سوات صدیوں سے تہذیب و تمدن، ثقافت اور علم و آگہی کا گہوارہ رہا ہے۔ اپنی زرخیزی، دل کشی، سر سبز پہاڑوں کی موجودگی، جمالیاتی حسن کی فراوانی، لہلہاتے مرغزاروں، خوش بو بکھیرتے پھولوں، مزیدار ترین پھلوں، سلیٹی پانیوں کے حامل میٹھے دریا، ناچتی گاتی گنگناتی ندیوں، آسمانی بلندیوں سے گرتی خوب صورت آبشاروں، تہہ در تہہ حصار میں اُگتے شان دار پہاڑوں، جی دار، بااخلاق، محنتی، جفاکش اور بہادر لوگوں کی موجودگی اسے اِرد گرد کے تمام علاقوں سے ممتاز بناتی ہے۔
آج سے تقریباً دو تا تین ہزار سال قبل سوات دنیا میں بدھ مذہب کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں پر جا بجا بدھ تہذیب و تمدن اور بدھ مذہب کے متعلقہ بہت سے آثار اب بھی بکھرے پڑے ملتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی سب سے بڑی تہذیب ’’گندھارا‘‘ کا مرکز ہوا کرتا تھا…… جس کا صدر مقام ٹیکسلا تھا۔ ٹیکسلا کا پرانا نام ’’تکشا شلا‘‘ ہوتا تھا۔
وادئی سوات کا نام زُباں پر آتے ہی ذہن و دل سرور اور دیوانگی کے نشے میں چور ہو کر ہواؤں میں اُڑنے لگتا ہے :
سپنوں میں اُڑی اُڑی جاؤں
اس کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک دل کش و دل نشیں اور مافوق الفطرت جنت نظیر وادی کا تصور اجاگر ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی وادی جس میں جنتی میوؤں کی فراوانی ہے۔ جابجا خوش رنگ پھول کھلے ہوئے ہیں۔
ایک ایسا خطۂ ارضی جس میں شرابِ طہور سے لب ریز دریا، گھنے جنگل، سر سبز و شاداب پہاڑ، گاتی گنگناتی ندیاں اور آسمانی بلندیوں سے گر کر چھنا چھن موسیقی کے سُر بکھیرتے جھرنے ہیں، جن کے آس پاس گھومتے فرشتے اپنی ڈیوٹی میں مگن ہیں۔ جب کہ جنت کی حوریں ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں لیٹی، اپنے ہی حال میں مست ،بے خود ہوکر محوِ استراحت ہیں۔ ہلکی ہلکی مدھر موسیقی کے گیت کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔ اپنی کوملتا کا سنگھاسن تھامے کھڑی ناریاں اپنے نازک ہاتھوں میں شرابِ طہور کے جام پکڑے کسی کوہِ قاف سے اُترے شہزادے کی طرح آپ کی منتظر ہیں۔
سوات بہت خوب صورت وادی ہے۔ یہاں کے لوگ فرشتے تو نہیں، البتہ فرشتہ صفت ضرور ہیں۔ جو زیادہ تر مہمان نواز، جاذبِ نظر، فراخ دل، تمیز دار، عزت و احترام سے پیش آنے والے، خوب صورت دل کے مالک اور بہت محنتی و جفاکش ہیں۔
یہ سارا خطہ شروع ہی سے خوش حال تھا۔ بیسویں صدی میں والیِ سوات کے زیرِ حکم رانی اس علاقے نے خوب ترقی کی۔ صحت اور تعلیم و تربیت میں یہ علاقہ ارد گرد کے دوسرے علاقوں کی نسبت کہیں آگے تھا۔
مَیں پہلی دفعہ سنہ 1986-87ء میں سوات گیا تھا۔ اُس وزٹ میں ہمیں مینگورہ میں سیدو شریف کے قریب مرغزار دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ مینگورہ اور سیدو شریف ایک دوسرے سے اتنے ہی فاصلے پر ہیں، جتنے فاصلے پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہر ہیں۔
جہاں سے تقریباً پندرہ کلو میٹر کی دوری پر وائٹ پیلس کا سفیدی میں ڈوبا چاندی محل ہے۔ جسے 1941ء میں میاں گل ودود (باچا صیب) نے بنوایا تھا، جو اُس کے جمالیاتی ذوق کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
مرغزار ایلم کے پہاڑی سلسلے میں ایک سر سبز و شاداب اور دل کش و دل نشیں درہ ہے۔ دور سے دیکھنے میں وائٹ پیلس سرسبز و شاداب پہاڑیوں میں گھرا ہوا، سفید چاندی میں نہایا کسی سبز رنگ پیالے میں پڑی مشری کی ڈلی جیسا خوش رنگ دکھائی دیتا ہے…… جس کے بیک گراؤنڈ میں ایستادہ ایلم کی پہاڑی کے عین دوسری طرف پاچا کلے میں پیر بابا کا مزارِ پُرانوار ہے۔
بقولِ شوکت علی صاحب (سوات کے باسی) ایلم کی یہ اور اس سے ملحقہ پہاڑی ٹلہ جوگیاں کی پہاڑی کی طرح کبھی مقدس پہاڑ کا درجہ رکھتی تھیں۔ جہاں پر بدھ بھکشو، جوگی، سنت اور سادھو قسم کے لوگ جا کر اپنی اپنی مذہبی عبادات کیا کرتے تھے ۔
ہم جب وائٹ پیلس کی جانب روانہ ہوئے، اُس دن جمعہ کے روز نمازِ عصر کا وقت تھا۔ دوسرے علاقوں کی طرح مینگورہ کی آبادی بھی بڑھ کر دور تک پھیل گئی ہے۔ وائٹ پیلس کی طرف جانے والے راستے پر جا بجا کھانے پینے والی اشیا سے لدی ریڑھیوں، چھلی فروشوں اور فروٹ بیچنے والوں کے گرد صاف ستھرے کپڑے پہنے کافی لوگ جمع تھے۔ جو ان سے اپنی پسندیدہ اشیا خرید کر کھا پی رہے تھے۔ ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی۔ ان میں کچھ فیمیلیز بھی تھیں، جو یہاں پکنک منانے کی غرض سے آئی ہوئی تھیں۔ کئی ایک فیملیز اپنے کھانے پینے کے سامان کے ساتھ سڑک کنارے ڈیرے جمائے ہوئے بیٹھی نظر آئیں۔ راستے میں جاپانی پھل، خوبانی اور اس طرح کے کئی دوسرے پھل دار درختوں کے باغات تھے۔ ایک دو جگہوں پر مقامی کھیتوں میں تیار شدہ سبزی فروش بھی نظر آئے۔
ایک جگہ ایک ایسا ہی سبزی فروش بچہ اپنے گھر کے پاس بیٹھا سبزی فروخت کر رہا تھا۔ ایک چھوٹے میز پر ’’لم ڈھینگ نما کدو‘‘ پڑے نظر آئے، تو ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب نے انھیں دیکھتے ہی گاڑی روک لی۔
اُس کدو کی قدو قامت اور شکل و شباہت کسی چولستانی سپیرے کی بین جیسی تھی۔ جسے دیکھتے ہی سب دوستوں نے باری باری سپیرے کے بین بجانے کے انداز میں اِسے پکڑ پکڑ کر تصاویر بنوائیں…… سوائے ہمارے میزبان شوکت علی صاحب کے۔
ہماری لیے تو یہ ایک وکھری ٹائپ کی چیز تھی، مگر ان کے لیے شاید یہ کوئی انوکھی چیز نہیں تھی۔ بقولِ شوکت علی صاحب: ’’ہم اسے مذاق مذاق میں ’’تش کدو‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔‘‘
انھوں نے آگے یہ صراحت بھی کی کہ ’’تش کدو پشتو میں اُس شخص کو کہتے ہیں جو بور شخصیت کا حامل اور پھیکا مزاج رکھتا ہو۔‘‘
ڈاکٹر شاہد صاحب نے جب اس کدو شریف کے پک کر لذیذ ذایقہ ہونے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے، تو ہم نے سوچا کہ کیوں نا اسے خرید کر ساتھ لے جائیں۔ اور واپس گھر پہنچ کر پکا پکا کر، سواد لے لے کر کھائیں!
اُس بچے کے پاس کل چار پانچ عدد کدو تھے، جو ہم نے خرید لیے۔ ارشاد انجم کی رگِ خریداری پھڑک اُٹھی…… اور وہ اُس بچے سے کہنے لگا کہ مجھے بھی ایسے لم ڈھینگ کدو لا کر دو ورنہ میں رو دوں گا۔ چناں چہ وہ بچہ دوڑتا ہوا نیچے کی جانب اتر گیا اور پاس ہی چھوٹے کھیت میں اُگائی کدو بیل سے دو عدد توڑ کر لے آیا۔ انھیں دیکھ کر ارشاد یوں خوش ہوا جیسے اُسے کسی ساتویں سے اُترا من و سلوا مل گیا ہو۔
وائٹ پیلس پہنچے، تو وہاں پر لوگوں کا بہت رش تھا۔ پیلس کے عین سامنے ایک چھوٹی سی پارکنگ پلیس تھی۔ جو پہلی ہی گاڑیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ خیر آہستہ آہستہ بچتے بچاتے، کھسکتے کھسکاتے ڈاکٹر شاہد صاحب گاڑی کو چنار کے ایک بڑے درخت کے نیچے ایک محفوظ جگہ پر پارک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم ٹکٹیں خرید کر پیلس تک جا پہنچے۔ جسے اب کسی ہوٹل میں کنورٹ کر دیا گیا ہے۔ محل کے برامدے اور کمروں میں میز کرسیاں اور صوفے لوگوں کے بیٹھنے کے لیے جوڑ کر رکھے ہوئے تھے۔ ہوٹل کے مین گیٹ کے اِرد گرد بنی دیوار پر بہت سی نادر اور تاریخی تصاویر آویزاں کی گئی تھیں، جنھیں ایک ایک کر کے دیکھتے ہوئے ہم اندر داخل ہوئے، تو اُس سے آگے صحن میں پڑی زیادہ تر کرسیاں، سوائے اِکی دُکی کرسی کے، خالی پڑی تھیں۔
پھر پتا چلا کہ ایک ٹکٹ کے بدلے یہاں پر جوس کا ایک پیکٹ مل رہا ہے، تو ہم نے ٹکٹیں دکھا کر ان کے بدلے جوس کے پیکٹ لے کر پیے۔ ابو مسعود اشرف کہنے لگا کہ مَیں تو اس جوس کے ڈبے کو یوں نہیں پھینکوں گا۔ چناں چہ اس نے جوس کا ڈبہ زمین پر رکھ کر اس پر زور سے پیر مارا…… جس کی وجہ سے ٹھاہ کی آواز آئی۔ ’’موگیمبو خوش ہوا۔‘‘ اور پھر اُسے اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ’’اِسے کہتے ہیں گجر دا کھڑاک۔‘‘ شام کے دھندلکے پھیلنے لگے۔ ہمارے پاس وقت کم تھا۔ لہٰذا گاڑی سٹارٹ کر کے واپس ہولیے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔