دو ناول، ایک انسانی کہانی

ادب کی دنیا ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی میں اترنا قاری کو نہ صرف ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے، بل کہ اس کے فکر و شعور کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے، جو مجھے بار بار کتابوں کی طرف کھینچ لاتا ہے ۔ حال ہی میں میرے مطالعے […]
’’زندہ مایوسیاں‘‘

تبصرہ: یوسف عزیز زاہد 21ویں صدی کے 26ویں سال میں جب کہ مائیکرو فکشن مقبولِ عام ہو رہا ہے، ناول لکھنا اور ناول پڑھنا دونوں دقت طلب کام ہیں، لیکن جن لوگوں کو کتاب سے عشق ہے، وہ ناول بھی اُتنی ہی دل چسپی اور انہماک سے پڑھتے ہیں، جتنی دل چسپی سے مائیکرو فکشن […]
کام یابی کا گر سکھانے والی کتاب

تبصرہ: تنویر گھمن زندگی کی تیز رفتاری ہمیں کئی سمتوں میں کھینچ رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی کام، بے شمار فیصلے اور نہ ختم ہونے والی ذمے داریاں۔ ہم جتنا زیادہ مصروف رہتے ہیں، خود کو اتنا ہی کام یاب سمجھتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم حقیقت میں آگے بڑھ […]
’’معین الطریقت‘‘ کا مختصر سا جائزہ

تبصرہ: سیمیں کرن’’معین الطریقت‘‘ جب میرے ہاتھ آئی جو کہ شیخ ابنِ عربی کے رسالہ ’’الامر المحکم المربوط فی ما یلزم اہل طریق اللہ من الشروط‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے اور اسے اُردو قالب میں پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے ڈھالا ہے۔ وہ خود ایک معروف علمی روحانی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ بہت […]
ناول ’’موبی ڈک‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عبد اللہ خالد ہرمین میلول (Herman Melville) جو 19ویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے، جن کی کہانیاں سمندری مہمات، انسان کی نفسیات اور قسمت کے کھیل کے گرد گھومتی ہیں۔ 1819ء میں نیویارک میں پیدا ہونے والے میلول نے اپنی جوانی میں مختلف ملازمتیں کیں، لیکن بالآخر سمندر نے اُنھیں اپنی طرف راغب […]
’’ون فلیو اُوور دی کوکوز نیسٹ‘‘ اور ہمارا نظامِ تعلیم

دوسرے ہسپتالوں کے برعکس یہ ایک سرد، بے رحم جگہ تھی، جہاں سفید دیواریں اور تیز روشنیاں مریضوں کے بے جان چہروں پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں جراثیم کُش دوا کی بُو اور مایوسی کی ایک گہری چادر تھی، جسے نرس ’’ریچڈ‘‘ اپنی پُرسکون لیکن کنٹرول کرنے والی آواز سے مزید گہرا کر رہی […]
’’دی سائلنس آف دی لیمبز‘‘ اور معاشرتی حقیقت

تصور کریں کہ ایک لمبا، تاریک اور سرد راستہ، جہاں روشنی کبھی کبھی جھپکتی ہے اور ہوا میں عجیب سا خوف محسوس ہوتا ہے، جیسے ہر کونے میں کوئی چھپی ہوئی کہانی ہو۔ یہ راستہ ایک ایسی جگہ کی طرف جاتا ہے جہاں دنیا کے سب سے خطرناک ذہنوں کو قید کیا گیا ہے اور […]
کل ہو نہ ہو (تبصرہ)

تبصرہ: منیر فراز پہلے کی بات اور تھی، جب مَیں نے عقیلہ منصور جدون کے ابتدائی تراجم پڑھے تھے۔ اُس وقت عقیلہ منصور جدون کا تراجم کی صنف میں حرفِ آغاز تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کی طرح ترجمہ کا عمل بھی آزاد فضا میں تکمیل کو پہنچے، تو ہی تخلیق کار کی فطری […]
ناول ’’الکیمسٹ‘‘ میری نظر میں

تحریر: اختر محمود ’’اور جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو، تو پوری کائنات اس طرح مددگار ہو جاتی ہے کہ تم اسے حاصل کر لو!‘‘ اس سطر کو ہم ناول کا مرکزی خیال قرار دے سکتے ہیں۔ ٭ کہانی:۔ الکیمسٹ ایک ایسے گڈریے کی داستان ہے، جسے دنیا گھومنے اور نئے نئے تجربات […]
گیبرئیل گارشیا مارکیز ناول ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ (تبصرہ)

تحریر: شیراز حسن کولمبیا کے نوبیل انعام یافتہ ادیب گیبرئیل گارشیا مارکیز (Gabriel Garca Mrquez) کی وفات کے 10 سال بعد اُن کے جنم دن کے موقع پر اُن کے ایک گم شدہ ناول کی اشاعت ہوئی ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘۔ چھے ابواب پر مشتمل تقریباً 100 صفحات پر مشتمل یہ مختصر ناول مارکیز اپنی […]
جنت کی تلاش (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز ’’مُلک ہار جائے، تو کچھ نہیں ہوتا۔ آدمی مر جائے، تو کچھ نہیں مرتا۔انسان کی اُمنگ مار دی جائے، تو سب کچھ مر جاتا ہے۔‘‘ ذی روح انسان کے نزدیک جنت کی کنجی نیکی و بدی، خیر و شر، اچھائی و برائی کے ترازوے میں تو لے جانے والے نامۂ اعمال […]
اینمل فارم (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز ’’جارج آرویل‘‘ سے میرا پہلا تعارف اُن کی کتاب ’’1984‘‘ سے ہوا۔ ’’1984‘‘ جارج آرویل کا وہ ناول ہے، جو سال 1984ء میں 40 لاکھ سے زاید کی تعداد میں فروخت ہوا۔ اب اتنے سال گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ کتاب متعدد اداروں سے مختلف زبانوں میں شائع ہو رہی […]
کاندید (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز خوف زدہ، حواس باختہ،گُم صم، لہولہان اور لرزہ براندام کاندید خود سے سوال کرتا ہے: ’’اگر یہی بہترین دنیا ہے، تو اس سے بدتر کون سی ہوگی؟ مجھے جو کوڑے لگے ہیں، اُنھیں تو مَیں نظر انداز کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس سے قبل بلغاریوں نے بھی میرے ساتھ ایسا […]
ناول ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ کی کہانی، مصنف کی زبانی

انتخاب: احمد بلال مَیں جب اپنا ناول ’’برف‘‘ (’’جہاں برف رہتی ہے‘‘، اُردو ترجمہ) لکھنے کی تیاری کر رہا تھا، تو مَیں نے ترکی کے جنوب مشرق میں واقع شہر ’’کاز‘‘ کے کئی چکر لگائے۔ میرا یہ ناول ظاہری طور پر دوسرے ناولوں کی نسبت زیادہ سیاسی ہے۔ ’’کاز‘‘ کے باسی چوں کہ نیک دل […]
ناول ’’باپ اور بیٹے‘‘ (تبصرہ)
تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے اکبر اِلہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوب صورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہ کار ناول […]
میکسیکو کے ادب سے ترجمہ شدہ ناول ’’بنجر زمین‘‘
تبصرہ نگار: طارق احمد خان ’’بعض گاؤں ایسے ہوتے ہیں جن سے بدنصیبی کی بو آتی ہے۔ آپ اُنھیں پہچان لیتے ہیں اُن کی ٹھہری ہوئی ہوا کے ایک جھونکے سے باسی اور نحیف۔ ہر پرانی چیز کی طرح یہ گاؤں اُن میں سے ایک ہے سوزانا!‘‘ اوپر تحریر کیا گیا جملہ اُسی گاؤں ’’کومالا‘‘ […]
چارلس ڈکنز کا ناول ’’دو شہروں کی کہانی‘‘

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز چارلس ڈکنز سے میرا پہلا تعارف "A Tale Of Two Cities” سے ہوا۔ چوں کہ یہ کتاب میرے پاس انگلش میں موجود تھی، سرورق بھی کافی خوب صورت تھا، تو دل میں بار بار کتاب کو پڑھنے کی ایک مدھم سی خواہش پیدا ہوتی تھی…… مگر پھر وہی بات کہ انگریزی […]
دیوانوں کی ڈائریاں (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز عالمی ادب کے مصنفین کی کتب پڑھنے اور اُن کے فلسفیانہ خیالات سے واقفیت بڑھانے کا بہترین موقع ہمیں تراجم کی صورت میں میسر آتا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ جب ہم جیسے قارئین، جو اس میدان میں نئے ہیں، میں عالمی تراجم پڑھنے کا شوق جاگتا […]
اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی

تبصرہ نگار: فرخ سہیل گوئندی زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی‘‘ دو یہودی مصنفین کی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے۔ یہ جناب اسرائیل شحاک اور نارٹن میزونسکی کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسرائیل شحاک پولینڈ میں اپنی والدہ کے ہم راہ ایک نازی کیمپ صرف اس بنیاد پر قید کردیے گئے کہ وہ یہودی […]
ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیملیٹ‘‘ کا اُردو ترجمہ

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز شہرت یافتہ لکھاری کی لکھی کوئی بھی تصنیف، چاہے وہ عام ہو یا خاص، ہمیشہ شہرت یافتہ کہلاتی ہے۔ اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت شیکسپیئر کا ڈراما ’’ہیلمیٹ‘‘ ہے۔ مَیں واضح کرنا چاہوں گی کہ مَیں لکھاری یا اس کی تصنیف پہ سوال نہیں داغ رہی، بلکہ کتاب کے ترجمے کے […]
حوزے ساراماگو کا ناول ’’اندھے لوگ‘‘

تبصرہ: یاسر رضا کہانی سے میرا تعلق کتاب کی صورت استوار ہوا اور گہرے سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ بنا کتاب کے دنیا اندھیر لگنے لگتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ ٹی وی یا موبائل سکرین، تخیل کا کینوس محدود کرتی ہے۔ اس لیے کتاب کے متن […]