کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]
سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]
افسر آباد اور سیدو شریف سے جڑی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری آنکھ 5 اپریل 1943ء کو ایک ایسے گھر میں کھلی جو بڑے بڑے گھروں کی ایک جھرمٹ میں سب سے پہلا مکان تھا۔ مکانوں کے اس مجموعے کو افسر آباد کا نام دیا گیا تھا۔ […]
ریاستِ سوات دور کا ایک افسوس ناک واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں ریاستی نیم مسلح نفری کی ایک مخصوص تعداد تعینات تھی، جو معمول کے مرمت کے کام، جیسے پتھر سے بنی گلیوں اور نالیوں کی مرمت و بہ […]
گوبند رام باپو

محترم گوبند رام باپو مینگورہ شہر کی سماجی شخصیت اور روایتوں کے امین تھے۔باپو ایک زبردست قوم پرست مینگروال، ایک دانش مند مشر، ایک رحم دل، صلح جو اور ایمان دار تاجر اور مصالحتی کمیٹی کے ممبر تھے۔ غیر مسلم سواتی شہری، سوات پر اپنا حق محبت اور عقیدت کے ساتھ جتاتے ہیں۔باپو (یعنی ابا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتیس ویں قسط)

ایک دن میں اپنے دفتر سے واپس اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہو رہا تھا۔ اچانک دیکھا کہ وہ ایک کونے میں، ہاتھوں میں ایک گٹھڑی اٹھائے، کھڑی ہے۔ مَیں نے ہکلا کر پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے اور وہ میرے گھر کو کیسے جانتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پچیس ویں قسط)

کبھی کبھی، مَیں اپنے باس کے رویے سے پریشان ہوجاتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ مجھے مخالف کیمپ میں سمجھا ہے یا اپنی طرف؟ ریاست کے بعض اعلا افسران نے بالواسطہ طور پر اس کا مذاق بھی اڑایا، لیکن مَیں نے ان سازشوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کی۔ […]
سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
ریاستِ سوات کا جھنڈا اور ترانہ

دوستو! آپ سب ریاستِ سوات کے جھنڈے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اسے والئی سوات کی رہایش گاہ پر ہر صبح لہرایا جاتا اور غروبِ آفتاب کے بعد اُتار لیا جاتا۔ اس کے سکولوں میں 12 دسمبر اور 5 جون کو بھی ’’فلیگ ماسٹ‘‘ پر چڑھایا جاتا تھا۔ریاستِ سوات ایک شاہی ریاست تھی۔ یہ […]
القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘، غورہ خیل یوسفزئی چکیسر سابق ریاستِ سوات کے رہایشی تھے۔ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے فلک بوس پہاڑوں کے عقب تک ریاستِ سوات کی حدود پہنچنے لگیں، تو وہاں کے بہادر سپوتوں نے سیدو بابا کے احترام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور اپنی وفاداری پہلے باچا صاحب اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھارھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
کچھ میاں سید بادشاہ کے بارے میں
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
ایڈوکیٹ شمشیر علی خان
ڈاکٹر پیرداد صاحب کی یاد میں