پاپین خیل میاں گان (چوتھا حصہ)

Blogger Afzal Shah Bacha, Najigram Barikot Swat

شانگلہ، انڈس کوہستان، بحرین اور کالام کا سوات میں انضمام:محمد رسول میاں المعروف رسول خان مشیر صاحب، تاریخِ پیدایش 1906ء، تاریخِ وفات 31 مئی 1958ء:۔ محمد رسول میاں کے اجداد 1623ء میں سیدو شریف، لوئر سوات میں رہایش پذیر تھے۔ جب ڈوما راجگیری کے خلاف جہاد شروع ہوا، تو ان کے جد، اخوند محمد صدیق، موضع لیلونئی، شانگلہ میں […]

پاپین خیل میاں گان (پہلا حصہ)

Blogger Afzal Shah Bacha

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں، قبائل اور خاندان ہمیشہ سے انسانی معاشرے کا حصہ رہے ہیں۔ اسلام نے ان فطری تقسیمات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا مقصد صرف باہمی تعارف قرار دیا ہے، نہ کہ فضیلت، برتری یا تفاخر۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:’’اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد […]

چنار چینہ، ماضی اور حال کے آئینہ میں

Blogger Fazal Manan Bazda

پانی کے بغیر انسان تو کیا… جانور، چرند، پرند اور نباتات کا اس دنیا میں زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’اور ہم نے ہر جان دار کو پانی سے پیدا کیا!‘‘ (سورۃ الانبیاء، آیت نمبر 30) اسی طرح سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے […]

ریاست سوات کا ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

26 نومبر 2025ء کو لفظونہ ڈاٹ کام پر میری تحریر ’’ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کا ایک حصہ ویب سائٹ لنک کے ساتھ برخوردار امجد علی سحاب نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ سرِ دست مذکورہ حصہ ملاحظہ ہو: ’’ڈاکٹر محمد خان دراصل سیدو ہسپتال میں […]

تاریخ کے قاتل……؟

Blogger Fazal Maula Zahid

سوات، جو کبھی امن، علم اور خوش حالی کا گہوارہ تھا، آج شور و غوغا اور بدامنی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وادی اپنے بلند و بالا پہاڑوں کی دل کشی، جنگلات کی شادابی اور دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ ایک درخشاں تہذیب و تمدن کی گواہ رہی ہے…… مگر اب یہ خطہ […]

فضل رازق شہاب: ایک عہد کا نام

Blogger Sajid Aman

قارئین! قومیں بانجھ تب ہوتی ہیں، جب اُن میں علم و فن سے محبت ختم ہوجائے۔ یوں تاریخ سے رغبت معدوم رہتی ہے اور اسلاف کی عظمت کا وزن دل پر نہیں رہتا؛ حال بے حال ہو جاتا ہے اور مستقبل غیر یقینی بن جاتا ہے۔وہ قومیں گم ہو جاتی ہیں، جو صاحبِ علم کی […]

سیلاب، ماضی کے جھروکے سے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مَیں نے دورانِ ملازمت دریائے سوات کے سیلاب کا دو دفعہ عملی مشاہدہ کیا ہے۔ دونوں دفعہ ہم محدود وسائل کے باوجود ’’ایوب برج‘‘ کو بچانے میں کام یاب ہوئے تھے۔ پہلی بار 1985ء میں اور دوسری بار 1987ء میں۔لیکن حالیہ سیلاب کی مچائی ہوئی تباہی کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی…… آخر اس […]

بنڑ سکول کے ساتھ جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک بنڑ ہائی سکول (مینگورہ) کے ارد گرد کا علاقہ بالکل غیر آباد تھا۔ سب سے قریبی، بل کہ بالکل لگی ہوئی عمارت سیٹھ کامران کی جدید ترین محل نما کوٹھی تھی، جو اُن کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اُس وقت مَیں کالج میں پڑھتا تھا۔ کچھ زیادہ […]

گراسی گراؤنڈ، تباہ شدہ تاریخی ورثہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

(نوٹ:۔ یہ تحریر فضل رازق شہابؔ صاحب نے 31جولائی 2022ء کو تحریر کی تھی، جو آج بھی اُن کی فیس بُک وال پر موجود ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سواتیوں کو ابھی تک یہ احساس نہ ہوسکا کہ گراسی گراؤنڈز کے مجوزہ سپورٹس کمپلیکس میں تبدیلی سے اُن کا کتنا تاریخی ورثہ ماضی کے قبرستان میں […]

ایک خرمانی کے بدلے چھے قتل؟

Blogger Sajid Aman

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 مینگورہ سے میرے والد صاحب مجھے اُٹھا کر محتاج ہیڈ ماسٹر (مرحوم) کے سکول بھیجنے لگے۔ ہمارا گھرگل کدہ نمبر 2 میں تھا، جہاں سے نمبر 4 سکول ویسے ہی بہت دور تھا، پھر نمبر 1 سکول اور ڈبل سے بھی زیادہ فاصلے پر…… لیکن ایک تو محتاج ہیڈ ماسٹر […]

ہمارے بچپن کا محرم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

نئے ہجری سال کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ سماجی اقدار میں تبدیلیاں آتی رہیں، اُسی طرح بعض روایاتی تہوار بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے۔ان گم شدہ رسومات میں محرم الحرام کے آغاز سے 10 محرم تک مختلف سرگرمیاں بھی اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں۔ بچپن میں ہم دیکھا […]

سوات اور بدھ مت

Blogger Engineer Miraj Ahmad

سوات کی وادی نہ صرف قدرتی حسن و جمال کا شاہ کار ہے، بل کہ یہ ایک عظیم تاریخی ورثے کی حامل سرزمین بھی ہے، جس نے مختلف تہذیبوں اور مذاہب کو پروان چڑھتے دیکھا ہے۔سوات کی تاریخ میں بدھ مت کا دور ایک سنہری عہد کے طور پر جانا جاتا ہے، جب یہ خطہ […]

ادغام ریاست سوات اور مضحکہ خیز دعوے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جب کبھی اور جس بھی فورم پر ریاست سوات کے ضم ہونے کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے، تو فرضی قیاسات، متبادل اقدامات اور ادغام کو روکنے کے بارے میں اوٹ پٹانگ قسم کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ بعض تبصرے تو اخلاق سے گرے ہوے ہوتے ہیں،مگر زیادہ تر منفی اور مثبت جذبات کے اظہار […]

جہانزیب بٹالین

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ودودیہ ہائی سکول سیدو شریف ریاستی دور کے دوران میں بہت سی کامیابیوں کا چشم دید گواہ رہا ہے۔ اس نے مقامی اور قومی سطح پر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بے مثال ریکارڈ قائم کیے […]

’’انگئی پُل کوٹہ اور دیگر پُل‘‘

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات کے ریاستی دور کا قدیم ترین ’’آرچ برج‘‘ (Arch Bridge) جسے مقامی زبان میں ’’ڈاٹ‘‘ کہتے ہیں، جو مین شاہ راہ "N.95” پر کوٹہ تحصیل بری کوٹ میں واقع تھا، آخرِکار گرا دیا گیا اور اس کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل "Pre-stressed” آر سی سی پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اسے جلد […]

جہان آباد بدھا، سوات کی تہذیبی تاریخ کا اہم نشان

Blogger Engineer Miraj Ahmad

جہان آباد سوات (سابقہ نام شخوڑئی)، پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع سوات میں واقع ایک قدیم اور تاریخی مقام ہے۔یہ علاقہ اپنی قدرتی خوب صورتی، سرسبز وادیوں اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے، لیکن سب سے بڑھ کر اس کی شہرت یہاں موجود بدھ مت دور کے عظیم پتھری […]

ریاست سوات کے ایک نابغۂ روزگار افسر

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ایک بہادر سپاہی، بہترین شاہ سوار اور دانا آدمی تھے۔ اگرچہ وہ مکمل طور پر ناخواندہ تھے، لیکن ان کی پشتون ولی، پشتون جرگہ اور پشتون رسوم و رواج کے بارے میں معلومات بے نظیر […]

مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

Blogger Fazal Raizq Shahaab

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]

ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]