نور حنی گل، شاہی مستری ریاستِ سوات

ریاستِ سوات قائم ہوئی، تو شاہی ماحول پیدا ہوا۔ شاہی سواری موٹر کار سے بہتر اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس لیے سڑکیں بنیں اور لاریاں آئیں……مگر جہاں ڈرائیور اور میکینک نہ ہوں، وہاں گاڑی چلائے گا کون؟ابتدائی دور میں سوات میں یا تو ڈرائیور باہر سے آتے تھے یا پھر مقامی لوگ پشاور، لاہور […]
اقدار کا زوال یا زمانے کی تبدیلی؟

فضل رازق شہاب صاحب نے کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر اپنی فیس بک وال پر دی تھی، جس میں لکھا تھا:مَیں نہیں جانتا کہ یہ الفاظ کس نے لکھے ہیں، اگر وقت ہو، تو پڑھ لیں۔مرد کے کپڑوں میں عورت کی صفائی جھلکتی ہے۔ عورت کے لباس میں مردانگی دکھائی دیتی ہے۔ لڑکیوں کے لباس […]
حیدر علی خان کی داستانِ وفا

مینگورہ کے مین بازار چوک مینگروال (مینگورہ کے باسی) میں، ’’اڈہ‘‘ سے غورئی چینہ کی طرف جانے والا راستہ محلہ اسحاق کے بعد دوسرا پوش ایریا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے مکانات رہایشیوں کی نفاست، آرٹ اور فنِ تعمیر سے لگاؤ کی جھلک سمجھے جاتے تھے۔ چوڑا راستہ اُن کی دل کی کشادگی کی غمازی […]
فضل رازق شہاب: ایک عہد کا نام

قارئین! قومیں بانجھ تب ہوتی ہیں، جب اُن میں علم و فن سے محبت ختم ہوجائے۔ یوں تاریخ سے رغبت معدوم رہتی ہے اور اسلاف کی عظمت کا وزن دل پر نہیں رہتا؛ حال بے حال ہو جاتا ہے اور مستقبل غیر یقینی بن جاتا ہے۔وہ قومیں گم ہو جاتی ہیں، جو صاحبِ علم کی […]
ماضی کا لنڈیکس، حال کی کالونی

آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ […]
نظریات کے چراغ اور کارپوریٹ اندھیرا
یہ محض تصویر نہیں…… ایک تاریخ ہے، جد و جہد ہے، نظریات کی کہانی ہے۔تصویر کے دائیں جانب فضل رحمان نونو، درمیان میں عبداللہ یوسف زئی اور ساتھ عبدالعزیز شاہین ایڈوکیٹ (سابقہ محکمۂ تعلیم) نظر آتے ہیں۔ یہ سب مینگورہ شہر کے اصلی باشندے ہیں۔مینگورہ ایک چھوٹے قصبے سے بڑھتے بڑھتے خیبرپختونخوا کا آبادی کے […]
سیلاب…… تباہی بھی، امتحان بھی

وہ جمعے کا دن تھا…… یعنی چھٹی کا دن تھا۔ کاروبار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں ہفتے بیت گئے تھے۔ صبح سے رات تک کی محنت نے بدن توڑ کے رکھ دیا تھا۔ مَیں یوں سویا ہوا تھا، جیسے بے سدھ، ہر شے سے بے نیاز، حتیٰ کہ اس احساس سے بھی […]
برصغیر کی غیر فطری تقسیم اور ’’ہمارے اعمال‘‘

برطانوی سامراج کی برصغیر کی غیر فطری تقسیم کی جھلک آج بھی نظر آتی ہے۔ اِس وقت برصغیر پاک و ہند سیلابی صورتِ حال اور موسمی تغیرات کی زد میں ہے۔ انڈس بیسن کا نظام، جہاں معاون دریا دریائے سندھ میں آکر ایک مکمل دھارا بناتے ہیں، صدیوں تک قدرتی توازن کا ضامن رہا…… لیکن […]
باچا خان، مجھے بھی کچھ کہنا ہے

گوہر اقبال خان رماخیل نے بڑی جرات مندی کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اظہارِ رائے پر کبھی حکومت پابندیاں عائد کرتی ہے اور کبھی معاشرتی رویے اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ حالاں کہ ہر موضوع پر ہر طرح کی رائے دینے کی اجازت ہونی چاہیے اور اسے خوش آمدید کہا جانا […]
قومی تڑون جرگہ، دیر آید درست آید

ضلع سوات کی سطح پر قائم ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کو غیر متنازع حیثیت حاصل ہے۔ برے سے برے وقت میں دھمکیوں اور جان سے جانے کے خطروں کے باوجود سوات قومی جرگہ نے گرینڈ سوات جرگہ کی حیثیت سے اپنی طاقت، استقامت اور پائیداری دکھائی۔سوات قومی جرگہ اگرچہ غیر سیاسی ہے، مگر سوات کے عوام […]
ادھوری زندگی کا نامکمل انسان

(یہ تحریر 04 اگست 2024 کی شب کو لکھی گئی تھی، جسے اس وقت سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی شکل میں دیا گیا تھا۔ اب اس کی نوک پلک سنوار کر اور ضروری ترامیم کے ساتھ اسے باقاعدہ ایک بلاگ کی شکل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، مدیر لفظونہ […]
ناسٹلجیا

قارئین! ’’ناسٹلجیا‘‘ (Nostalgia) کا مطلب ہے ماضی کی یادوں میں کھو جانا، ماضی کی طرف ایک جذباتی لگاو یا ایک خواہش مند محبت جو ماضی کی طرف ہو۔اس کیفیت میں اکثر ماضی کے خوش گوار لمحات یا مقامات کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کی طرف ایک گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے۔واقعی یہ ایک […]
استقامت کا استعارہ، عبدالرحیم

صدر عبد الرحیم صاحب کو میں بہت ابتدائی زمانے سے جانتا ہوں۔ نہایت ذاتی طور پر، نہایت قریب سے۔صدر صاحب کی زندگی یا سرگذشت اگر ایک آپ بیتی کی صورت میں تحریر ہو، تو اس ضمن میں کئی نوٹس میرے پاس موجود ہیں…… مگر میری خواہش یہ ہے کہ یہ ایک مکمل آپ بیتی ہو، […]
مکالمہ جاری رہنا چاہیے

قارئین! لفظونہ ڈاٹ کام پر ایک اچھی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک صرف تین مضامین٭ جامعات اور دینی مدارس (مختصر تقابلی جائزہ)٭ جامعات و دینی مدارس (جوابِ آں غزل)٭ جواب الجوابسامنے آئے ہیں۔ مَیں نے درخواست کی تھی کہ مکالمے کا سلسلہ جاری رہے، تاکہ مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے […]
5 جولائی کے اثرات

انگریزوں نے برصغیر میں اپنی حکم رانی کو طول دینے کے لیے مقامی مذاہب میں مداخلت کی۔ مذہبی فہرست میں از سر ِنو ترجیحات ترتیب دیں۔ جہاں سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا، اُن مذاہب کو بلند مقام دیا اور جن سے اندیشہ تھا، اُنھیں فہرست کے آغاز میں رکھا۔اسی مداخلت نے برصغیر کے تمام […]
سماجی و جمہوری تبدیلی، وقت کی اہم ترین ضرورت

قارئین! بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں غیر متعلق ہوچکی ہیں۔ سب کا منشور یک ساں ہے، سب کی منزل صرف اقتدار حاصل کرکے ’’مالی فوائد‘‘ سمیٹنا ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا عدم اعتماد ہی سیاسی جماعتوں کو واپس ٹریک پر لاسکتا ہے۔ ان جماعتوں میں نہ […]
کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنھیں آپ اُستاد سمجھتے ہیں، مگر دراصل آپ خود اُن کے شاگرد ہوتے ہیں، اور اِس بات کا ادراک صرف وقت ہی دیتا ہے۔2018ء میں، جب پرانی زندگی نے تھکا کر نئی زندگی کی بنیادیں رکھنے پر مجبور کیا، تو چند ہی ہاتھ تھے، جنھوں نے مدد کی۔ چند ہی […]
روایات سے جڑا ایک پاگل

لوگ ہنستے ہیں، کچھ عجیب تبصرے کرتے ہیں، مگر میں ابتدا ہی سے نوکیا موبائل استعمال کرتا آیا ہوں۔جب نوکیا کمپنی بند ہوئی، تو اُن کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی کہ ہم کمپنی مائیکروسافٹ کو بیچ رہے ہیں، مگر صارفین کا ڈیٹا اُن کی امانت ہے؛ 31 دسمبر تک حاصل کرلیں۔ اس […]
ہسپتال جو پورے کا پورا چوری ہوا

’’سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹلز‘‘ کا نام سب نے سنا ہے۔ سنٹرل ہسپتال اور سیدو ہسپتال کے نام بہت عام ہیں۔ پچھلی نسل کے لوگ ان کو ’’روشن ہلال ہسپتال‘‘ اور ’’ڈاکٹر نجیب ہسپتال‘‘ کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ دونوں ہسپتال والی صاحب مرحوم کے اَن مول تحفے ہیں، جن کو بعد میں ’’ڈسٹرکٹ ہیڈ […]
ڈرگ انسپکٹر فدا خان

تحصیلِ چارباغ کی مردم خیز مٹی کا ذکر کریں، تو تعلیم، کاروبار، قابلیت، صنعت و حرفت، صحافت اور تدریس میں ایک سے ایک نادر شخصیت نے اس سے جنم لیا۔ یقینا اس تحصیل نے بڑے بڑے لوگ پیدا کیے۔تحصیلِ چارباغ و ملحقہ علاقہ جات کے پہلے ماسٹر ڈگری ہولڈر خورشید جہان ابھی کم عمر ہی […]
امان اللہ خان المعروف کاکا اُستاد صاحب

ہماری نسل اور اس سے پہلے کے مینگروال حضرات سے ’’کاکا اُستاد صاحب‘‘ کا پوچھیں، تو ایک تعظیم، احترام اور محبت کا جذبہ ان کے چہرے میں سرخی پیدا کردیتا ہے۔کاکا اُستاد صاحب مینگورہ نیو روڈ محلہ عیسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ اُن کو اُستادوں اور افسروں کا اُستاد بھی کہتے ہیں۔کاکا اُستاد صاحب […]