لاہور سے واپسی کے وقت ہم دمِ دیرینہ مرویز خان خٹک کی سنگت میں ’’بھیرہ انٹر چینج‘‘ پر آدھی رات کو نیم وا آنکھوں اور بوجھل قدموں کے ساتھ گاڑی سے اُترے، تو بدن دُکھ رہا تھا۔ ہم ویسے ہی ’’ٹریول سِک‘‘ (Travel Sick)” ہیں۔ سفر تھوڑا طول پکڑتا ہے، تو گویا دم نکلنے لگتا ہے۔
کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/sahaab/
موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے مَیں نے خٹک صاحب کو کافی نوشِ جاں فرمانے کی دعوت دی اور انھوں نے بلا تردّد قبول کی۔کافی میں خٹک صاحب کا مرغوب فلیور "Latte” ہے۔ انھوں نے آرڈر دیا اور دوسرے ہی لمحے کاغذ کے بنے کپ ہمیں تھما دیے گئے۔ بھاپ اُڑاتی کافی کی پہلی ہی چسکی سے ذہن میں اِک کوندا سا لپکا اور یادِ ماضی نے آغوش میں لے لیا۔
یہ سنہ 96-1995ء کی بات ہے، جب ہمارے چچا محمد ساجد (اسسٹنٹ پرفیسر ایگری کلچر یونی ورسٹی پشاور) پروفیسر تھے اور نہ ہم قلم کے مزدور۔ خستہ حالی میں دونوں ہم پلہ تھے۔ مَیں اُنھیں تعظیماً ’’کاکا جان‘‘ کے نام سے مخاطب کرتا ہوں۔
اُن دنوں کاکا جان کو ایک دوست نے برانڈڈ کافی تحفتاً عنایت فرمائی تھی۔ سردیوں کی لمبی راتیں تھیں اور پشاور یونیورسٹی کا رومان پرور ماحول۔ مَیں میٹرک امتحان کی تیاری کے سلسلے میں کاکا جان سے نہ صرف ’’فی سبیل اللہ‘‘ ٹیوشن لیا کرتا تھا…… بلکہ ان کے ہاں مستقل طور پر مقیم بھی تھا۔
سوات کا ’’تش کدو‘‘ اور مرغزار:

سوات کا ’’تش کدو‘‘ اور مرغزار


خدا بخشے جب ’’ابئی‘‘ (دادی) اور ’’بابا‘‘ (دادا) لمبی تان کر سوجاتے، تو کاکا جان مجھے چپکے سے ساتھ لے کر باورچی خانے کا رُخ کرتے۔ ’’چائے جوش‘‘ میں ’’ابئی‘‘ کے ہاتھ کی عصر کے وقت کی تیار کی ہوئی چائے ٹھنڈی پڑی ہوتی۔ کاکا جان چولھے کو دیا سلائی دکھاتے اور آگ روشن ہوجاتی۔ چائے گرم ہوجاتی، تو کافی جار سے آدھا چمچ اپنی پیالی اور آدھا میری پیالی میں ڈال کر چمچ سے حل کرنے کا فرمان جاری کرتے۔ مذکورہ محلول جِسے ہم اُس وقت ’’کافی‘‘ کہتے، کا مزا آج تک کسی اور کے ہاتھ کی بنی کافی کا نہیں آیا۔
یہ تھا کافی کے ساتھ ہمارا پہلا تعارف۔
غیر پشتون علاقوں میں ویش نظام:
https://lafzuna.com/history/s-30085/
تیسرا بندہ جس کے ہاتھ کی تیار کی ہوئی کافی کا جواب نہیں…… محمد عظیم صاحب ہیں، جنھیں سب پیار سے ’’جمو‘‘ کہتے ہیں۔ پانچ یا شاید چھے برس قبل ایک دفعہ ہماری بیٹھک ہوئی۔ ’’اینمل فارم‘‘ نامی ناول پر بحث کے ساتھ ساتھ وہ ایک برتن میں بار بار دودھ کو جوش دیتے رہے۔ کافی دیر یہ مشق جاری رہی۔ آخر میں دو پیالیوں میں جوش دیا گیا دودھ ڈال کر اس میں حسبِ ضرورت کافی بھی ڈال دی، جس کی پہلی ہی چُسکی نے دماغ کی بتی جلا دی۔
پتا نہیں، کب کی بات ہے……! مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ ایک شام دوستوں کی محفل میں ایک دوست نے ازراہِ تفنن کہا کہ اتنی کڑک چائے ہے کہ پہلی چُسکی تلوے تک جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ واقعی محمد عظیم صاحب کے ہاتھ کا بنایا ہوا کافی کا کپ اور ’’بھیرہ انٹر چینج‘‘ پر ملنے والا کپ تلوے تک جاتا محسوس ہوا تھا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔