ایک غیرجانب دار مبصر، تجزیہ نگار اور ’’آبزرور‘‘ کی حیثیت سے مَیں نے پچھلے کئی انتخابات میں جو کچھ دیکھا تھا، 2024ء کا انتخاب اُن سب سے بالکل مختلف تھا۔ جمہوری روح کی تو ساری سیاسی جماعتیں دعوے دارہوتی ہیں، لیکن کیا اُن کے دعوے واقعی حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں یا یہ کہ فریب کاری کا بیانیہ (ہماری گَل ہوگئی ہے) ان کی پہلی ترجیح ہو تی ہے۔
طارق حسین بٹ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/butt/
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی جماعتیں بیساکھیوں پر کھڑا ہونے میں اپنی عافیت تلاش کرتی ہیں یا پھر عوامی رائے کو حرزِ جاں بناکر عوامی تائید سے اقتدار تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ اکثر جماعتیں عوام پر تکیہ کرنے کی بجائے مقتدرہ کی قدم بوسی سے اپنی فتح کا محل تعمیر کرنا پسند کرتی ہیں۔ ایسی جماعتوں کو شاید عوامی فیصلہ اور ’’وزڈم‘‘ پر یقین نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے پاس مقتدرہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ دولت کے پجاریوں اور عوامی محبت کے دعوے داروں کے درمیان ایک لطیف سا پردہ ہوتا ہے جو کہ لطیف ہونے کے باوجود انتہائی اہم ہو تا ہے۔ عوامی محبت میں مبتلا انسان کا ماخذ خود کو مطلاطم لہروں کے سپرد کرنے کے مترادف ہو تا ہے، جب کہ دولت کے پجاریوں کے لیے سارے جائز و ناجائز حربوں سے اقتدار کی مسند کا حصول پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ ایک طرف جیلیں اور صعوبتیں ہوتی ہیں، جب کہ دوسری طرف مقتدرہ کی تھپکیاں اور نوازشیں ہو تی ہیں جو اقتدار کی نوید سناتی ہیں۔ ایک طرف عوامی رائے کاخون ہوتا ہے، جب کہ دوسری طرف عوامی محبت کی چاشنی روح کی سرشاری کا موجب بنتی ہے۔ مقتدرہ ایک حقیقت ہے، لیکن کیا حتمی فیصلہ مقتدرہ کو کرنا ہے یا اس کاآئینی اختیار 25 کروڑ انسانوں کے پاس ہے کہ اُن کے حکم ران کون ہو ں گے؟
پوری دنیا میں انتخابات ہو تے ہیں، لیکن ایسے انتخابات تو نہ دیکھے نہ سنے۔ ایک سیاسی جماعت جس کا قائد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے، جو نااہل کیا جاچکا ہو، جسے تیز ترین عدالتی کاررو ائی سے لمبی لمبی سزائیں سنائی گئی ہوں، جس کی جماعت کو غیر فعال بنایا گیاتھا، جس کی کاکوئی انتخابی نشان نہیں تھا، جس کی صفِ اول کی قیادت فرار تھی یا جیلوں میں مقید تھی، جسے جلسے جلوس کی اجازت نہیں تھی، جسے انتخابی مہم چلانے سے محروم کیا گیا تھا، جسے ریلیوں اور کارنر میٹنگز سے بہ زور دور رکھا گیاتھا، حتی کہ جس کا نام ٹیلی وِژن پر لینے کی پابندی تھی۔ اتنے جبر، جور اور سفاکیت کے بعد اُس انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان میں پھینک کر اُسے الیکشن پر مجبور کیا گیا تھا، لیکن ان سارے منفی ہتھکنڈوں کے باوجود اُس انسان نے الیکشن لڑا اور دنیا کو دکھا دیاکہ آمریت کے سائے میں اس طرح بھی الیکشن لڑا اور جیتا جاتا ہے۔ یہ ایک معجزاتی کیفیت ہے جس کا اظہار اُس انسان کی ذات سے ظہور پذیر ہوا ہے، جو پابندِ سلاسل ہے۔
گو یا کہ ووٹ کی حرمت کی خاطر اُس نے جہانِ جبر سے ٹکر لی، جب کہ اس یدھ (جنگ) میں اُس کی جان بھی جاسکتی ہے، لیکن وہ ہے کہ باز آنے کو تیار نہیں۔
لمحۂ موجود میں پوری دنیا اُس انسان کی جرات اور اُس کی بے باکی کی معترف بنی ہوئی ہے۔ ایک ناممکن مہم کو اُس نے جس طرح اپنی فہم و فراست اور جرات و بسالت سے ممکن بنایا ہے۔ دنیا ابھی تک حیرت و ا ستعجاب کے دریا میں غوطہ زن ہے۔ کوئی انسان اپنی جان کو داؤ پر نہیں لگاتا، لیکن چشمِ فلک نے دیکھا کہ ایک انسان نے تمام ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی راہ نہ بدلی۔ وہ کوہِ گراں کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہوگیا اور پھر عوام نے اپنے ووٹ کو اس پر جس طرح قربان کیا، ناقابلِ بیاں ہے۔ اُس انسان کے خلاف جبر کا ہر حربہ آزمایا گیا، لیکن پھر بھی مطلوبہ نتائج بر آمد نہ ہو ئے، تواُس کے خلاف دھاندلی کا حربہ آزمانے کی ٹھانی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
عمران خان کے کاغذات نام زدگی کیوں مسترد ہوئے؟ 
عمران خان کا المیہ
پی ٹی آئی بارے سپریم کورٹ تفصیلی فیصلے کے 20 نِکات
ذوالفقار علی بھٹو
بھٹو واقعی زندہ ہے! 
مقتدرہ حیرت زدہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اُن کی نفرت کا نشانہ بننے والا ا نسان جیت جائے؟ یہ نہیں ہو سکتا، اور اگر ایسا محیر العقول واقعہ ہو جائے، تو سارے نتائج کو بدل ڈالو۔ اب اس کا آسان طریقہ تو یہی تھا کہ نتائج کو خاموشی سے بدل دیا جاتا اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ 8 فروری کی شب شکست خوردوں کو فتح یاب کیا گیا اور جو فتح یاب تھے، اُن کی جیت کو شکست میں بدلا دیاگیا۔ ایک فارم 47 کا اجرا ہونے کی دیر تھی کہ جیت کو ہار میں بدل دیا گیا۔ کتنا آسان نسخہ ہے کہ بے شمار جھنجھٹ پالنے کی بجائے ایک ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کی ڈیوٹی لگا دی جائے کہ اس نے حکمِ بالا کی ہدایات کی روشنی میں کس کو جتوانا اور کس کو ہروانا ہے؟ کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر بلوے، لڑائیوں اور جھگڑوں کی بجائے ائیر کنڈیشنڈ روم میں فارم 47 کو اپنے امیداوار کے حق میں جاری کرکے سارے انتخاب کو بدل لیا جائے۔ یہ دھاندلی کا وہ عظیم نسخہ ہے جس سے بد امنی، انتشار اور خانہ جنگی کے سارے منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں۔ اس طریقے سے دھاندلی بھی ہو جاتی ہے اور عوام کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ عوام کو شک میں مبتلا کر دیا جاتا ہے کہ انتخاب میں کون جیتا اور کون ہارا ہے! رات کو جیتنے والے صبحِ صادق کے وقت شکست خوردہ لشکر میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ کچھ ایسے امیدوار بھی منظرِ عام پر آئے جنھیں محض اس وعدے کے بعد فاتح قرار دیا گیا کہ وہ جیت کر مقتدرہ کی جماعت کا حصہ بن جائیں گے۔ بندہ راتوں رات اُٹھا لیا جاتا ہے اور پھر نہا دھو کر اور پاک صاف ہو کر اپناقبلہ بدل لیتا ہے۔ جماعت بدلنے کے اعلان کے بعد اس کی غیرت کو ذبح کر دیا جاتا ہے، تو اُسے مکتی مل جاتی ہے۔ وہ ناپسندیدہ سے پسندیدہ بن جاتا ہے۔ اُس کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
میرا ایمان ہے کہ جس کسی نے بھی یہ گھناؤنا کھیل کھیلا ہے، وہ ایک دن اعترافِ جرم ضرور کرے گا۔ ابھی تو کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی باغی ویڈیو نے ہر سودھوم مچائی ہوئی ہے۔مقتدرہ اور اُس کی حلیف جما عتیں پریشان ہیں اور عالمِ پریشانی میں اُن سے کوئی جواب بن نہیں پا رہا۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ کوئی بھی انسان سچ کا اظہار کیے بغیر اس جہانِ فانی سے رخصت نہیں ہونا چاہتا۔ ہر دور کا سچ کسی نہ کسی طرح انسانوں کے پاس پہنچ جاتا ہے، تا کہ دوسرے اس سے اجتناب کریں، لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ کچھ انسان پھر بھی ظلم ور نا انصا فی سے باز نہیں آتے اور ذاتی مفادات کی دوڑ سے کنارا کش نہیں ہوتے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے آخری ایام کے ایک ایک لمحے کی تفصیل کتابی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اُنھیں پھانسی کا فیصلہ سنانے والے ججوں کے مجبور ہونے کا اعتراف اُن کی بے چینیوں کی علاحدہ کہانی سنا رہا ہے۔ کس طرح فیصلے لیے جاتے ہیں اور کس طرح بے گناہوں کو سرِ دار لٹکا دیا جاتا ہے، اس سے پورا عالم واقف ہے۔ حریت پسند دلوں پر راج کرتے ہیں، جب کہ ظالم انسانی نفرت کی علامت بن کر لعنت سمیٹتے رہتے ہیں۔ سچائی کا جو شخص بھی راستہ روکتا ہے، خود ہی ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔
کون ہے جو ہزار ہا سال زندہ رہے گا؟ ہر انسان کو ایک مقررہ مدت کے بعد اس جہانِ فانی سے رختِ سفر باندھنا ہو تا ہے۔ کوئی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح رخصت ہو تا ہے۔ کوئی نیلسن مینڈیلا کی طرح انسانی عظمت اور برابری کا استعارہ بن جاتا ہے اور کوئی مقتدرہ کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے۔ عوامی محبت کے لیے آزمایشو ں اور صعوبتوں کی کٹھا لیوں سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی مقام بھی آزمایش کے بغیر نہیں ملا کرتا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں جنرل ضیاء الحق کے ظلم و جبر کے سامنے گردن جھکانے سے انکار کیا، تو صدیوں کا سفر پلک جھپکنے میں طے کرلیا۔ جان تو گئی لیکن وہ انسانی جرات کا ایسا دل کش استعارہ بنا کہ اس کی جرات و بسالت کے ذکر پر روح وجد میں آجاتی ہے۔
کیا کسی اور انسان نے بھی ذوالفقار علی بھٹو والی راہ کا انتخاب کر لیا ہے؟کیا اُس کا انجام بھی ذوالفقار علی بھٹو جیسا ہوگا، یا وہ عوامی محبت کے بل بوتے پر فتح کا حق دار ٹھہرے گا؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔