معتوب پارٹی کا سربراہ آج کل جیل میں ہے، مگر عوام…… خاص کر نوجوانوں سے پوچھا جائے، تو وہ لوگ بھی اس کے گرویدہ ہوتے جارہے ہیں جنھوں نے کبھی اس پارٹی کو ووٹ دیا ہی نہیں تھا۔
مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ اصل وجہ پارٹی سربراہ کا جیل میں ہونا ہے اور اس کی جراتِ گفتا رسے متاثر ہونا ہے، یا ملکی اداروں کی بے جا مداخلت سے عاجز آنا ہے؟
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
وجہ جو بھی ہو، یہ بات ماننی پڑے گی کہ آج بھی ملک بھر میں مقبول ترین پارٹی وہی ہے جو آج کل معتوب ٹھہرا دی گئی ہے۔
مخالفین کا ڈر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لاہور میں قید خواتین میں جس کو بھی عدالت سے ضمانت ملتی ہے، رہا ہوتے ہی کسی اور مقدمے میں دھر لی جاتی ہے…… لیکن اس عمل کا کبھی خاتمہ بھی تو ہوگا۔ اور خاتمہ دو ہی صورتوں میں ممکن ہے۔ یا تو عمر بھر کی قید ہوجائے، یا چند سال……! ہر دو صورتوں میں ان سب قیدیوں کو باہر تو آنا ہی ہے۔ یہ لوگ جب عقوبت خانوں سے نکلیں گے، تو کیا خیال ہے کہ ان کے دلوں میں نفرت کا لاوا کس درجے پر پکا ہوا ہوگا؟
اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ آپ ملک بھر میں کہیں بھی گھوم پھر کر کسی سے بھی پوچھ لیں۔
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
جب خلافِ توقع سیاسی کارکنان نے جیلوں میں استقامت دکھائی اور ناروا ریاستی دباو کے باجود اکثریت نے پارٹی کو نہیں چھوڑا، تو حسبِ سابق معتوب پارٹی کے سربراہ کو معطون بنانے کے لیے عجیب حربوں کے استعمال کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس میں مختلف لوگوں کے دباو میں آکر انٹرویوز سے لے کر اب ایک اور کتاب تک کی کہانیاں شامل ہیں۔
سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے لیے غداری، کرپشن اور نجی زندگی کی کہانیوں کو طشت از بام کرنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ایک آمرِ وقت نے اپنی سیاسی مخالف امیدوار فاطمہ جناح جو بابائے قوم کی بہن تھیں، کو ’’بھارتی جاسوس‘‘ قرار دیا تھا۔ باچا خان اور اکبر بگٹی سمیت کتنے ہی ایسے راہ نما گزرے ہیں، جنھیں سیاسی بنیادوں پر غدار قرار دیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کو ریاست نے سیکورٹی رسک کہا تھا اور سیاسی مخالفین نے موصوفہ کے قابلِ اعتراض تصاویر بھی عام کی تھیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ زرداری، نواز شریف، بلاول اور مریم صفدر کی کردار کُشی کو سیاسی مخالفین نے اپنا سیاسی نعرہ بنایا تھا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
مائنس ون فارمولا سیاست سے مائنس کیا جانا چاہیے 
انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضا 
ڈراما نیا مگر سکرپٹ پرانا ہے 
فیض آباد دھرنا کیس، سپریم کورٹ کے نِکات پر عمل درآمد نہ ہوسکا  
ان معاملات میں بھی مگر معتوب پارٹی کے سربراہ کو پھر بھی امتیازی حیثیت دی گئی، سیتا وائٹ سے لے کر قندیل بلوچ تک، عائشہ گلالئی سے ریحام خان تک، عائلہ ملک سے خاور مانیکا اور اب ہاجرہ پانیزئی تک کتنے لوگوں کی باتوں اور اداؤں کو سامنے لایا گیا…… اور کتنے ابھی قطار میں ہیں، جن کی باتوں اور اداؤں کو اس لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ ایک پابندِ سلاسل سیاست دان کو مزید بدنام کیا جاسکے۔
مجھے ذاتی طور پر کسی بھی سیاست دان کی ذات سے محبت ہے نہ نفرت۔ بطورِ قلم کار کسی سیاسی پارٹی سے نظریاتی تعلق اور تعصب بھی نہیں…… لیکن بطورِ ایک عام پاکستانی میرا یہ حق ہے کہ اس پر بات کی جائے کہ آخر سیاست دانوں کو بدنام کرنے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کب ختم ہوگا؟
چلو مان لیتے ہیں کہ سیاست دان مالی یا اخلاقی بدعنوان ہیں…… مگر حضور! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ آپ کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ کبھی ایک سیاست دان کو ہیرو بنائیں، اور کبھی دوسرے کو……! یہ حق تو عوام کا ہے کہ ووٹ کے ذریعے اپنے حکم ران کا انتخاب کریں…… اور اگر حکم ران کسی بھی حوالے سے کرپٹ نکلے، تو اگلی دفعہ ووٹ ہی کے ذریعے اس کا احتساب کریں۔
جمہوریت ایک چھلنی ہے اور اگر چلتی رہی، تو ناممکن نہیں کہ ہر قسم کے کرپٹ سیاست دانوں پر ایوان کے دروازے بند ہو جائیں گے، لیکن اگر جمہوریت کو چلنے ہی نہیں دیا جاتا، تو پھر یہ ہوگا کہ آپ کو اپنا غلط، درست ثابت کرنے کے لیے ایسے حربوں کا سہارا لینا پڑے گا، جو آج کل تواتر سے استعمال ہورہے ہیں…… لیکن یہ بات یاد رہے کہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے، تو اس کی عادت سی ہوجاتی ہے۔
اس طرح گذشتہ دس سال کی پاکستانی سیاست میں اب فتوؤں اور نجی زندگی کی کہانیوں کا سامنے آنا اب ایک معمول سا سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کو بروئے کار لاکے کسی سیاست دان کو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ سیاست کا دروازہ ہی بند کیا جاسکتا ہے۔
سوال بنیادی یہ ہے کہ ان حربوں سے لوگ سیاست سے پہلے بدظن ہوئے تھے کہ اب ہوں گے؟ اگر اس سوال کا جواب چاہیے، تو ایک بار ہی سہی صاف اور شفاف انتخابات ہونے دیں، عوام کا جواب آجائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔