آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک بے قابو میدان بن چکا ہے، جہاں غیر ذمے دارانہ رپورٹنگ اور سنسنی خیزی عروج پر ہے۔ اس طرزِ عمل سے معاشرتی انتشار اور غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور صارفین دونوں کو ذمے دارانہ رپورٹنگ کے اُصولوں پر عمل کرنے کی تاکید کی جائے۔
غفران تاجک کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ghufran/
٭ سوشل میڈیا پر ذمے داری:۔
سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ مواد کی روک تھام کے لیے سخت پالیسیاں اپنائیں اور صارفین کو بھی چاہیے کہ وہ مواد شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ نیز عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود مواد کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں اور ہر خبر کی تصدیق کریں، تاکہ معاشرتی امن و امان برقرار رہے۔
٭ پرنٹ میڈیا کی ذمے داری:۔
شہر کے اخبار کی سرخیاں اکثر حادثات اور جرائم کی مبالغہ آمیز تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے، بل کہ عوامی خوف و ہراس کا باعث بھی بنتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کو اپنی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہیے، تاکہ معاشرتی امن و امان بہ حال رہے۔
٭ ریاستی پالیسی اور میڈیا سنسرشپ:۔
بدقسمتی سے، ریاستی پالیسی کے تحت اکثر میڈیا پلیٹ فارمز پر سنسرشپ لگی ہوتی ہے اور وہ اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں پیش کرسکتے۔ اے کاش! ریاست بھی اس سلسلے میں متوازن راہ اختیار کرے، تاکہ حقائق کو چھپانے کے بہ جائے انھیں شفاف طریقے سے پیش کیا جاسکے۔ دوسری طرف، اکثر صحافتی اداروں کی اپنی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ ایک ادارہ ایک بیانیہ کو پروموٹ کرتا ہے، تو دوسرا ادارہ کسی دوسرے بیانیے کی تشہیر کرتا ہے، جس سے عوام مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش خبروں پر یقین کریں۔
٭ خبر کی تصدیق کے ذرائع:۔
خبر کی تصدیق کرنے کے لیے عوام کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
٭ مستند ذرائع:۔ خبروں کو ہمیشہ مستند اور قابل اعتماد ذرائع سے چیک کریں، جیسے کہ معروف نیوز ویب سائٹس، سرکاری اعلانات، اور معتبر صحافتی ادارے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
صحافت کی مختصر تعریف  
صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم  
’’نان پروفیشنل‘‘ صحافت کے لیے خطرہ  
روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک صحافت کا سفر  
صحافت کا جنازہ نکالنے والوں کے نام  
٭ متعدد ذرائع:۔ کسی بھی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اسے مختلف ذرائع سے چیک کریں، تاکہ اس کی سچائی کی تصدیق ہوسکے۔
٭ فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس:۔ انٹرنیٹ پر موجود فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس کا استعمال کریں، جو کہ مختلف خبروں کی تصدیق کرتی ہیں۔
٭ سرکاری ویب سائٹس:۔ سرکاری معلومات یا بیانات کو دیکھیں، تاکہ معلومات کی تصدیق ہوسکے۔
٭ مفاد پرست عناصر اور ہائبرڈ وار:۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ایک مفاد پرست ٹولہ، جو عوام کے دکھ درد سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا، اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر ممکنہ راہ اختیار کر رہا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو میڈیا سے دور کرنا اور انھیں بے خبر رکھنا ہوسکتا ہے، تاکہ اُن کے مقاصد میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اگر عوام میڈیا کا استعمال چھوڑ دیں اور ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھنے لگیں، تو اس سے ملک کو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔
٭ میڈیا کے مختلف اقسام کے مابین کوآرڈینیشن سسٹم:۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا، ماس میڈیا کے مختلف اقسام ہیں اور ان کے مابین ایک موثر ’’کوآرڈی نیشن سسٹم‘‘ قائم کرنا نہ صرف ممکن ہے، بل کہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔
٭ مشترکہ حکمت عملی:۔ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے، تاکہ خبریں مصدقہ اور متوازن انداز میں عوام تک پہنچ سکیں۔
٭ کوآرڈی نیشن کمیٹیز:۔ میڈیا اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں، جو کہ مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان تعاون کو فروغ دیں۔
٭ تربیتی پروگرامز:۔ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے تربیتی پروگرامز منعقد کیے جائیں، جن میں ذمے دارانہ رپورٹنگ اور حقائق کی تصدیق کے اُصول سکھائے جائیں۔
٭ مشترکہ پلیٹ فارم:۔ ایک مشترکہ آن لائن پلیٹ فارم بنایا جائے، جہاں مختلف میڈیا ادارے اپنی مصدقہ خبریں شیئر کریں، تاکہ عوام کو مستند معلومات حاصل ہوسکیں۔
عوام کو چاہیے کہ وہ ہر خبر کو ڈراما تصور کرنے کے بہ جائے حقیقی معلومات کی تلاش میں رہیں، اور ذمے دارانہ طریقے سے خبروں کی تصدیق کریں۔ یہ صورتِ حال ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے نقصان دِہ ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ ایک باخبر اور آگاہ عوام ہی مضبوط جمہوریت اور مستحکم معاشرت کی بنیاد ہوتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔