ریاست سوات: سنہرا ماضی، کھویا ہوا ورثہ

ریاست سوات کا ذکر آتے ہی دل بے اختیار اُس دور میں چلا جاتا ہے، جب یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں، بل کہ اعلا تہذیب، امن، اُخوت اور بہترین انتظام کا بھی نمونہ تھی۔ اُس وقت کی فضا صاف، ہوا خالص، پہاڑ سرسبز اور ماحول قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ سڑکوں کے […]
اسلام پور، گاؤں جو قصبہ بن گیا

آج ایک فاتحے کے لیے صبح اسلام پور، مرغزار روڈ جانا تھا۔ ہم ماضیپرست ٹائپ لوگ، حال میں رہتے ہوئے، ماضی کے نقشے ذہن میں سجائے رکھتے ہیں۔اسلام پور ایک الگتھلگ، پُرسکون اور خاموش گاؤں تھا… جو مینگورہ شہر سے کچھ ہی فاصلے پر، کمرشل ازم، بازاری رویوں اور ہمیشہ جلدی میں رہنے کی عادت […]
ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]
ریاست سوات کا ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم

26 نومبر 2025ء کو لفظونہ ڈاٹ کام پر میری تحریر ’’ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کا ایک حصہ ویب سائٹ لنک کے ساتھ برخوردار امجد علی سحاب نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ سرِ دست مذکورہ حصہ ملاحظہ ہو: ’’ڈاکٹر محمد خان دراصل سیدو ہسپتال میں […]
ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان

میری اس تحریر سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَیں کوئی ’’پروفیشنل نوحہ‘‘ گر ہوں۔ اُدھر کسی کی موت کی خبر آئی اور اِدھر میری انگلیوں میں خارش ہونے لگی…… لیکن بعض لوگوں کے احسانات بھلانا ناممکن بھی تو ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد خان دارِ فانی سے کوچ کرگئے،یہ ایک نارمل سی بات ہے۔کیوں کہ […]
ریاست سوات میں ڈاکو کی سزا کیا تھی؟
ریاستِ سوات میں قاتل کی سزا کیا تھی؟
نور حنی گل، شاہی مستری ریاستِ سوات

ریاستِ سوات قائم ہوئی، تو شاہی ماحول پیدا ہوا۔ شاہی سواری موٹر کار سے بہتر اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس لیے سڑکیں بنیں اور لاریاں آئیں……مگر جہاں ڈرائیور اور میکینک نہ ہوں، وہاں گاڑی چلائے گا کون؟ابتدائی دور میں سوات میں یا تو ڈرائیور باہر سے آتے تھے یا پھر مقامی لوگ پشاور، لاہور […]
ریاست سوات کا قلعہ دار نظام
فضل رازق شہاب: ایک عہد کا نام

قارئین! قومیں بانجھ تب ہوتی ہیں، جب اُن میں علم و فن سے محبت ختم ہوجائے۔ یوں تاریخ سے رغبت معدوم رہتی ہے اور اسلاف کی عظمت کا وزن دل پر نہیں رہتا؛ حال بے حال ہو جاتا ہے اور مستقبل غیر یقینی بن جاتا ہے۔وہ قومیں گم ہو جاتی ہیں، جو صاحبِ علم کی […]
شاہی محل سے جڑی یادیں

یوں تو والی سوات کے محل کے اُس پورشن کے بارے میں ہر سواتی مشر کی یادوں میں کچھ نا کچھ محفوظ ہوگا، جہاں وہ مہمانوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھ کر باہمی تبادلہ خیال کرتے تھے، لیکن مَیں اپنی بات کروں گا۔ہم جب شگئ اینگلو ورنیکولر سکول پڑھنے کے لیے روزانہ جاتے، تو […]
بنڑ سکول کے ساتھ جڑی یادیں

1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک بنڑ ہائی سکول (مینگورہ) کے ارد گرد کا علاقہ بالکل غیر آباد تھا۔ سب سے قریبی، بل کہ بالکل لگی ہوئی عمارت سیٹھ کامران کی جدید ترین محل نما کوٹھی تھی، جو اُن کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اُس وقت مَیں کالج میں پڑھتا تھا۔ کچھ زیادہ […]
گراسی گراؤنڈ، تباہ شدہ تاریخی ورثہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر فضل رازق شہابؔ صاحب نے 31جولائی 2022ء کو تحریر کی تھی، جو آج بھی اُن کی فیس بُک وال پر موجود ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سواتیوں کو ابھی تک یہ احساس نہ ہوسکا کہ گراسی گراؤنڈز کے مجوزہ سپورٹس کمپلیکس میں تبدیلی سے اُن کا کتنا تاریخی ورثہ ماضی کے قبرستان میں […]
شاہی بنگلے بارے ایک تجویز

کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً لوگ والی سوات کے بنگلے کے بارے میں سوالات اُٹھا رہے تھے۔ اس کی ابتر حالت کی تصاویر اور ویڈیوز ’’اَپ لوڈ‘‘ کر رہے تھے۔ سوات کے لوگ چیخ رہے تھے کہ بنگلہ میں رات کو لوگ چرس پیتے ہیں،کتے بلیوں کے لیے ’’زچہ و بچہ سنٹر‘‘ بن رہا ہے…… […]
سوات کی وجۂ تسمیہ (Origin of the name Swat)
آج اور ہمارے دور والے ممبران کا فرق

یہ ایم پی اے وغیرہ توپہلے بھی ہوا کرتے تھے۔ ہم نے تو کسی کا مالی سکینڈل بنتے نہیں دیکھا…… نہ ان لوگوں نے کبھی کارِ سرکار میں مداخلت کی، نہ ان کو ’’اے ڈی پی‘‘ کا پتا ہوتا، نہ فنڈز کا اور نہ کسی بھی سرکاری دفتر میں کارروائی کا۔ہم ڈگر میں تھے، تو […]
ہمارے بچپن کا محرم

نئے ہجری سال کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ سماجی اقدار میں تبدیلیاں آتی رہیں، اُسی طرح بعض روایاتی تہوار بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے۔ان گم شدہ رسومات میں محرم الحرام کے آغاز سے 10 محرم تک مختلف سرگرمیاں بھی اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں۔ بچپن میں ہم دیکھا […]
ادغام ریاست سوات اور مضحکہ خیز دعوے

جب کبھی اور جس بھی فورم پر ریاست سوات کے ضم ہونے کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے، تو فرضی قیاسات، متبادل اقدامات اور ادغام کو روکنے کے بارے میں اوٹ پٹانگ قسم کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ بعض تبصرے تو اخلاق سے گرے ہوے ہوتے ہیں،مگر زیادہ تر منفی اور مثبت جذبات کے اظہار […]
سوات کے کشمیری شہید

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)اُن افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپاہیوں کو، جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، ہر ممکن طریقے سے عزت دی جاتی ہے۔ ان کے خاندانوں کو شہدا […]
ریاست سوات، عیدین اور میلے

عیدین پر ایک بہت بڑا میلا ’’سیند‘‘ کے مقام پر دریائے سوات کے کنارے لگتا تھا۔ جہاں پر آج کل سوات پولیس لائن ہے؛ چناروں کا ایک بہت بڑا جھنڈ تھا۔ یہیں پر پہلے پہل ایک ہی ریسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا، جس کی عمارت خوب صورت تھی۔ لکڑی کے خوب صورت کام سے مزین […]
نگار سوڈا واٹر والے ’’نگار حاجی صاحب‘‘

مجھے بہ ذاتِ خود تاج چوک میں فقیر محمد ماما کی ٹھنڈی بوتلوں والی دکان آج بھی یاد ہے، جسے ہم اپنے بچپن (1985ء تا 1990ء ) میں ’’ڈکار والی بوتل‘‘ (دَ ڈرقو بوتل) کَہ کر جگر کی گرمی اُتارنے کا سامان کرتے تھے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے، جب میری عمر بہ مشکل چھے، […]