تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل 
چند روز قبل میرے ایک دوست نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں خیبر پختو نخوا کے صوبائی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات ایک نجی اور علاقائی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کَہ رہے تھے کہ ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیش آنے والے مختلف موسمیاتی آفات کے بنیادی ذمے دار ہمارے پڑوس میں موجود دو بڑے صنعتی ممالک یعنی چین اور انڈیا ہیں۔
اس انٹرویو میں محترم وزیر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ چوں کہ ہمارے ملک میں موسمیاتی آفات کے بنیادی ذمے دار دو بڑے صنعتی ممالک ہیں، تو اس لیے مَیں نے یہ کوشش شروع کی کہ کیوں نہ ہم انھی ممالک سے فنڈز لیں اور اُن فنڈز کو پختونخوا کے اندر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیش آنے والے مختلف آفات کی روک تھام کے اوپر خرچ کریں۔
ویڈیو میں مزید منسٹر صاحب یہ بھی کَہ رہے ہیں کہ کارخانوں سے خارج ہونے والی گیسیں (یعنی کاربن) کی وجہ سے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کالام اور ایسے بہت سارے ٹھنڈے علاقوں میں موجود برف کے تودے (یعنی گلیشیر) تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں، جو پھر بارشوں کے ساتھ مل کر سیلاب کی شکل اختیار کرکے تباہی مچاتے ہیں۔
یہ انٹر ویو بہت زیادہ وائرل ہوا ہے اور مختلف حلقوں اور پلیٹ فارمز کے اوپر موصوف وزیر صاحب کو تنقید اور منفی تبصرے کا نشانہ بنا یا جارہا ہے۔
محترم وزیر صاحب کے انداز بیان اور سیاسی موقف سے تو اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن بغیر تحقیق کے درجِ بالا باتوں کو جھٹلانا درست نہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں سچائی پر مبنی ہیں اور ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
سوات میں موسمیاتی تبدیلی کا اثر  
ماحولیاتی تبدیلی اور دنیا کا مستقبل 
ماحولیاتی تغیرات  
کوپ 26، عالمی ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج  
موسمیاتی تبدیلی (یعنی کلائمٹ چینج) کے میدان میں مختلف بین الاقوامی تحقیقی ادارے دنیا کے ممالک کو تین گروپس میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک قسم ان ممالک کی ہے، جو فضا میں زہریلی گیسیں چھوڑنے کا سبب بن رہے ہیں اور ان ممالک میں چین، امریکہ، انڈیا، روس، جاپان اور انڈونیشیا سرِفہرست ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے عالمی اداروں کی تازہ رپورٹوں کے مطابق چین، امریکہ اور انڈیادنیا کے تین ایسے بڑے صنعتی ممالک ہیں جو 45 فی صد زہریلی گیس (کاربن) فضا میں چھوڑ رہے ہیں، جس میں چین کا حصہ سب سے زیادہ جو کہ25 فی صد ہے۔
دوسری قسم میں وہ ماحول دوست ممالک شامل ہیں، جو نہ صرف فضا میں زہریلی گیسیں اور آلودگی چھوڑتے ہیں، بل کہ ان ممالک کے جنگلات فضا میں موجود ان کاربن گیسوں کو اپنے اندرجذب بھی کرلیتے ہیں۔ ان ممالک میں سویڈن، ڈنمارک، یو کے، فن لینڈ اور سوئٹزر لینڈ جیسے ممالک شامل ہیں۔
تیسری قسم ان متاثرہ ممالک کی ہے جو پہلی قسم کے ممالک کی فضائی آلودگی اور فضا میں زہریلی گیسوں کے انخلا سے سب سے زیادہ متاثر ہور ہے ہیں۔ ایسے ممالک میں سوڈان، کینیا، چاڈ، صومالیہ، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش و غیرہ شامل ہیں۔
تویہ بات بالکل تحقیق اور حقیقت پر مبنی ہے کہ نہ صرف پاکستان، بل کہ بنگلہ دیش، مڈگاسکراور افغانستان و غیرہ میں سیلاب شدید گرمی اور خشک سالی جیسے آفات میں چین، امریکہ، انڈیا جیسے ممالک کا کلیدی کردار ہے۔
جنوبی کو ریا میں اقوامِ متحدہ (یو نائیٹڈ نیشن) کی سفارشات کی بنیاد پر 2010ء میں ایک ادارہ قائم ہوا، جسے ’’گرین کلائمٹ فنڈ‘‘ (جی سی ایف) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ادارے نے ایک ارب امریکی ڈالر کے مساوی ایک خطیر رقم پر مبنی ایک فنڈ بنایا، جس میں دنیا کے وہ ممالک جن کا فضائی آلودگی کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ہے، وہ اپنے حصے اور فی صد کے مطابق رقم اس فنڈ میں جمع کرتے ہیں، جو پھر ان ترقی پذیر ممالک میں تقسیم ہوتے ہیں جو اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ رواں سال 2 مارچ 2024ء میں پاکستان کو ’’جی سی ایف‘‘ کی طرف سے 80 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ ملی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اُمور میں خرچ کیے جائیں گے۔
تو میرے نزدیک منسٹر صاحب کی یہ بات بھی درست ہے کہ وہ جی سی ایف کے لیے ایسے ’’پروپوز ل‘‘ پر کام کر رہے ہیں کہ جن کے ذریعے سے وہ جی سی ایف سے گرانٹ وصول کرکے صوبہ خیبر پختو نخوا کے اندر صرف کرسکیں۔
یہ بات بھی تحقیق اور مطالعے سے واضح ہے کہ دُنیا کی درجۂ حرارت میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آفات کی روک تھام کے لیے دنیا کا اوسط درجۂ حرارت5-1 سے 0-2 کے درمیان رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت دنیا کا اوسط درجہ حرارت 7-1 تک پہنچ چکا ہے۔ اس شدید درجۂ حرارت کی وجہ سے مختلف مسائل پیدا ہوچکے ہیں جیسا کہ شدید خشک سالی، سمندر کی سطح کا اُوپر آنا، سیلابوں کا آنا، چراگاہوں کا خشک ہونا اور جنگلات میں آگ کا لگنا وغیرہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں سطح سمندر اوپر آنے کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سیکڑوں لوگ ہلاک جب کہ 35 ہزار گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق ہر سال 10 ہزار لوگ اپنا ٹھکانا کھو بیٹھتے ہیں اور یہ اصطلاح مشہور ہوئی کہ غوطہ لگا دیا پھر ڈوب ہاؤ (سنک آر سویم)۔
بالکل اسی طرح امریکہ میں موجود عالمی ادارہ برائے خوراک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ پاکستان میں سیلابوں کا آنا اب معمول بن چکا ہے۔ سطح سمندر اوپر آنے اور سیلاب کی آمد میں ٹھنڈے ممالک اور علاقوں میں موجود گلیشیر کے پگھلنے کا بھی بہت بڑا کردار ہے، جس کی اصل وجہ درجۂ حرارت میں اضافہ ہے۔
ہمارے ملک میں ہر سال آنے والے سیلابوں کی ابتدا بھی شمالی علاقہ جات سے ہوتی ہے جو کہ یہاں پر موجود برف اور گلیشیر کے پگھلنے اور شدید بارشوں کے برسنے سے شروع ہوتے ہیں۔
تو لہٰذا میرے نزدیک موصوف وزیر صاحب کی یہ بات بھی حقیقت سے دور نہیں کہ زیادہ درجۂ حرارت کی وجہ سے کالام اور ٹھنڈے علاقوں میں موجود برف کے تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو پھر بارشوں کے ساتھ مل کر سیلاب کی شکل اختیار کرکے تباہی مچا دیتے ہیں۔
آخری بات،میری ان تمام باتوں سے ہر صاحبِ علم اپنی تحقیق اور دلائل کی بنیاد پر اختلاف کا حق رکھتا ہے۔
پروفیسر صاحب کے ساتھ ذیل میں دیے گئے ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
ismailtalaliiui@gmail.com
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔