قارئین! مجھ سے ’’انٹروورٹ‘‘ (Introvert) اور ’’ایکسٹروورٹ‘‘ (Extrovert) کے متعلق کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ سب کے جوابات دینا ممکن نہیں…… لیکن ایک سوال جو مجھے بہت پسند آیا، وہ تھا کہ انٹروورٹ انسان کو ایکسٹروورٹ کیسے بنایا جائے؟
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
ہم جب بھی شخصیت کی اقسام (Personality Types) کا ذکر کرتے ہیں، تو اس کے لیے ہمیں ’’یونگیئن سائیکالوجی‘‘ (Jungian Psychology) کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ ’’یونگیئن سائیکالوجی‘‘ میں مختلف مثالی نمونوں (Archetypes) کا ذکر ہوتا ہے۔ آج میں ایک ایسے مثالی ماڈل کا ذکر کروں گی، جو ہندو دیومالائی کہانیوں میں ایک انٹروورٹ دیوتا ہے…… جسے شیوا (Shiva) کہتے ہیں…… اور شیوا کا کردار ہمیں ’’انٹروورٹ‘‘ اور ’’ایکسٹروورٹ‘‘ کے درمیان کی جنگ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
ایک بات یاد رکھیے گا کہ دیوی دیوتا ہم انسانوں کی شخصیت، سوچ اور نفسیات کی گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں۔
’’شیوا‘‘ تضاد سے بھرپور اور پیچیدہ کردار ہے۔ بالکل ویسے جیسے ہماری دنیا اور اس کے قوانین۔ شیوا ایک سنیاسی (Ascetic) ہے، یوگی ہے…… لیکن اس کی ایک بیوی اور دو بچے بھی ہیں۔ ایک سنیاسی کی بیوی اور بچے…… سب سے بڑا تضاد!
’’شیوا‘‘ انٹروورٹ ہے اور پہاڑوں میں اکیلے ’’میڈی ٹیشن‘‘ (مراقبہ) کرنا اسے بہت پسند ہے، لیکن اسے تبدیلیِ صورت (Transformation) کا دیوتا بھی مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ تخلیق اور تباہی (Creation and Destruction) دونوں کا دیوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ وہ دیوتا ہوکر بھی دنیا کے تقاضوں سے واقف ہے۔ وہ سنیاسی کی مانند ’’میڈی ٹیشن‘‘ بھی کرتا ہے…… لیکن اپنی فیملی کو بھی بھرپور وقت دیتا ہے۔ کبھی اونچ نیچ ہوجائے اور اس کی ’’انٹروورٹ‘‘ والی فطرت اسے اپنی جانب کھینچے، تو وہ توازن لانے کی کوشش کرتا ہے۔
یتیم نونہالانِ وطن کا گھر ’’پرورش ہوم‘‘:
https://lafzuna.com/blog/s-30228/
’’شیوا‘‘ انٹروورٹ اور گہری سوچ رکھنے والا دیوتا ہے۔ اس کی یہی شخصیت اسے باقی دیوتاؤں میں سب سے زیادہ پرکشش بناتی ہے، لیکن اس کی صاف گوئی اور انٹروورٹ فطرت اسے اکثر مصیبت میں بھی ڈال دیتی ہے…… اور ایکسٹروورٹ دیوتاؤں کی وجہ سے اسے تکلیف کا سامنا بھی رہتا ہے۔ بے شک ہماری دنیا اور اس کا نظام ایکسٹروورٹ لوگوں کے مزاج کے گرد ڈیزائن ہوا ہے…… اور اس میں انٹروورٹ لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
لیکن آپ سیکھ سکتے ہیں کہ ایکسٹروورٹ کی دنیا میں ایک انٹروورٹ کی طرح رہنا، ’’شیوا‘‘ کو رقص کا دیوتا بھی مانا جاتا ہے …… تخلیق اور تباہی کا رقص، ایکسٹروورٹ اور انٹروورٹ بننے کا رقص!
کب آپ نے ایکسٹروورٹ بننا ہے، اور کب انٹروورٹ…… یہ ایک رقص ہی تو ہے۔ ایک دیوتا تک دنیا کے قوانین اور تقاضوں کے آگے مجبور تھا، تو عام انسان کے پاس تو کوئی راستہ ہی نہیں بچتا، سوائے اس رقص کو سیکھنے کے۔
شیوا چوں کہ یوگی ہے، سنیاسی ہے، تبھی وہ نظم و ضبط (Discipline) اور خود پر قابو (Self-control) رکھنا بھی جانتا ہے۔ اس لیے انٹروورٹ لوگ اگر یہ دو خصوصیات خود میں پیدا کرلیں، تو اپنے مقاصد (Goals) کو بآسانی حاصل کرسکتے ہیں، آج کی دنیا میں انٹروورٹ ہونے کا بہت فایدہ ہے۔ اگر آپ نظم و ضبط اور فوکس کرنے کا فن جانتے ہیں۔ کیوں کہ ایکسٹروورٹ کو فوکس کرنے میں دقت ہوتی ہے اور نہ وہ گہری سوچ والے ڈیپارٹمنٹ کو سنبھال سکتے ہیں۔ گہری سوچ کے لیے تنہائی کو قبول کرکے بیٹھنا پڑتا ہے، جو ایکسٹروورٹ لوگ عموماً بہتر طور پر نہیں کرپاتے۔ ایکسٹروورٹ اپنی انرجی بڑھانے کے لیے باہر کی دنیا جب کہ انٹروورٹ اپنے اندر کی دنیا پر منحصر ہوتے ہیں۔
آپ اس دنیا میں ایکسٹروورٹ اور انٹروورٹ دونوں بن سکتے ہیں…… اور یہ اس دنیا میں رہنے کا تقاضا ہے۔ اس متضاد اور دہری (Dual) دنیا میں آپ کے پاس اور کوئی انتخاب نہیں۔ آپ کو شیوا کی طرح سنیاس اور دنیاوی معاملات میں توازن لانے کا رقص سیکھنا ہوگا۔
آدھی رات، کافی اور یادوں کا اُمنڈتا طوفان:
https://lafzuna.com/blog/s-30179/
اکثر بچے جو بہت حساس ہوتے ہیں اور انہیں دوسروں کی نسبت معاملات زیادہ گہرائی میں محسوس ہوتے ہیں…… یا جو بچے ’’ٹروما‘‘ سے گزرتے ہیں اور تنہائی ان کا فرار ہوتی ہے، تو وہ خود کو انٹروورٹ کے خول میں بند کرلیتے ہیں۔ شیوا بھی انٹروورٹ ہے، لیکن وہ تبدیلی کو پسند کرتا ہے۔ انٹروورٹ ہوکر فطرت کے سب سے اہم قانون تبدیلی کو قبول نہ کرتے ہوئے ایک خاص لقب کو گلے میں لٹکا لینا اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ انٹروورٹ نہ ہوں……بلکہ آپ کے ماضی کے تجربات نے آپ کو محدود کردیا ہو۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔