ہماری کئی ثقافتی اور سماجی روایات پر بعض لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ ایسی کئی روایات جو ہماری نہیں ہیں، پر تنقید بھی بنتی ہے اور ان سے گھن بھی آتی ہے…… مگر جو حضرات (حضرات اس لیے کہ ہمارے ہاں روایات اور غیرت بلکہ سارے سماجی و سیاسی معاملات کا اختیار صرف حضرات ہی کو حاصل ہے) ایسی روایات پر سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ ان کی عقابی نگاہوں سے کئی ایسی ناسور قسم کی روایات مخفی رہتی ہیں۔ مثلاً: ہمارے ہاں لوگ عموماً امیروں کے غم میں زیادہ شرکت کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں…… جب کہ غریبوں کے غم کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
زبیر توروالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/zubair-torwali/
مرد کے جنازے میں لوگوں کی شرکت عورت کے جنازے میں شرکت سے زیادہ ہوتی ہے۔ غیرت کے نام پر صرف عورت کا پیچھا قبر تک کیا جاتا ہے۔ مرد کسی عورت سے ’’غیرت کا معاملہ‘‘ کرے، تو اس پر اترایا جاتا ہے اور لوگ فخر بھی کرتے ہیں۔
اس طرح زمین پر خاندانوں، قبایل اور گاؤں گاؤں کی لڑائیاں دہائیوں تک جاری رہتی ہیں۔
گھر میں، محلے میں، گاؤں میں، شہر میں اور بازار میں غیرت صرف عورت کے گرد گھومتی ہے۔
جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو، تو خوشی سے زیادہ غم کا ماحول ہوتا ہے…… جب کہ بیٹے کی پیدایش پر ہوائی فائرنگ تک کی جاتی ہے۔
جائیداد اور مال میں صرف بیٹے کا حق ہوتا ہے جب کہ بیٹی کو شادی کے وقت کچھ فرنیچر وغیرہ دے کے جان چھڑائی جاتی ہے، اور اب اس پر بھی یار لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں۔
سادہ کھانوں کی جگہ ’’بوفے‘‘ اور فائیو سٹار ہوٹلوں کا کھانا ولیمے کی دعوت کے وقت دیا جاتا ہے۔
جنگلات اور بانڈہ جات کی رائلٹی/ دوتر صرف مردوں کے حساب سے تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ روایت کالام کے علاقے میں بہت قدیم ہے۔
باہر کے لوگوں کے لیے اپنوں کی مخبری کی جاتی ہے۔ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نفرت ہی نہیں بلکہ مخالف کو نیست و نابود کرنے کی ٹھانی جاتی ہے۔
اپنے ہی بزرگوں کو گالی دینا اور ان کو علاقے کی پس ماندگی کا ذمے دار ٹھہرانا روایت بن چکا ہے۔
اپنی زبان اور ثقافت پر شرم محسوس کرنا اور ان کو دوسروں کے آگے پیش کرنے پر شرمندہ ہونا غیرت بن چکا ہے۔
فوج کی کمان سنبھالنے والوں کی فہرست پر ایک نظر:
https://lafzuna.com/blog/s-30269/
گندے اور میلے رہنے سے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی…… بلکہ جو غریب صاف ستھرا رہے، اس پر شک کیا جاتا ہے…… جس کے پاس گاڑی ہو یا اچھا کاروبار ہو، اس پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
نان گورنمنٹ آرگنائزیشن (این جی اُو) نامی سماجی تنظیموں کو گالی بنادیا جاتا ہے، تاہم ان ہی ’’این جی اُوز‘‘ سے راشن لیتے وقت کوئی غیرت نہیں جاگتی۔
سڑک پر گاڑی چلاتے وقت کسی اُصول کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ پیدل جانے والے تو ان گاڑی والوں کو چیونٹیاں لگتے ہیں۔
اپنے بھائی، چاچا، گاؤں والوں اور ہم پیشہ افراد سے حسد، نفسیات میں شامل ہوچکا ہے۔
لوگوں کو ان کے کپڑوں، حسب، نسب، جاب، حلیہ، سر کے بال، موچھ، چال ڈھال غرض ہر چیز پر جج کیا جاتا ہے۔
جو لڑکا صاف ستھرا رہے، خوب رو ہو، فیشن کے مطابق چلتا ہو، اس کو بدکردار ہی سمجھا جاتا ہے…… اور اگر کوئی لڑکی ایسی ہو، تو بدکردار ہی نہیں بلکہ اس سے بھی بدتر سمجھی جاتی ہے۔
جو قبیلہ یا قوم اگر کچھ جدید طرز اپنائے، اس کو دوسری قوم بے شرم، بے وقعت اور بے حیا سمجھتی ہے۔
مجال ہے جو ذکرشدہ روایات پر کسی کو کوئی رنج ہو…… بلکہ ان پر اِترا کر ایک معروف رومانوی شاعر کی جذباتی شاعری کو اپنے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ واہ……!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔