قائدانہ صلاحیتیں جاپان سے سیکھیں

قائدانہ صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں ہیں، جو ریاستی اداروں، انتظامی امور، سفارتی و بین الاقوامی تعلقات اور ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بناسکیں۔ ریاستی ترجیحات کا بروقت تعین کرنا، فوری فیصلہ سازی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی دباو کے وقت پُرسکون رہنا، قائدانہ صلاحیتوں کا […]
تاریخ کی موت…؟

کسی قوم کے بارے میں یہ جاننے کا ایک غیر معمولی طریقہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتی ہے۔ قومی تقریریں بدل سکتی ہیں، سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اخبارات کے اداریے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سکول کی کتاب میں درج ایک واقعہ کئی نسلوں کے ذہن میں اس […]
لوڈشیڈنگ: بحران یا کسی منصوبے کی بنیاد؟

لوڈشیڈنگ کے ذریعے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اگر محض بجلی کی قلت کا نتیجہ نہیں، بل کہ کسی بڑے منصوبے کی بنیاد ہو، تو یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کرلیتا ہے کہ آخر اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی […]
اصلاح حکومت نہیں، رویے بدلنے سے ممکن ہے

ہم جس بدبودار نظام میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کی بدبو صرف آج کی پیداوار نہیں۔ یہ تقریباً 80 سال کے جمع شدہ گند کا نتیجہ ہے۔ اس گندگی کو کسی ایک حکومت، ایک ادارے، ایک سیاسی جماعت یا چند افراد کے سر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ […]
قوم، نسل: شناخت کا سائنسی و تاریخی تصور

یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟ کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم […]
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

ہمارے ہاں صدیوں سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، یا کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو، تو لوگ مشترکہ طور پر اس سے نمٹتے ہیں۔ سیلاب میں لوگوں کی جانیں بچا کر انھیں محفوظ مقامات تک پہنچانا، مال مویشیوں اور گھریلو سامان کو بھی نکال […]
آریا نسل… تاریخ، حقیقت یا افسانہ؟

دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اصطلاح ’’آریا‘‘ جتنی غلط سمجھی گئی ہو۔ ایک طرف اسے برتری، طاقت اور خالص نسل کی علامت بنایا گیا، تو دوسری طرف اسے مختلف قوموں کی شناخت کا پیمانہ سمجھا گیا… مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی ’’آریا نسل‘‘ اور ’’غیر آریا نسل‘‘ موجود […]
امتحانی اصلاحات یا انتظامی تجربات؟

تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، لیکن ہر اصلاح کی کام یابی کا معیار اس کے نتائج ہوتے ہیں۔ حالیہ بورڈ امتحانات میں کیے گئے بعض انتظامی تجربات نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کے ذہنوں میں کئی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں، جن کے جواب دینا متعلقہ حکام کی ذمے داری […]
صاحب زادہ فاروق جان، علم و اخلاص کا پیکر

یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے […]
دہشت گردی سے بڑا مسئلہ…!

کیا ہمارے صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ صرف دہشت گردی ہے؟کیا کبھی ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور ہمارے اپنے لوگ ذاتی دشمنیوں، معمولی تنازعات، زمین کے جھگڑوں، چوری، غیرت، انا اور بندوق کے بے دریغ استعمال سے ایک دوسرے کو کتنی […]
مکہ معاہدہ: طاقت کا نیا محور؟

رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، […]
یووال نوح ہراری کی سیپئنز کا جائزہ

انسان یا دنیا کی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ بنیادی سوال کوئی نہیں کہ انسان آخر انسان کیسے بنا؟ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے، جہاں ایک معمولی سا حیوان، جو کبھی خود کئی دوسری انسانی انواع کے درمیان محض ایک کم زور نوع تھا، آج پوری زمین کے ماحول، معیشت، سیاست، جنگ، ٹیکنالوجی اور حتیٰ […]
ڈاکٹر سلطان روم کی علمی و ادبی خدمات

ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بین الاقوامی سطح کے معروف اور تسلیم شدہ محقق و مورخ ہیں۔ انگریزی، اُردو اور پشتو میں 8 تحقیقی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 4 کتابیں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ ہیں۔ اس طرح 4 تحقیقی مونوگراف لکھے ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ان […]
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل…. (آخری قسط)

’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ کی خصوصیات:کتاب کے ابتدائی بتیس (32) صفحات، جن پر صفحہ نمبر درج نہیں، مقدماتی اور تعارفی مواد پر مشتمل ہیں:صفحہ 1 اور 2 پر اشاعتی معلومات (Print Line Information) درج ہیں۔ صفحہ 3 پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر کیا گیا ہے۔ صفحہ 4 کتاب کے اشاعتی معیار کے مطابق […]
عمر خیام کا فکری سفر

سوچیں کہ نیشاپور ایران کی کسی خاموش رات میں جب آسمان پر تارے پوری جگ مگ جگ مگ کر رہے ہوں گے، تو شاید ایک شخص اُن ستاروں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوگا کہ انسان آخر اس وسیع کائنات میں ہے کہاں…؟ اسی شہر میں، تقریباً ایک ہزار برس پہلے، ایک ایسا ذہن […]
پروفیسر احمد حسن دانی، لیگسی کا سوال

پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کے نام ور دانش ور مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی ’’اکیڈیمک لیگسی‘‘ کے حوالے سے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ اس ضمن میں، مَیں اپنی تاریخ شناسی کی تحقیق کی روشنی میں اپنا ہی نکتۂ نظر پیش کرنے جا رہا ہوں۔لیگسی (Legacy) ایک […]
یہ شور ہے یا چیخ…؟

یومِ آزادی آتے ہی گلی کوچوں، بازاروں اور شاہ راہوں پر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ایک اور چیز بھی پوری آب و تاب سے نمودار ہوتی ہے: باجا! اور ایسا ویسا باجا بھی نہیں، بل کہ ایسے باجے جن کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ صبح ہو یا شام، […]
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا علمی و تحقیقی مقام

’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا پشتو زبان میں ایک وقیع اور جامع تحقیقی مقالہ ہے، جس میں سولھویں صدی سے لے کر 2012ء تک پانچ صدیوں پر محیط سوات میں مختلف ادوار میں پروان چڑھنے والے پشتو ادب، ادبی تحریکات، ثقافت، تہذیب، لوک ادب، علمی شخصیات، شعر و نثر کے […]
پاپین خیل میاں گان (آخری حصہ)

محمد طاہر بن دریخان کی اولاد:محمد طاہر کے چار بیٹے تھے: یار محمد، محمد فاضل، دوست محمد اور علی محمد۔ یار محمد پاپینی:۔ یار محمد پاپینی، پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد پاپین (دھبالا اولسوالی)، حصارک، رودات اولسوالی، کیلغو اور میاں کلے، خوگیانو اولسوالی میں آباد ہے، جب کہ ان کے دو بیٹوں، عبدالرحمان […]
ملم جبہ کے بعد کبل گراونڈ…؟

عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تفریحی مقامات تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا کسی بھی فلاحی اور جمہوری ریاست کی اولین اور بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ مہذب دنیا کی اگر بات کی جائے، تو وہاں حکومتوں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ […]
پاپین خیل میاں گان (پانچواں حصہ)

ریاستِ سوات میں بونیر کا انضمام اور پاپین خیل کا کردار:۔1926ء میں جب ریاستِ سوات کی توسیع کا فیصلہ ہوا، تو بادشاہ صاحب نے بونیر میں کچھ سرکاری اہل کار بھیجے، تاکہ وہاں چوکیاں قائم کی جائیں۔ اہلِ بونیر نے سوات سے آئے ہوئے سرکاری ملازمین کو قتل کر دیا۔ اُس وقت نجیگرام کی ایک پاپینی […]