دنیا میں سب سے زیادہ چرائی جانے والی کتاب

جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ چوری ہونے والی کتاب کون سی ہے؟ "Facts Verse” نامی فیس بک کے صفحے کے مطابق "Guinness Book of World Records” دنیا میں سب سے زیادہ چرائی جانے والی کتاب ہے۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے ڈیٹا دنیا بھر کی لائبریریوں سے اکھٹا گیا ہے۔ (یہ تحریر […]
کالی ماتا، ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار

تحریر: حنظلہ خلیق ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار دیوی کالی ماتا کا ہے۔ اس کے دوسرے نام ’’گوری‘‘، ’’پاروتی/ پاربتی‘‘، ’’ستی‘‘ اور ’’درگا‘‘ بھی ہیں۔ تریمورتی کے تین دیوتا میں سے یہ شیوا (مہادیو/ شنکر) کی بیوی ہے۔ اسے دیوی ماں کَہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ کالی دیوی طاقت، ہمت، جنسی جذبے، […]
ڈپٹی وزیرِ اعظم کا تقرر، پسِ پردہ حقائق

قارئینِ کرام! عید سے ایک ہفتہ قبل 3 اپریل کو مَیں اپنے کالم بہ عنوان ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ میں پیش گوئی کرچکا ہوں کہ عید کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہوجائے گی۔ اسی کالم میں، مَیں نے جناب اسحاق ڈار کے ڈپٹی وزیرِ اعظم بننے کی پیش گوئی بھی کی […]
خیبر پختونخوا کے سینما گھر کیوں بند ہوئے؟

پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں […]
پبلک لائف

1942ء میں جب کانگرسی اصحاب کے ساتھ راقم الحروف بھی نظر بند کر دیا گیا، تو جیل میں سوائے کتابیں پڑھنے کے دوسرا کوئی کام نہ تھا۔ تو دہلی کے ایک کانگرسی بزرگ شری برج کرشن جی چاندی والا (جو مہاتما گاندھی کے سچے بھگت اور جو غالباً دہلی کے تمام کانگریسیوں سے زیادہ نیک […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
ناول ’’اندھیرے میں‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عمر خان رابندر ناتھ ٹیگور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اُن کا شہرہ آفاق ناول ’’ٹھاکرانی کی ہاٹ‘‘ ٹیگور کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، جس کا اُردو ترجمہ پرتھوی راج نشتر نے ’’اندھیرے میں‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا […]
مریم نواز اور تتے توے پر جلتی مخلوق

ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون، ملک معراج خالد، غلام مصطفی کھر، محمد حنیف رامے ، میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف، منظور احمد وٹو، چوہدری پرویز الٰہی جیسی نامی گرامی قد آور شخصیات نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر راج کیا۔ پھر پنجاب کی تاریخ میں اِک ایسا سنہری دور […]
حاجی امیر خان (مرحوم) ولد باجوڑے پاچا

فلاحی ریاستِ سوات باچا صاحب (مرحوم) اور والی صاحب (مرحوم) کی لیڈر شپ میں واقعی اعلا مثالیں قائم کر رہی تھی۔ ہر نسلی گروپ اور قوم کے افراد نے ریاست کی کام یابی میں تن من دھن کی قربان دی۔ ’’یوسف زئی ریاستِ سوات‘‘ کے نام سے قائم ریاست میں قدرے نئے شہری یوسف زو […]
جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگ

تحریر: دیوان سنگھ مفتون میرے ایک مسلمان دوست کو ایک لڑکی سے محبت تھی۔ دونوں شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔ وہ اُس لڑکی کے گھر والوں سے بات کرنے ساتھ مجھے بھی لے گیا۔ اُس لڑکی کی والدہ میرے پاس بیٹھیں۔ گھاس پر فرش بچھا تھا۔ لوگ مجھے باعزت صحافی خیال کرتے تھے۔ مَیں نے […]
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان اور امریکی خفگی کی اصل وجوہات

ایران کے صدر جناب ابراہیم رئیسی پاکستان کا کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں بعد کسی ایرانی سربراہِ مملکت کا پاکستان کا دورہ تھا، جس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری برقرار رہی ہے۔ اس دورے […]
آصفہ بھٹو زرداری

مَیں یہ کالم گذشتہ کالم کی جگہ لکھنا چاہتا تھا، لیکن نہ لکھ سکا اور مَیں نے اس کی وجوہات بھی اپنے گذشتہ کالم میں درج کر دی تھیں۔ بہ ہرحال بہ ظاہر آصفہ بی بی پر ایک مکمل کالم لکھنا اس وجہ سے بھی مشکل ہے کہ ابھی تک آصفہ کی پہچان فقط بلاول […]
ریاست ماں ہے، مگر سگی یا سوتیلی؟

ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے…… مگر جیسے یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ کون سے بھائی ہو…… ہابیل یا قابیل؟ ٹھیک اسی طرح ریاست کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ کون سی ماں ہے…… ’’سگی‘‘ یا ’’سوتیلی‘‘؟ یادش بہ خیر، میاں محمد نواز شریف کی مرکز میں حکومت تھی اور پی ٹی آئی […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا استحصال

اطلاعات ہیں کہ مالی خسارے کے باعث نئے مالی سال 2024، 25ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے، تاہم شدید مجبوری کے عالم میں 5 تا 10 فی صد اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے […]
محمد کاظم، ادب کا چھپا رُستم

تحریر: اسلم ملک انجینئرنگ کے ایک طالب علم نے اپنے طور پر عربی پڑھی اور اتنی مہارت حاصل کرلی کہ مولانا مودودی کی چھے کتابوں کا ترجمہ کر ڈالا۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کے ترجمے کی بات چلی، تو عربوں تک نے اصرار کیا کہ ترجمہ ’’محمد کاظم‘‘ ہی سے کرائیں۔ محمد کاظم نے مڈل کلاسوں میں […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]
اہلِ حاجی بابا سیرئی کا ڈی پی اُو سوات کے نام کھلا خط

محترم ڈاکٹر زاہد اللہ خان ڈی پی اُو سوات، السلام علیکم! اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔ سرِ دست ہم اہلِ حاجی بابا سیرئی آپ کو سوات میں چارج سنبھالنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی توجہ اپنے محلے اور علاقے کو درپیش چند مسائل کی طرف مذکورہ […]
پشتو فلموں میں فحاشی و عریانی کیسے در آئی؟

مشہور قول ہے کہ اگر برائی نہ ہوتی، تو اچھائی کا اندازہ کیسے ہوتا……! اچھائی اور برائی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس طرح پشتو فلموں میں بھی وقت کے ساتھ ایسے لوگ آئے، جن کا مقصد پشتون تہذیب و ثقافت کی فروغ کی بجائے مال بنانا تھا۔ پیسے کے لالچ میں وہ اس قدر اندھے […]
ہماری دھرتی، نام اور تقسیم

موجودہ بحرین کے جنوب میں اوپر پہاڑی پر ایک گاؤں ہے اور اب بھی کافی حد تک قدیم داردی گاؤں کی صورت میں موجود ہے۔ اُس کو توروالی میں ’’پُران گام‘‘، پشتو میں ترجمہ کرکے ’’زوڑ کلے‘‘ اور اُردو میں ’’پرانا گاؤں‘‘ کہتے ہیں۔ ’’پُران گام‘‘ کے نام سے اس گاؤں کا ہونا اس بات […]