کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ اور افغانستان کا المیہ

Blogger Comrade Sajid Aman

افغانستان کی تاریخ میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے، بل کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اور زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ 27 ستمبر 1996 عیسوی کی صبح بھی ایسا ہی ایک منظر لے کر آئی تھی۔ کابل کی ایک سڑک پر ایک سابق بہادر صدر کی لاش لٹک […]

زلزلے کا فکری و سائنسی مطالعہ

Blogger Sajid Aman

معلوم تاریخ کے مطالعے کے بعد ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ اب تک آنے والے زلزلے 8 کروڑ انسانوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ اس سے زلزلوں کی ہلاکت خیزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جب کہ مالی نقصانات کو اعداد میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اب زلزلے انسان کے لیے ہمیشہ خطرات اور پریشانیوں کا […]

گندھارا کی روداد

Blogger Doctor Rafi Ullah Swat

جنوبی ایشیا کے تاریخی طور پر مشہور ثقافتی خطوں میں سے ایک خطہ گندھارا کے نام سے مشہور ہے۔ گندھارا بہ یک وقت ایک ایسی متنوع شناخت کو جنم دیتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، فنی اور مذہبی پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسی دل چسپ داستان کی غمازی کرتے ہیں، […]

لاوارث گندھارا

Blogger Rafi Ullah Swat

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]

انصاف کا نڈر علم بردار، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ

Blogger Sajid Aman

فسطائیت اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف ڈٹ جانے والے مردِ مجاہد، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ (شہید) وہ شخص جس نے آئین کی پاس داری کا حلف لیا تھا اور اسی جرم میں مجرم ٹھہرا کہ وہ آئین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ آمریت کو صریحاً خلافِ آئین کہتا […]

تاریخ کے قاتل……؟

Blogger Fazal Maula Zahid

سوات، جو کبھی امن، علم اور خوش حالی کا گہوارہ تھا، آج شور و غوغا اور بدامنی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وادی اپنے بلند و بالا پہاڑوں کی دل کشی، جنگلات کی شادابی اور دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ ایک درخشاں تہذیب و تمدن کی گواہ رہی ہے…… مگر اب یہ خطہ […]

حیدر علی خان کی داستانِ وفا

Blogger Sajid Aman

مینگورہ کے مین بازار چوک مینگروال (مینگورہ کے باسی) میں، ’’اڈہ‘‘ سے غورئی چینہ کی طرف جانے والا راستہ محلہ اسحاق کے بعد دوسرا پوش ایریا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے مکانات رہایشیوں کی نفاست، آرٹ اور فنِ تعمیر سے لگاؤ کی جھلک سمجھے جاتے تھے۔ چوڑا راستہ اُن کی دل کی کشادگی کی غمازی […]

ماضی کا لنڈیکس، حال کی کالونی

Blogger Sajid Aman

آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ […]

باچا خان کی جد و جہد اور سیاسی لغزشیں

Blogger Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel

خان عبدالغفار خان، جنھیں دنیا ’’باچا خان‘‘ اور ’’سرحدی گاندھی‘‘ کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی تاریخ کے اُن چند نایاب راہ نماؤں میں شامل ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ظلم اور غلامی کے خلاف جد و جہد میں گزار دی۔ انگریز سامراج کے خلاف اُن کی تحریک، خدائی خدمتگار کا قیام، عدم […]

صیہونیت اور نازی ازم کی مماثلتیں

Blogger Hamza Nigar

پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کے کئی خواب ٹوٹ گئے۔ تیسری دنیا میں نو آبادکاری، ولیم قیصر دوم کا جرمن کو دنیا کی برتر نسل ثابت کرنا اور یورپ کی قیادت جیسے خواب چکنا چور ہوگئے۔ 1919ء کی ’’ٹریٹی آف ورسائلز‘‘ (The Treaty of Versailles) کے بعد جرمنی کو حزیمت کا سامنا […]

ایک خرمانی کے بدلے چھے قتل؟

Blogger Sajid Aman

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 مینگورہ سے میرے والد صاحب مجھے اُٹھا کر محتاج ہیڈ ماسٹر (مرحوم) کے سکول بھیجنے لگے۔ ہمارا گھرگل کدہ نمبر 2 میں تھا، جہاں سے نمبر 4 سکول ویسے ہی بہت دور تھا، پھر نمبر 1 سکول اور ڈبل سے بھی زیادہ فاصلے پر…… لیکن ایک تو محتاج ہیڈ ماسٹر […]

ہمارے بچپن کا محرم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

نئے ہجری سال کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ سماجی اقدار میں تبدیلیاں آتی رہیں، اُسی طرح بعض روایاتی تہوار بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے۔ان گم شدہ رسومات میں محرم الحرام کے آغاز سے 10 محرم تک مختلف سرگرمیاں بھی اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں۔ بچپن میں ہم دیکھا […]

سوات اور بدھ مت

Blogger Engineer Miraj Ahmad

سوات کی وادی نہ صرف قدرتی حسن و جمال کا شاہ کار ہے، بل کہ یہ ایک عظیم تاریخی ورثے کی حامل سرزمین بھی ہے، جس نے مختلف تہذیبوں اور مذاہب کو پروان چڑھتے دیکھا ہے۔سوات کی تاریخ میں بدھ مت کا دور ایک سنہری عہد کے طور پر جانا جاتا ہے، جب یہ خطہ […]

ادغام ریاست سوات اور مضحکہ خیز دعوے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جب کبھی اور جس بھی فورم پر ریاست سوات کے ضم ہونے کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے، تو فرضی قیاسات، متبادل اقدامات اور ادغام کو روکنے کے بارے میں اوٹ پٹانگ قسم کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ بعض تبصرے تو اخلاق سے گرے ہوے ہوتے ہیں،مگر زیادہ تر منفی اور مثبت جذبات کے اظہار […]

ریاست سوات، عیدین اور میلے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

عیدین پر ایک بہت بڑا میلا ’’سیند‘‘ کے مقام پر دریائے سوات کے کنارے لگتا تھا۔ جہاں پر آج کل سوات پولیس لائن ہے؛ چناروں کا ایک بہت بڑا جھنڈ تھا۔ یہیں پر پہلے پہل ایک ہی ریسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا، جس کی عمارت خوب صورت تھی۔ لکڑی کے خوب صورت کام سے مزین […]

جہانزیب بٹالین

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ودودیہ ہائی سکول سیدو شریف ریاستی دور کے دوران میں بہت سی کامیابیوں کا چشم دید گواہ رہا ہے۔ اس نے مقامی اور قومی سطح پر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بے مثال ریکارڈ قائم کیے […]

’’انگئی پُل کوٹہ اور دیگر پُل‘‘

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات کے ریاستی دور کا قدیم ترین ’’آرچ برج‘‘ (Arch Bridge) جسے مقامی زبان میں ’’ڈاٹ‘‘ کہتے ہیں، جو مین شاہ راہ "N.95” پر کوٹہ تحصیل بری کوٹ میں واقع تھا، آخرِکار گرا دیا گیا اور اس کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل "Pre-stressed” آر سی سی پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اسے جلد […]

امان اللہ خان المعروف کاکا اُستاد صاحب

Blogger Sajid Aman

ہماری نسل اور اس سے پہلے کے مینگروال حضرات سے ’’کاکا اُستاد صاحب‘‘ کا پوچھیں، تو ایک تعظیم، احترام اور محبت کا جذبہ ان کے چہرے میں سرخی پیدا کردیتا ہے۔کاکا اُستاد صاحب مینگورہ نیو روڈ محلہ عیسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ اُن کو اُستادوں اور افسروں کا اُستاد بھی کہتے ہیں۔کاکا اُستاد صاحب […]

مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

Blogger Fazal Raizq Shahaab

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]

انڈس کوہستان تک ایک ناقابلِ فراموش سفر

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1960ء کی دہائی کے پہلے نصف میں، ریاستِ سوات کے حکم ران نے فیصلہ کیا کہ دور دراز علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو کمروں پر مشتمل […]