بگاڑ کے خلاف بولیں اور امید قائم رکھیں

وطن سے محبت ایک ایسی محبت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں۔ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اپنے وطن کی مٹی، اپنے لوگوں، اپنی زبان اور اپنی پہچان کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ وطن کی محبت انسان کے دل میں خود بہ خود پیدا ہوتی ہے۔ اس محبت کے لیے […]
تعلیمی نج کاری یا ایک نسل کی تباہی؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ وہ بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی ریاست کے وجود کا اولین جواز اور اس کی آئینی ذمے داری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ’’25-اے‘‘ واضح طور پر ریاست کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 […]
بجٹ… ایک ریاست دو دستور

بجٹ کا موسم آتے ہی ایوانوں کی رونقیں اور غریب کے چولھے کی سردی، دونوں ہی اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ رواں مہینے کی پانچ تاریخ (5 جون) کو سالانہ بجٹ پیش کیا جانے والا ہے، لیکن اس کی آمد سے قبل ہی جو خبریں اور فیصلے سامنے آ رہے ہیں، وہ غریب سرکاری […]
ایک خاموش سماجی دھماکا

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان صرف آبادی کا ایک حصہ نہیں، بل کہ ریاست کی فکری، معاشی، سائنسی اور دفاعی قوت کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان تعلیم، روزگار، راہ نمائی اور امید سے محروم ہو جائیں، […]
حکم رانوں کی کام یابی عوامی خوش حالی سے مشروط

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا بین الاقوامی تشخص پہلے کی نسبت بہتر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی […]
قومی سلامتی، سیاسی مصلحتیں اور خطرناک خاموشی

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے؟ محض ایک بیان نہیں، بل کہ قومی سلامتی پر بہ راہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے…… اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں […]
ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں قوموں کے درمیان تعلقات کی بنیاد معاہدوں پر رکھی جاتی ہے۔ دفاعی معاہدے، تجارتی سمجھوتے، دوستی کے چارٹر اور سفارتی وعدے …… سب کچھ ایک اُصول پر قائم ہوتا ہے:’’باہمی اعتماد اور ذمے داری کا احساس۔‘‘دنیا بھر میں ممالک باہم اپنے مفادات، عزت، سلامتی اور مستقبل […]
ڈوبتا پاکستان، جاگتی حقیقت

سائنس کہتی ہے کہ ’’پانی کا ہونا زندگی ہے اور نہ ہونا موت……! ‘‘لیکن اگر یہی پانی سیلاب کی صورت اختیار کرلے، تو دنیا کے لیے تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ سیلاب انسانی بستیوں کو روندتے ہوئے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے ہیں، انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں، مال مویشی، فصلات […]
’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘، سیلاب کے نئے نام

اگرچہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن یہ اُن گنے چنے ممالک میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، ہزاروں زندگیاں […]
تعلیمی اصلاحات یا بیوروکریسی کی افزایش؟

پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی چیز مستقل ہے، تو وہ ہے ’’نازک موڑ‘‘۔ ملک کبھی معیشت کے نازک موڑ پر پسینہ پونچھتا ہے، توکبھی سیاست کے نازک موڑ پر اندھی گلیوں میں بھٹکتا ہے…… اور کبھی خارجہ پالیسی کے نازک موڑ کے کچے گھاٹ پر پاؤں ٹٹولتا ہے، جب کہ تعلیم ہمیشہ ہر نازک […]
بین الاقوامی تعلقات کی شطرنج، جیت کس کی؟

خود ساختہ عالمی تھانے دار، امریکہ کے صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے پاکستان کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان میں تیل کی تلاش کے لیے ایک امریکی کمپنی کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ اور کون جانے، کسی دن پاکستان، بھارت کو ہی تیل بیچنے لگے۔‘‘ٍیہ ٹرمپ کے […]
باقی دنیا اور ہماری ترجیحات کا فرق

اکیڈمی آف مینجمنٹ کی سالانہ کانفرنس امسال ’’کوپن ہیگن، ڈنمارک‘‘ میں منعقد ہوئی۔ ہمارے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ’’سویڈش سینٹر فار ڈیجیٹل انو ویشن‘‘ (Swedish center for digital innovation) کی طرف سے ایک ورک شاپ اس کانفرنس میں منعقد کی گئی، جہاں دنیا بھر سے تحقیق کاروں کو "Twin transition” پر سیشن ڈیلیور کیے گئے۔میں اصل […]
خیبر تا گوادر: امن کا سورج کیسے طلوع ہوگا؟

جمعہ کو باجوڑ میں مولانا خانزیب شہید کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اگرچہ شرکائے جنازہ کی تعداد لاکھوں میں نہ سہی، تو ہزاروں میں تو ضرور تھی۔ اس موقع پر مقررین کی تقاریر میں غصہ اور مایوسی نمایاں تھی، لیکن افسوس کہ کوئی واضح لائحۂ عمل پیش نہ کیا گیا۔ یوں غم سے نڈھال […]
ماحولیاتی المیہ

دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر پھٹنے کے خطرات (GLOFs) اور مون سون کی شدید بارشوں کی پیشین گوئیوں کے ساتھ، پاکستان ایک اور ممکنہ سیلابی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ 26 جون سے اب تک، ملک میں اَن گنت قیمتی جانیں اچانک آنے والے سیلابوں اور مکانات کے منہدم ہونے کی وجہ سے ضائع ہو […]
تیری کرپشن ’کرپشن‘، میری کرپشن……!

ہمارے ہاں سیاسی وفاداری عقل کے نہیں، اندھے یقین کے در پر سر رکھے سجدہ ریز ہے۔ یہاں ’’اپنا لیڈر‘‘ دودھ کا دھلا اور دوسرا لیڈر کوئلے کی کان سے بھی سیاہ ہوتا ہے۔ انصاف کی ترازو میں اگر کوئی وزن ہے، تو صرف پارٹی لیڈر کا ہے۔ہمارے ملک میں سیاست نظریات کی بنیاد پر […]
بجٹ 2025-26ء: ریلیف یا مزید بوجھ؟

وفاقی بجٹ 2025-26ء کی آمد سے قبل ملک میں ایک مرتبہ پھر وہی روایتی ہل چل دیکھنے کو مل رہی ہے، جو ہر سال بجٹ سیزن سے قبل پیدا ہوتی ہے۔ بازاروں، دفاتر، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر عوامی گفت گو کا محور یہی سوال ہے کہ اس بار بجٹ میں کیا مہنگائی میں […]
پاک بھارت تناو: عالمی طاقتیں ثالث یا مفاد پرست؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیاد تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور سیاسی عوامل پر ہے ، جو قیامِ پاکستان کے وقت سے آج تک مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔یہ کشیدگی محض دو ہمسایہ ممالک کا مسئلہ نہیں، بل کہ ایک خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے بھی مستقل خطرہ بنی […]
اساتذہ کی بے توقیری کا دور

حالیہ دنوں میں تعلیمی میدان میں جو منظرنامہ ابھرا ہے، وہ نہایت افسوس ناک اور پریشان کن ہے۔ امتحانات کا مقصد صرف نمبروں کا حصول نہیں، بل کہ طلبہ کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور ان کی فکری تربیت کرنا ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے امتحانی نظام اس مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ […]
مہنگائی کی شرح میں کمی کے دعوؤں کا جائزہ

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف آئے دن مہنگائی کی شرح میں کمی کے جو دعوے کرتے ہیں، وہ اتنے غلط بھی نہیں۔ اس دعوے کے پیچھے دراصل حکومت کی ایسی باریک واردات ہوتی ہے، جسے سمجھنا عوام کے بس کی بات نہیں۔ اگر کل کلاں کو حکومت یہ دعوا کر دے کہ مہنگائی میں اضافے […]
پاک بھارت جنگ نہیں ہوگی

میرا خیال ہے کہ سنہ 1948ء، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے بعد پاک بھارت کشیدگی اِس وقت انتہا پر ہے۔ شاید اتنی تلخی سیاچن گلیشیر اور کارگل کے وقت بھی نہ تھی۔یہ بات تو طے ہے کہ یہ کشیدگی کسی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار نہیں کرے گی، نہ ایسا ہونا ہی چاہیے۔ کیوں […]
’’آن لائن جماعت‘‘ بنتی پی ٹی آئی

اڈیالہ روڈ، راولپنڈی کی ایک ایسی شاہ راہ ہے جسے عمومی طور پر ایک درمیانی درجے کی رابطہ سڑک سمجھا جاتا ہے، مگر جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے اعتبار سے اس کی حیثیت کسی مرکزی شاہ راہ سے کم نہیں۔ یہ سڑک نہ صرف راولپنڈی کے وسطی علاقوں کو دیہی پٹیوں سے جوڑتی ہے، بل […]