قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

Blogger Sajid Aman

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (پینتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

17 اگست 1969ء کو جناب ہمایون جو اُس وقت پی اے ملاکنڈ ایجنسی تھے، سوات پہنچ گئے اور مقبوضہ ریاست کا چارج سنبھال لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انضمام کا اعلان عجلت میں کیا گیا تھا۔ بغیر اس منصوبہ بندی کے، کہ نیا نظام کیسے متعارف کرایا جائے اور عوام کو تبدیلی کو قبول کرنے […]

آرتھر شوپن ہاور کا قول اور اس کی وضاحت

Blogger Amir Badshah

تحریر: امیر بادشاہدست قول ملاحظہ ہو: ’’زیادہ تر یہ نقصان ہے، جو ہمیں چیزوں کی قدر کے بارے میں سکھاتا ہے!‘‘یہ قول ہمیں آرتھر شوپن ہاور کے ایک گہرے فلسفیانہ مشاہدے سے روشناس کراتا ہے۔شوپن ہاور ایک 19ویں صدی کے جرمن فلسفی تھے، جنھوں نے زندگی کو ایک بے معنی اور تکلیف دِہ جد و […]

امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]

دیر: تحقیق کے لیے کھلا میدان

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’سوات‘‘ ہمیشہ سے تاریخ دانوں، سیاحوں، ماہرینِ بشریات (Social Anthroplogists) اور عُمرانیات کے ماہرین کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے ہمسایہ ریاستِ دیر کی بہ نسبت، سوات ہمیشہ ہر قسم کے حملوں کے […]

شہزادہ اسفندیار: ہیرو، جسے بھلا دیا گیا

Blogger Asim Afandi

جب بھی میں سوات جاتا ہوں اور چکدرہ ملاکنڈ میں دریا کے پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع چرچل پیکٹ کو دیکھتا ہوں، تو یہ مجھے گہرے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ برطانوی سلطنت میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی دھوپ کبھی غروب نہ ہوئی۔ ان […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]

’’پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘

Blogger Tariq Hussain Butt

اس کرہِ ارض پرہر انسان کی پہچان اس کے اعلا و ارفع اوصاف سے ہوتی ہے۔ دیانت و امانت کا وصف وہ گوہرِ نایاب ہے، جو انسان کو عرش تک رسائی کے صلے سے نواز دیتا ہے۔ اگرہم تاریخ کے اوراق کو کھنگالیں، تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرانی ہو تی ہے کہ اہلِ صفا […]

سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]

حالیہ مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟

Blogger Qadar Khan Yousafzai

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان، جو خود کو عوامی سیاست کا علم بردار سمجھتے ہیں، ایک عرصے سے سیاست میں اکیلے قدم رکھے ہوئے ہیں، لیکن جب بات، بات چیت یا مذاکرات کی آتی ہے، تو ان کا موقف ہمیشہ متنازع رہا ہے۔مذاکرات کے حوالے سے عمران خان کا جو کردار اَب تک […]

اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]

میری کہانی، میری زبانی

Blogger Sajid Aman

اپنی پہچان اور شناخت الگ سے بنانا ایک مشکل کام ہے…… اتنا مشکل کہ ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔قارئین! بچپن سے مجھے یاد ہے کہ میں گم شدہ سی شناخت رکھتا تھا۔ سچ پوچھیں، تو ہر جگہ اپنے والد، دادا، چچا اور کئی بار ماموں کی تعریف نے مجھے اذیت میں مبتلا رکھا۔ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (تینتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

نوٹ:۔ آنے والی چند اقساط ریاستِ سوات کے خاتمے اور پاکستان میں انضمام کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ کیوں کہ جنابِ فضلِ رازق شہاب صاحب ان واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا، بلا کم و کاست لکھ دیا۔ ان کی یہ تحاریر ریاستِ سوات کی تاریخ […]

قومی فرانزک ایجنسی کا قیام

Blogger Advocate Muhammad Riaz

رواں ماہ سینٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ’’نیشنل فرانزک ایجنسی ایکٹ، 2024ء‘‘ کی منظوری دے دی۔اس قانون کے مقاصد میں وطنِ عزیز میں ’’نیشنل فرانزک ایجنسی‘‘ کے قیام کی بہ دولت فرانزک صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ موجودہ روایتی فرانزک لیبارٹریوں کو اَپ گریڈ کرنا اور ڈیجیٹل فرانزک لیبارٹریوں کا قیام شامل ہے، جو […]

بونیر میں مہمان نوازی کی روایت

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بنیادی انفراسٹرکچر اور جدید ذرائع آمد و رفت کی ترقی کے ساتھ پختون معاشرت کی ایک اہم روایت، مہمان نوازی، تقریباً قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ اس سے پہلے، کوئی مسافر یا اجنبی جو ’’خچر پگڈنڈیوں‘‘ […]

سید احمد بریلوی کا دورۂ سوات

Blogger Doctor Gohar Ali

سید احمد (شہید) بریلوی (1786ء تا 1831ء) جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہندوستان میں اسلامی اقدار کے احیا کے علم بردار بنے، شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا، میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے مظالم کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم ہوئے۔سید احمد (شہید) […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (بتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

میری زندگی اتنی آسان نہیں تھی، کوئی ہنسی، خوشی کا معاملہ نہیں تھا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ مَیں اپنی کھوپڑی کو اُڑانا چاہتا تھا…… لیکن ’’پروویڈنس‘‘ نے مداخلت کی اور مَیں تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندہ رہا۔ جیسا کہ مَیں نے کہیں ذکر کیا ہے کہ جب پرانے افسر آباد کا زوال […]

پِتے کا آپریشن اور میرا دوسرا جنم

Blogger Niaz Ahmad Khan

17 اکتوبر 2024ء کو لقمان ہسپتال سیدو شریف کے سی ای اُو جواد اقبال کے مشورے پر ڈاکٹر شاہ عباس کے ہاتھوں میرا پِتّے (Gallbladder)، جسے ہم پشتو میں ’’تریخے‘‘ کہتے ہیں، کا کیمرے کے ذریعے آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد مَیں ہسپتال میں داخل تھا۔ رات بھر وہاں رہا۔ دوسرے روز مذکورہ ڈاکٹر نے […]

افسر آباد اور سیدو شریف سے جڑی یادیں

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری آنکھ 5 اپریل 1943ء کو ایک ایسے گھر میں کھلی جو بڑے بڑے گھروں کی ایک جھرمٹ میں سب سے پہلا مکان تھا۔ مکانوں کے اس مجموعے کو افسر آباد کا نام دیا گیا تھا۔ […]

کل ہو نہ ہو (تبصرہ)

Aqila Mansoor Jadoon

تبصرہ: منیر فراز پہلے کی بات اور تھی، جب مَیں نے عقیلہ منصور جدون کے ابتدائی تراجم پڑھے تھے۔ اُس وقت عقیلہ منصور جدون کا تراجم کی صنف میں حرفِ آغاز تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کی طرح ترجمہ کا عمل بھی آزاد فضا میں تکمیل کو پہنچے، تو ہی تخلیق کار کی فطری […]