وطنِ عزیز میں اس وقت الیکشن کی آمد آمد ہے۔ ساری سیاسی جماعتیں اپنی اپنی صف بندی میں مصروف ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے مشکل مراحل درپیش ہیں، جن سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں۔ کیوں کہ انتخابات میں الیکٹ ایبلز کی در اندازی سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ سیاسی کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور دھن دولت والے ٹکٹ کے حق دار ٹھہر پاتے ہیں۔ یہ کسی ایک جماعت کا المیہ نہیں، بلکہ یہ ساری سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ہے۔ ابھی حال ہی میں بلوچستان کے اندر اسی کھیل کو دہرایا گیا ہے۔
طارق حسین بٹ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/butt/
الیکٹ ایبلز کی پارٹی میں شمولیت کسی معرکہ سے کم نہیں گردانی جاتی۔ الیکٹ ایبلز جس جماعت میں شامل ہوتے ہیں، اس کے قائدین کی گردن فخر سے تن جاتی ہے کہ اُنھوں نے مخصوص صوبے میں اپنی جماعت کو مضبوط کرلیا۔ جہاں معیار الیکٹ ایبلز کا حصول ہو، وہاں پر جمہوری اقدار کا رونا رونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ در اصل پاکستانی سیاست دھن دولت، وڈیروں، جاگیر داروں، صنعت کاروں اور سرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ لہٰذا تگڑے خاندانوں کے سامنے ساری جماعتیں سرِ تسلیم خم کر دیتی ہیں۔ سیاسی کارکن جیلیں اور سزائیں بھگتے ر ہتے ہیں، جب کہ اقتدار کی راہ داریاں دھن دولت والوں کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت چوں کہ چند خاندانوں کی حاکمیت کا نام ہے، لہٰذا وہی چند خاندان اس ملک پر جمہور کے نام پر حکومت کرتے ہیں۔ انتخابات محض اُنھیں اقتدار سونپنے کا ایک زینہ قرار پاتے ہیں۔ ڈیل ہوتی ہے اور معاملات انتخابی عمل سے پہلے ہی طے پا جا تے ہیں۔ کون سارے معا ملات کا فیصلہ کرتا ہے؟ یہ اب راز نہیں رہا۔
ابھی ایک جماعت کے قاید، جو لندن سے تشریف لائے ہیں، مجرم ہونے کے باوجود سارے پروٹوکول کے حق دار بنے ہوئے ہیں۔ عدالت سے سزا پانے والا انسان میڈیکل بنیادوں پر جیل کی کال کوٹھری سے لندن سدھارا۔ حالاں کہ عدالتی دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ سزا کا مطلب سزا ہے اور کسی بھی مجرم کو وہ سزا اپنے ملک میں ہی کاٹنی ہوتی ہے۔ ملک کے ہسپتال اور میڈیکل ادارے مجرم کو ہسپتال میں ساری سہولیات تو دے سکتے ہیں، لیکن اُسے ملک سے باہر بھیج نہیں سکتے۔ کیوں کہ قانون میں اس چیز کی کوئی گنجایش نہیں، لیکن وہ لوگ جو اس ملک کی فائنل اتھارٹی ہیں…… جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتے ہیں، تو پھر ویسا ہی ہوتا ہے۔ قانون اُن کے ہاتھ کی چھڑی ہوتا ہے، جسے وہ جیسے چاہیں اور جب چاہیں گھماسکتے ہیں۔ وہ (نعوذ باللہ) ’’کن فیکون‘‘ کا عملی پیکر بن جاتے ہیں اور ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔
5 سالوں تک تو پلیٹ لیٹس والے مریض کو ملک میں لوٹنے کی ہمت نہ ہوئی۔ حالاں کہ 16 ماہ اس کے اپنے بھائی کی حکومت تھی اور اس حکومت میں واپسی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جنرل ضیا کے پاکستانی سیاست پر اثرات  
پارٹ کارکن سیاست کا ایندھن 
غیر منطقی طور پر سیاست زدہ معاشرہ  
سیاست دانوں کو بدنام کرنا مسئلے کا حل نہیں 
مخاصمت کی سیاست میں کسی کا بھلا نہیں 
آصف علی زرداری نے بھی کئی دفعہ جَلا وطن ہونے والے سے درخواست کی کہ سیاسی عمل کی تقویت کے لیے وطن واپسی کی راہ لی جائے، تاکہ ملک کے اندر جمہوری اقدار کو مضبوط کیا جائے، لیکن چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خوف کے سامنے واپسی کی ہمت نہ ہوئی، لیکن جیسے ہی افقِ عدالت پر نئے ستارے جلوہ گر ہوئے، پلیٹ لیٹس والے نے ملک واپسی کا اعلان کر دیا اور پھر ریاستی پروٹوکول کا وہ نظارہ دیکھنا نصیب ہوا جس سے تاحال نگاہیں محروم تھیں۔ ریاستی سر پرستی میں ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت سب کچھ انجام پا رہا ہے۔لوگ عدلیہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ تو کب کی ڈھیر ہوچکی۔ قاضی فائز عیسیٰ کی نظروں کے سامنے سارا تماشا لگا ہوا ہے، لیکن وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں۔
ایک عام شہری جو کچھ دیکھ رہا ہے، عدلیہ کے بلندو بالا نا خدا شاید وہ سب کچھ دیکھنے سے قاصر ہیں۔ کیا اُن کی نظر کم زور ہے، یا پھر اُنھوں نے ایسے سیاہ چشمے آنکھوں پر سجا رکھے ہیں، جن میں سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک مجرم ساری دنیا کے سامنے خود کو یوں بے گناہ ثابت کر رہا ہے جیسے اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔
نیب جس نے العزیزیہ کیس میں تفویض کردہ سزا میں اضافہ کی اپیل دائرکر رکھی تھی، ریت کی دیوار ثابت ہو ئی۔ آج منی ٹریل کا بنیادی سوال کسی نے پوچھنے کی جرات نہیں کی اور آمدنی سے زاید اثاثوں کا معاملہ نگاہوں سے اوجھل کر دیا گیا۔ عدالتیں یوں ریلیف نچھاور کر رہی ہیں جیسے کسی مقدمہ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ حالاں کہ اُنھی مقدمات میں سابق وزیرِ اعظم نے 100 سے زیادہ پیشیاں بھگتی تھیں اور پھر ایون فیلڈ کے محل خود اپنی زبان سے اپنے وجود کی حیرت انگیز داستان بیان کر رہے ہیں۔
یہ تو تصویر کا ایک پہلو ہے جب کہ اس کا ایک دوسرا پہلو ہے جو عوام کے اندر غم و غصہ کو ہوا دے رہا ہے اور وہ یک طرفہ ٹریفک کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بے بسی کی تصویر بنے عوام کھلی جانب داری کو انصاف کا قتل سمجھ کر اس کو قبول کرنے سے باغی ہیں۔ وہ انصاف کا احیا چاہتے ہیں اور میزان کے پلڑے مساوی رکھنے کے آرزو مند ہیں۔
انتخابات سے قبل کسی فرد کو وزیرِ اعظم کا پروٹوکول عطا کرنا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے، جسے عوام کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ساری سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلینگ فیلڈ کے متمنی ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کے لیے پولیس اور ریاستی ادارے سہولت کاری کے فرائض سر انجام دیں، جب کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے گرفتاریاں اور جیلیں ہوں۔
بقولِ شاعر
دفتروں پر لگے ہیں تالے
لوگوں کو ہیں جان کے لالے
ایسے گندے اور سیاہ ہتھکنڈے
ہم سب کے ہیں دیکھے بھالے
9 مئی کا واقعہ انتہائی شرم ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس میں ملوث افراد کو عبرت ناک سزائیں ملنی چاہئیں۔ کیوں کہ وہ ریاستی اداروں پر حملوں کے ذمے دار تھے۔ وہ ادارہ جو پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کا ضامن ہے، اُس کا احترام اور اُس سے محبت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ جو لوگ اس مکروہ فعل کے مرتکب ہیں، اُن کو سزائیں دینا بنتا ہے…… لیکن وہ لوگ جن کا اس عمل سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں، اُن کی گرفتاری سمجھ سے بالا تر ہے۔
ملک کو ٹکراو کی نہیں، مفاہمت کی ضروت ہے۔ جس کو لاڈلا بنانا مقصود ہے، اُسے لاڈلا ضرور بنائیے، لیکن بے گناہوں کو زِندانوں کے حوالے مت کریں کہ اس سے سارا جمہوری عمل متاثر ہو جائے گا اور انتخابات متنازعہ ہوجائیں گے۔ انتشار شدہ اور تباہ حال معیشت میں اگر انتخاباتی عمل متنازع گیا، تو پھر سیاسی استحکام معدوم ہو جائے گا، جس سے معیشت مزید ابتری کا شکار ہو جائے گی۔
ہر محبِ وطن کا مطمحِ نظر پاکستان کی ترقی اور خوش حالی ہے، لیکن کیا یہ ہدف کسی ایک جانب کھلے جھکاو سے سر انجام پائے گا……؟ بالکل نہیں! کیوں کہ جانب داری ہمیشہ ناانصافی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور لوگ ناانصافی کو سخت ناپسند نہیں کرتے۔
پاکستان میں لاڈلوں کی اپنی تاریخ ہے، جس سے کسی کو انکار نہیں، لیکن لاڈ؛وں کی خوش نودی کی خاطر دوسروں کو بلاوجہ جیلوں میں ٹھونسنے کا کوئی جواز نہیں۔ پہلے بھی خاموش انداز میں سہولت کاری ہوتی تھی۔لاڈلی سیاسی جماعت کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد ہو، جونیجو لیگ ہو، ق لیگ ہو، ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی ہو…… ان سب کے لیے ایک مخصوص ڈھنگ سے انتخابات میں جیت کا راستہ تراشا جاتا تھا، لیکن اب تو ہر ضابطہ کو پسِ پشت ڈال کر لاڈلے کی دل جوئی کی جا رہی ہے، لیکن تصویر پھر بھی رنگوں سے عاری ہوتی جا رہی ہے۔
بقولِ حسرت موہانی
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
فیصلے کی گھڑی سر پر کھڑی ہے۔ لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ’’لاڈلا ازم‘‘ کو بہ زور نافذ کریں گے یا پھر جمہوری اقدار کو اپنا قبلہ بنائیں گے؟ ملکی سلامتی کا تقاضا تویہی ہے کہ ملک کے اصل وارثین کو یہ حق تفویض کیا جائے کہ وہ اپنے منتخب نمایندوں کے ذریعے امورِ مملکت سر انجام دیں۔ اگر اس سوچ میں رخنہ اندازی کی گئی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اب بھی وقت ہے…… سوچ لو، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔