس چیز کا مشاہدہ کیا کہ نفسیاتی امراض دراصل لاشعوری تحریکوں اور خواہشات کے تصادم کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔کتاب سے اقتباس ملاحظہ ہو:
"Certain inadequacies in our psychic performance and certain actions performed apparently unintentionally prove, when methods of psychoanalytical investigation are applied to them, to be well motivated and determined by factors of which the conscious mind is unaware.”
٭ ناموں کا بھول جانا:۔ فرائیڈ ایک دفعہ ٹرین میں سفر کے دوران میں ایک آرٹسٹ سے ملے لیکن بعد میں اس کا نام بھول گئے۔ جب فرائیڈ نے نام کو یاد کرنے کی کوشش کی، تو ایسے الفاظ اس کے ذہن میں آرہے تھے، جو ان خیالات سے جڑے تھے، جو اسے ٹرین میں آرہے تھے…… لیکن ان خیالات کی نیچر ایسی تھی کہ فرائیڈ کسی کے ساتھ انکو شیئر نھیں کرسکتا تھا۔ فرائڈ نے اس کو ’’فرائیڈین سلپ‘‘ کا نام دیا۔
٭ کسی قول یا پڑھی ہوئی چیز کو بھولنا:۔ فرائیڈ نے بھولنے کی ایک اور مثال دی۔ فرائیڈ کسی سے بات کر رہا تھا۔ اس شخص نے ایک قول میں الفاظ کی ترتیب کو تھوڑا غلط ملط کردیا ۔ جب فرائیڈ نے اس بات کی مزید تحقیقات کی کہ اس شخص نے غلطی کیوں کی، تو فرائیڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے موجودہ حالات کے پیشِ نظر یہ قول درست نہیں تھا۔ اور ایک لاشعوری تحریک نے اس کو دبا دیا تھا، اس لیے یاد کرنے پر مکمل یاد نہیں آسکا۔
٭ سکرین میموری :۔ فرائیڈ کے مطابق بعض بچپن اور لڑکپن کی ایسی یادیں ہوتی ہیں جو خود تو بہت اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں، لیکن ان کے ساتھ جڑی کچھ یادیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ سو ایسی میموریز کو سکرین میموری کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے خیال سے دوسری میموری ہمارے ذہن پر عیاں ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
٭ زبان کا پھسل جانا:۔ اکثر و بیشتر ہم کوئی لفظ بولنے کی بجائے کوئی اور لفظ کَہ دیتے ہیں، یا ایسی بات کردیتے ہیں جو ہم کہنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اکثر زبان پھسلنے سے ہم کئی الفاظ غلط یا ایسے کَہ دیتے ہیں جو ہم کہنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ فرائیڈ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھی لاشعوری تحریکیں ہوتی ہیں۔ زبان کا پھسلنا کوئی حادثہ نہیں، لاشعوری عوامل کا فعل ہے۔
٭ لکھتے اور پڑھتے وقت کی فرائیڈین سلپ :۔ شاعری، تحریر نویسی یا قصہ گوئی میں اکثر جو ہمارے شعور میں نہیں ہوتا وہ ہم لکھنا شروع کردیتے ہیں اور اچانک ہمارے ذہن پر کئی خیالات اترنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کئی دفعہ ایسی بات سرزد ہوجاتی ہے، جس کا ہمیں فہم و ادراک بھی نہیں ہوتا، لیکن فرائیڈ کے مطابق یہ ہمارے لاشعور کا کمال ہوتا ہے جو ہماری آرٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات پڑھتے وقت زبان کا پھسلنا یا کسی چیز کو غلط پڑھنا حتیٰ کہ آپ اس کو پڑھنا جانتے بھی ہوں، یہ بھی لاشعوری تحریکوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال فرائیڈ پھر اپنے ذاتی تجربے سے دیتا ہے، جب اس نے بینک سے تین سو ڈالر نکلوانے کی بجائے 438 ڈالر نکلوا لیے، جب کہ اکاؤنٹ میں رقم 4380 ڈالر تھی۔ اس کے نفسیاتی تجزیے کے بعد یہ سامنے آیا کہ اس کا سامنا ایک بک سیلر سے ہوا تھا، جہاں سے اس کو کتابیں خریدنی تھیں، لیکن وہ کتابیں لینا بھول گیا۔
٭ فیصلہ سازی:۔ لاشعوری تحریکوں کی بات یہی ختم نہیں ہوتی۔ فرائیڈ کے مطابق معمولی سے معمولی فیصلہ، کوئی نمبر سلیکٹ کرنا، کسی رنگ کا انتخاب کرنا بھی لاشعوری تحریکوں کے تحت ہوتا ہے۔ ہمارے اکثر فیصلے اکثر شوق و ذوق ہماری لاشعوری تحریکوں کے تحت ہوتے ہیں اور لاشعور کا ارتقا وراثتی عوامل اور بچپن سے لے کر جوانی تک کے تجربات سے زیادہ تر طے ہوگیا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے اندر لاشعوری طور پر اندھیرے کا خوف اس لیے ہے کہ ہمارے کلچر میں تقریباً ہمارے نانا نانی یا دادا دادی حتی کے والدین بھی ہمیں بچپن میں ڈراؤنی کہانیاں سناتے ہیں۔ سو لاشعوری طور پر ہمارے اندر وہ خوف اور وہ غیر حقیقت، حقیقت بنائے بیٹھ جاتی ہے ۔ فرائیڈ لکھتے ہیں:
In fact I believe that a large part of any mythological view of the world, extending a long way even into the most modern forms of religion, is nothing but psychology projected into the outside world.
اس لیے عمومی طور پر جب ہم کسی سنسان اور اندھیری جگہ سے گزرتے ہیں، تو لاشعور دبے ہوئے تجربات کے تحت خوف زدہ ہوجاتا ہے۔اندھیرے سے ڈرنا ہمارے ارتقائی سفر کی کہانی ہے۔ جب انسان جنگلوں میں رہا کرتے تھے، سو یہ خوف انسانوں کی مجموعی لاشعور کا ورثہ ہے اور بعدازاں اس سے تقریباً ہر تہذیب نے بھوت پریت کی کہانیوں کو جوڑ لیا۔
٭ غلطیوں کا سرزد ہوجانا:۔ بولتے ہوئے یا لکھتے ہوئے اکثر سپیلنگ کی یا بول چال میں جو غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، ان کا ایک بڑا حصہ لاشعوری عوامل طے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی لوگ یا طالب علم جن کو کسی لفظ کی سپیلنگ بالکل ٹھیک بھی آتے ہوں، لیکن وہ اسے غلط لکھ آتے ہیں…… جس کی وجہ کوئی نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے، یعنی لاشعور میں ڈھکا چھپا اور دبا ایسا جذبہ یا تجربہ ہوتا ہے جو ہمارے بظاہر نظر آنے والے افعال و اعمال کو طے کررہا ہوتا ہے۔ کتاب سے ایک مختصر اقتباس ملاحظہ ہو:
Once again, a mistake passed unnoticed as the substitute for intentional omission or repression.
اسی طرح فرائیڈ ایک کیس ہسٹری کا ذکر کرتے ہیں جس میں ایک خاتون جس کی شادی طے ہونے والی تھی، اس نے شادی کے کارڈز پر تاریخ کو غلط لکھوا دیا۔ بعدازاں اس کے نفسیاتی تجزیے سے علم ہوا کہ وہ دراصل پسند کی شادی کر رہی تھی اور اس کے اندر شادی کرنے کا ایک ولولہ اور جوش تھا، جس بنا پر اس نے شادی کی تاریخ طے کی گئی تاریخ سے پہلے لکھوا دی ۔ فرائیڈ نے اسی طرح اپنی مثال سے بھی اس بات کی وضاحت کی کہ جب وہ جھوٹ بولنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ان سے بولتے ہوئے کوئی غلطی یا پھر ان کی زبان پھسل جاتی ہے۔
In general, it is surprising to find that our compulsion to tell the truth is so much stronger than is usually thought. It may be a result of my study of psychoanalysis, but I now find it very difficult to lie. Whenever I try to be evasive, I make a mistake or some other slip that gives away my devious intentions, as in this and the previous examples.
جس شخص کا ضمیر (سپر ایغو) اس کو ہمیشہ سچ بولنے پر زور دیتا ہے اور وہ بہت مضبوط ہو وہ جب بھی جھوٹ بولنے لگے گا۔ اس کے اندر کئی بدلاو آئیں گے۔ عین ممکن ہے کہ وہ اٹک اٹک کر بات کرے یا بات کرتے ہوئے کوئی لفظ غلط ادا کردے۔ فرائیڈ اس چیز کی وضاحت اپنی مثال سے ایسے کرتے ہیں
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔