پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔
مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں پیدا کیں۔ یہ شناختیں مذہبی بنیادوں پہ تھیں۔ اس لیے اس خطے کی تاریخ، تمدن اور تہذیب کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔
حمزہ نگار کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/hamza/
انڈین نیشنلسٹ کے لیے پاکستان کا قیام تقسیمِ ہند تھا۔ بائیں بازو کے ریڈیکلز کے نزدیک جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے بیچ ایک بفر ریاست کا قیام تھا۔ کچھ سکالر انگریزوں کو دوش دیتے ہیں کہ ان کی "Divide and rule” پالیسی نے پاکستان بنانے کی راہ ہم وار کی۔
ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ پنجاب کے جاگیردار بھی پاکستان بننے کے حامی تھے۔ کیوں کہ آزاد ہندوستان میں جاگیرداری کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بھی بیشتر وجوہات ہیں جیسے کہ لسانی اور مذہبی مسائل اور لیاقت علی خان کی بہ طورِ وزیرِ خزانہ پالیسیاں (1946ء) جس کے بعد ہندو تاجر متحدہ ہندوستان کو بھلا بیٹھے تھے۔ ان وجوہات میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل معاشی نقطۂ نظر ہے، جس نے ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
1946ء میں کابینہ مشن پلان سامنے آیا، جس کو مسلم لیگ نے تسلیم اور کانگریس نے مسترد کیا۔ یہ پلان متحدہ ہندوستان کے لیے آخری آئینی تجویز تھا۔ اس پلان کے تحت دفاع، خارجہ پالیسی، مواصلات اور کرنسی وفاقی حکومت کی نگرانی میں ہونا تھی اور باقی اختیارات صوبوں کو ملنا تھے۔ نہرو سوشلسٹ نظریات کا حامی تھا۔ وہ طاقت کو صوبوں کو منتقل کرنے پہ راضی نہیں تھا۔
مسلم لیگ کی صوبوں کو اختیارات دینے کے پیچھے وجہ پچھلے کئی دہائیوں کے مسلمانوں کے کم نمایندہ تناسب اور امتیازی سلوک تھی۔ صوبہ سندھ میں مسلمان آبادی 88 فی صد لیکن سرکاری نوکریوں میں تناسب 12 فی صد تھی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
وسائل کی منصفانہ تقسیم  
کامریڈ رسول بخش پلیجو  
آئین کو ریوائز کرنے کی اشد ضرورت ہے  
پاکستان بننا "Constitutional disagreement” کا نتیجہ ہے۔ اپنے قیام کے 9 سال بعد پاکستان کو آئین ملا، جو جلد ہی منسوخ کردیا گیا۔ صوبائی خود مختاری نہ ملنے کی وجہ سے ملک کا اکثریت پر مشتمل حصہ اقلیت سے الگ ہوگیا۔ صوبائی خودمختاری نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ جمہوری عمل متاثر ہونا ہے، جس کی وجہ سے طاقت وفاق کو ملی اور صوبے ڈیلیور نہ کرسکے۔ اسی دوران میں چھوٹے صوبوں سے آوازیں بھی بلند ہوئیں جیسے کہ ’’سندھ میں ہوگا کیسے گزارا، آدھا ہمارا آدھا تمھارا‘‘ اور پختونخواہ میں ’’خپلہ خاورہ خپل اختیار‘‘ چھوٹے صوبوں کی یہ مزاحمت رنگ لے آئی اور 2010ء میں 18 ویں آئینی ترمیم سے صوبوں کو اُن کے حقوق مل گئے۔
ہندوستان نے بھی طاقت منتقل کرنے کا راستہ اپنایا اور بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پہ تقسیم کیا۔ جیسے بہار سے جھاڑکھنڈ، اُتر پردیش سے اُتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ نکلا۔ صوبوں کو انتظامی بنیادوں پہ تقسیم کرنے کا فایدہ یہ ہوا کہ دور دراز علاقوں میں پھیلا احساسِ محرومی ختم ہوگیا۔ کارگردگی کی بنیاد پہ ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کئی سالوں سے کیرالہ میں اور ’’ڈریویڈین پارٹی‘‘ تامل ناڈو میں برسرِ اقتدار ہے۔ مقامی سطح پہ ہندوستان کی خاتون وزرائے اعلا نے برسوں اپنی ریاستوں پہ حکم رانی کی ہے، جن میں دہلی کے شیلہ ڈکشٹ، بنگال کی ممتا بینر جی اور تامل ناڈو کی جیا للتا سرفہرست ہیں۔ وفاقی اکائیوں نے ہندوستانی ریاست کو مضبوط کیا ہے۔
قارئین! سوویت یونین اور چائنیز سوشلزم میں بنیادی فرق طاقت کی تقسیم کا ہے۔ پاور سنٹریلائزیشن کے باوجود چائنیز سوشلزم نے طاقت نیچے تک منتقل کی۔ وِلیج لیول تک انتظامی اُمور منتقل کرنے سے وفاق پہ بوجھ اور تنقید کم ہوتی ہے۔ سوویت یونین میں سنٹر کے اوپر صوبوں/ یونٹس کا بوجھ زیادہ تھا۔ اس لیے اندر سے کم زور ہوتا چلا گیا۔
افغانستان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے، جہاں کئی برس سے شمالی اتحاد (غیر پشتون) طاقت کی تقسیم چاہتا ہے۔اسی وجہ سے پشتون اور باقی قومیتوں میں ایک سیاسی خلیج پائی جاتی ہے۔
18ویں آئینی ترمیم سے پاکستان نیم صدارتی سے پارلیمانی جمہوریت بن گیا۔ پختونوں کو 60 سال بعد شناخت ملی۔ صوبے کا نام سرحد سے خیبر پختونخوا بن گیا اور تیسری دفعہ وزیرِ اعظم بننے کی پابندی ختم ہوگئی۔
پاکستان میں طویل مارشل لا ادوار کی وجہ سے صوبوں کو اختیارات نہیں ملے، بلکہ ’’وَن یونٹ‘‘ نے طاقت کی تقسیم کو اور روکا، جس سے ملک کی وفاقی اکائیوں میں احساسِ محرومی بڑھتا چلی گیا۔
18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی کارگردگی کا موازنہ وفاق سے کیا جائے، تو صوبے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ 18ویں ترمیم سے پہلے جتنی صوبائی حکومتیں آئیں، اُن کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی، جس کی اکلوتی وجہ ’’طاقت کا محور صرف وفاق‘‘ تھا۔ پختونخوا کے کم لوگ جانتے ہوں گے کہ یہاں پیر صابر شاہ اور مہتاب عباسی بھی کبھی وزیرِاعلا تھے۔ خود میاں نواز شریف بہ طورِ وزیرِ اعلا پنجاب کوئی قابلِ ذکر کام اپنے صوبے کے لیے نہ کرسکے، لیکن جوں ہی صوبوں کو خود مختاری ملی پنجاب اور پختون خوا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے۔ میٹرو اور اورنج لائن بھی صوبائی حکومت کے کام ہیں۔
صوبائی خودمختاری اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں ایک قوم نہیں بلکہ چار بڑی قومیتیں ہیں۔ یہ قومیتیں اپنی آبادی کے اعتبار سے پڑوسی ملکوں میں آباد پختون (افغانستان) پنجابی (بھارت)، سندھی (راجھستان، بھارت) اور بلوچ (ایران) سے بڑے ہیں۔ ان قومیتوں کو اختیار دینے سے یہاں احساسِ محرومی کم ہوگا اور وفاق کے ساتھ باہمی تعاون کے رشتے پر ملک آگے بڑگے گا۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد 18 ویں ترمیم کو ’’رُول بیک‘‘ کرنے کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ اگر ایسا کیا گیا، تو ہم وہاں کھڑے ہوں گے، جہاں 1973ء کے آئین سے پہلے تھے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔