قارئین! آئیے آج پاک فوج کی کمان کرنے والوں کی فہرست پر نظر ڈالتے ہیں:
1972ء میں تعینات ہونے والے جنرل ٹکا خان کی سربراہی سے قبل آرمی چیف کا عہدہ کمانڈر ان چیف کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1947ء تا 1972ء پاک آرمی کے چھے کمانڈر اِن چیف رہے۔
ملک کے سب سے پہلے کمانڈر اِن چیف کا نام جنرل سر فرینک میسروی تھا۔
دوسرے کمانڈر اِن چیف جنرل ڈگلس گریسی نے 1948ء تا اپریل 1951ء اپنی ذمے داریاں نبھائیں۔
1951ء میں تعینات ہونے والے جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فور اسٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔
1958ء میں تعینات ہونے والے کمانڈر اِن چیف جنرل موسیٰ خان 8 سال تک تعینات رہے۔
ملک کے پانچویں آرمی چیف جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر 1966 تا 20 دسمبر 1971ء ملک کے سپہ سالار رہے۔
چھٹے کمانڈر اِن چیف جنرل گل حسن خان قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت ایک سال کے لیے فوجی سربراہ بننے والی شخصیت تھے، جو 20 دسمبر 1971 تا 2 مارچ 1972ء فوجی سربراہ رہے، جب کہ نئے آنے والے آرمی چیف جنرل ٹکا خان 3 مارچ 1972ء تا یکم مارچ 1976ء اس عہدے پر رہے۔
یکم مارچ 1976ء کو جنرل ضیاء الحق کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف تعینات کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 5 مئی 1977ء کو مارشل لا لگایا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جنرل ضیا نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے یعنی 11 سال سے زاید تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالے رکھا۔
17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ ملک کے 9ویں آرمی چیف بنے۔ انھوں نے اگست 1988 تا اگست 1991ء اپنی ذمے داریاں نبھائیں۔
اس کے بعد جنرل آصف نواز کو 16 اگست 1991ء کو آرمی چیف تعینات کیا گیا۔ انھوں نے جنوری 1993ء تک اپنی ذمے داریاں نبھائیں۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ 1993ء تا جنوری 1996ء آرمی چیف تعینات رہے۔
12ویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت جنوری 1996ء تا 1998ء نشست پر براجماں رہے۔
13ویں آرمی چیف پرویز مشرف اکتوبر 1998ء تا نومبر 2007ء پاک فوج کے سربراہ رہے۔
اس کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی 2007ء تا نومبر 2013ء فوج کے سپہ سالار رہے۔
جنرل کیانی کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے نومبر 2013ء تا نومبر 2016ء فرایض انجام دیے۔
ملک کے 16 ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ نومبر 2016ء کو سنبھالا تھا، جو 29 نومبر 2022ء تک آرمی چیف رہے۔
پاکستانی عوام کو نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر احمد سے ڈھیر ساری امیدیں ہیں کہ ملک کے چوروں کا احتساب کرکے لوٹا ہوا پیسا واپس دلائیں گے، تاکہ پاکستان خوش حالی کی منزل پر آگے کا سفر جاری رکھ سکے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔