تحریکِ انصاف نے قومی الیکشن 2002ء کے بعد قومی اسمبلی کے اُن اُمیدواروں کو، جنھوں نے 2000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے، کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدے داران کو بھی شریک کی دعوت کی گئی تھی۔
اجلاس میں الیکشن میں ناکامی کی وجوہات جاننے، تنظیمی اُمور اور پارٹی کے مالی وسائل پر بات کی گئی۔ اس موقع پر تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل معراج محمد خان، صوبہ پختونخوا کے صوبائی صدر نواب زادہ محسن علی خان اور سینئر مرکزی راہ نما عبدالستار (جو سابق خارجہ سیکرٹری رہ چکے تھے) نے عمران خان کو استعفے پیش کیے۔ مستعفی ہونے والے تینوں مرکزی راہ نماؤں کا کہنا تھا کہ آپ (عمران خان) کے رویے میں لچک نہیں اور آپ کسی کے مشورے کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اسی پر عمل کیا جائے۔
فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/
عمران خان کو اُنھیں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے کہنا چاہیے تھا، مگر عمران خان نے ایسا نہیں کیا۔ بہ حیثیت ضلعی جنرل سیکرٹری ملاکنڈ مَیں بھی اُسی اجلاس میں شریک تھا۔ اظہارِ خیال کرنے کی جب میری باری آئی، تو مَیں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹیاں علاقائی کارکن کو بھی پارٹی سے جانے نہیں دیتیں اور اُنھیں روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتی ہیں۔ آج تحریکِ انصاف کے تین مرکزی لیڈر تحریکِ انصاف کو چھوڑ کے جارہے ہیں، لیکن آپ اُنھیں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کا مشورہ دینا بھی اپنا توہین سمجھتے ہیں۔ آپ کے اس رویے سے دوسرے مرکزی و صوبائی قائدین اور عام ورکروں پرکیا اثرات مرتب ہوں گے؟
میری بھرپور تنقید پر عمران خان نے بادلِ نخواستہ اُنھیں فیصلے پر نظرِ ثانی کا کہا۔ بعد میں معراج محمد خان (مرحوم) نے عمران خان کے نام ایک خط لکھا جس میں مرحوم نے پارٹی چھوڑنے کی وجوہات تفصیل سے بیان کی تھیں۔
قارئین! آج تحریکِ انصاف میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہ معراج محمد خان (مرحوم) کے اُس خط کی عکاسی ہی لگتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عمران خان اب بھی تحریکِ انصاف کو ویسے چلا رہے ہیں جیسے کہ معراج محمد خان (مرحوم) نے اپنے خط میں ذکر کیا تھا۔
معراج محمد خان (مرحوم) کے مذکورہ خط کو ممتاز سکالر ڈاکٹر جعفر احمد نے اپنی کتاب ’’نگارِ سحر کی حسرت‘‘میں جگہ دی اور معروف کالم نگار مظہر عباس نے 26 جون 2024ء کو اپنے کالم میں اسے شائع کیا۔ اب یہ فیصلہ عوام اور تحریکِ انصاف کے ورکروں نے کرنا ہے کہ مئی 2003 ء میں معراج محمد خان (مرحوم) کے خط میں بیان کیے گئے حالات و واقعات اور آج تحریکِ انصاف کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، میں مماثلت ہے کہ نہیں؟
آئیے، اب مذکورہ خط کو پڑھتے ہیں:
ڈیر عمران خان! تحریکِ انصاف میں آپ کے ساتھ 5 سال سے زیادہ کا عرصہ گزارنے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کے چند ایک غیر سیاسی ساتھی جس انداز میں پارٹی بنانا اور چلانا چاہتے ہیں، وہ میرے تحربہ، فہم اور سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لیے مَیں سیکرٹری جنرل اور سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے عہدے سے استعفا دے رہا ہوں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
کیا عمران خان دوسرے بھٹو بننے جا رہے ہیں؟ 
عمران خان مکافاتِ عمل کا شکار  
عمران خان کا المیہ 
ڈیر عمران! ہمارے پاس آپ جیسی دل آویز اور معروف شخصیت موجود تھی۔ نیزسیاسی خلا کے ساتھ ساتھ ملک کے معروضی حالات بھی ساز گار تھے۔ عظیم نصب العین اور مقاصد، مضبوط تنظیم کے پرچم تلے اور قربانیوں سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اب اسے بد قسمتی کہیں کہ جو قیادت کے منصب پر براجمان ہیں،اُن میں اجتماعی سوچ اور مشترکہ وِژن کا فقدان ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پارٹی ایک حقیقی جمہوری پارٹی بن کر اُبھری، توپارٹی پر سے اُن کا کنٹرول ختم ہوجائے گا اور عمران خان بھی اُن کے دایرۂ اثر میں نہیں رہیں گے۔ اس لیے اُنھیں پارٹی میں گروہ بندی، خلفشار اور بدنظمی پیدا کرنے میں اپنا مفاد نظر آتا ہے۔
علاوہ ازیں اُنھوں نے مشتبہ اور مشکوک لوگوں کو حتیٰ کہ پارٹی میں مجرموں کو شامل کیا، تاکہ پارٹی غیر موثر رہے۔ آپ اُن کی چرب زبانی اور پُرفریب اسٹائل سے دھوکا کھا گئے۔ نیز آپ اُن کی اصل حقیقت پہچان نہ سکے اور اُن پر انحصار کیا۔ لہٰذا موجودہ صورتِ حال اس کا منظقی نتیجہ ہے۔
آپ نے جن لوگوں کو پارٹی چیف آرگنائز اور چیف انتخابی مہم منیجر کے عہدوں پر نام زد کیا اور دوسرے بھی جو آپ کے قریب تھے، وہ درحقیقت پارٹی بنانے میں دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے اُنھوں بلدیاتی یا عام انتخابات کے لیے سنجیدگی سے تیاری نہیں کی۔ اُن کی بنیادی حکمتِ عملی کا مقصد صرف حکومت کی حمایت حاصل کرنا تھا، تاکہ وہ اقتدار کی ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ اس لیے اُنھوں نے دانستہ طور پر یہ تجزیہ پیش کیا کہ نواز شریف اور بے نظیر ملک سے باہر ہیں۔ لہٰذا فوجی حکومت کے لیے عمران ہی بہتر چوائس ہوگا۔ لہٰذا وہ حلقہ کی سیاست کرنے والے مضبوط امیدواروں کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس لیے اُنھوں نے آپ کو اور پارٹی کوریفرنڈم کی حمایت پر مجبور کیا۔
بہ ہر کیف جب یہ واضح ہوگیاکہ حکومت مسلم لیگ قاف کی حمایت کر رہی ہے، توآپ نے گجرات کے چوہدریوں کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کیا، مگراُس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔
یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’کرکٹ بائی چانس‘‘ مگر مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ’’سیاست بائی چانس‘‘ نہیں ہوتی۔ تاہم ہمیں پارٹی کے اُمیدواروں کے حوصلے کی داد دینی چاہیے، جنھیں الیکشن کے آخری دنوں میں نام زدکیا گیا، جو سیاسی حلقوں میں معروف نہ تھے اور پارٹی بھی اُن کی مالی اور تنظیمی مد کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ آپ کی میاں والی سیٹ کی کام یابی میں ورکروں، مقامی لیڈر اور خاص طور پر الیکشن مہم کے انچارج حفیظ اللہ نیازی کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ اس کے علاوہ ایس اے بابر نے میڈیا اور پریس کا علم بلند رکھا اور حامد خان نے قانونی محاذپر1973ء کے آئین کی بہ حالی اور ایل ایف اُو کے خلاف جد و جہد کرنے والے وکلا اور دوسری تنظیموں کی قیادت کی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ عالمی کپ جیتنے پر بہت خوش اور آپ کو ہیرو سمجھتے ہیں اور شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کرنے پر آپ کو عزت کونگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مگر آپ نے جس انداز سے سیاسی اُمور نمٹائے ہیں، لوگ آپ کو نجات دہندہ نہیں سمجھتے اورنہ پارٹی کو وہ ذریعہ جس سے نظام میں تبدیلی اور اُنھیں خوش حالی نصیب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ہمارے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا۔ پارٹی نے کبھی واضح طور پر اپنا پیغام نہیں دیا کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون؟ وہ کون سے طبقات ہیں جن کے مفادات ہمیں عزیز ہیں، اور وہ جن کے ہم مخالف ہیں۔
میری 4 اپریل 2003 ء کو آ پ سے ملاقات ہوئی اور ہم مشترکہ طور پر سی اے سی ممبران کی لسٹ مکمل کی، جب کہ 6 اپریل کی اجلاس میں آپ نے تمام موجودہ ممبران (جن میں کچھ متعلقہ لوگ بھی شامل تھے)کو 6 ماہ کے لیے سنٹرل ایگزیگٹیو کمٹی کا رکن بنانے کا اعلان کردیا۔اس پرمیں آپ کو اور اُن کو مبارک باد ہی دے سکتا ہوں، اس کا حصہ نہیں بن سکتا۔
اختتام سے قبل مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سوشل ڈیموکریٹ سیاست میں تجربہ کی بنیاد پر مَیں نے جتنا ممکن تھا آپ کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ تفصیل لکھنے کا مقصد دیانت داری سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا ہے اور یہ وہی کچھ ہے جو ماضی میں زبانی طور پر اکثر بیان کرتا رہا ہوں۔ غالباً آپ کسی وقت اس پر غور کرنا پسند کریں۔
والسلام
معراج محمد خان۔
قارئین! تحریکِ انصاف کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری ملاکنڈ کی حیثیت سے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہورہی کہ آج بھی تحریکِ انصاف میں وہی کچھ ہو رہا ہے، جس کا ذکر معراج محمد خان (مرحوم) نے اپنے محولہ بالا خط میں کیا تھا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔