یہ تو معلوم نہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا؟ کیوں کہ واحد خدا کی ذات ہے، جو واقفِ ماضی، حال و مستقبل ہے۔ انسانی طاقت صرف اتنی سی ہے کہ حال پر کچھ قیاس آرائی کرسکے اور مستقبل بارے اندازے، وسوسے، شکوک یا شبہات کا اظہار کرسکے۔ لہٰذا ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ پاکستان میں معلوماتِ عامہ کا مستقبل کیا ہوگا اور اس کے ملکی معاملات پر اثرات کیا ہوں گے…… مگر یہ بہ ہرحال معلوم ہے کہ باقی ماندہ دنیا میں جو نظام رائج ہے، اُس کی رگوں میں معلوماتِ عامہ (انفارمیشن) ہی کا خون دوڑ رہا ہے۔ یورپ سے ایشیا تک اور امریکہ سے افریقہ تک اب جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔ میکانکی جنگوں سے زیادہ اقتصادی اور اِبلاغی جنگوں کے لیے مخالف قوتیں صف آرا ہیں۔
اقتصادی لحاظ سے جو ممالک طاقت ور ہیں، وہ اِبلاغی جنگ میں بھی بالا دستی کے لیے کوشاں ہیں۔ سمارٹ فون بنانے کا مقابلہ ہو، یا آج کل سوشل میڈیا ایپس کی دنیا ہو، ہر جگہ بالا دستی کی یہ دوڑ زوروں پر ہے۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
قارئین! آپ نے سنا ہوگا کہ امریکہ اور چین کے مابین ’’ٹک ٹاک ایپ‘‘ پر جھگڑا چل رہا ہے۔ اس جھگڑے کا ابھی کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا…… مگر گمان یہی ہے کہ دونوں بڑی طاقتوں میں یہ معاملہ آسانی سے حل ہونے والا نہیں۔ اسی طرح کچھ جاسوسی سوشل میڈیائی ایپس کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔
پاکستان میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں غیر قانونی فون ریکارڈنگ کے حوالے سے ایک کیس ابھی تک زیرِ سماعت ہے۔ اب تقریباً ہر فون استعمال کرنے والا تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں اُس کی ’’نجی گفت گو‘‘ تو ریکارڈ نہیں ہو رہی؟
اِنفارمیشن یا اِبلاغی جنگ میں سب سے اہم ہتھیار لوگوں کی انتہائی ذاتی نوعیت کی معلومات کا حصول ہوتا ہے…… یعنی نام، ولدیت، عمر، جنس، قد، علاقہ، پسند و ناپسند، تصاویر اور ویڈیوز وغیرہ تک رسائی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟ 
بدلتی دنیا اور ہم 
 

ہم ٹیکنالوجی سے نابلد لوگ  
اُبھرتے ایشیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟  
اِغوا کاروں کے معروف حربے
افسوس ناک امر یہ ہے کہ تقریباً ہر ایک سوشل میڈیائی ایپ کے استعمال کی شرط ہوتی ہے کہ آپ اُس کو اپنی تمام معلومات تک رسائی کی اجازت دے دیں۔ یعنی ایپس مثلاً: وٹس ایپ جب آپ استعمال کرتے ہیں، تو وٹس ایپ انتظامیہ کو آپ اپنی رضا مندی سے یہ اجازت دیا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی تصاویر، ویڈیوز، کیمرہ اور موبائل میں موجود لوگوں کے نمبرات تک رسائی حاصل کرے۔ جب ایسا ہوتا ہے، تو وٹس ایپ پر بھیجے جانے والے تمام مواد تک کمپنی رسائی حاصل کرلیتی ہے…… اور اُس مواد (ڈیٹا) کا تجزیہ کرکے آپ کی ترجیحات معلوم کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ کے سامنے آپ کی ترجیحات کے مطابق چیزیں لائی جاتی ہیں۔
اس بات کو یوں سمجھیے کہ آپ گوگل (Google) پر کسی سیاحتی مقام کو سرچ کرتے ہیں، تو اگلی دفعہ گوگل پر جاتے ہی آپ کے سامنے بغیر کسی سرچ کے ڈھیر سارے سیاحتی مقامات آجاتے ہیں، اور آپ کو تجویز دی جاتی ہے کہ فُلاں جگہ بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر گوگل کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھے سیاحتی مقامات دیکھنے میں دلچسپی ہے؟ جواب بہت آسان ہے اور وہ ہے اُنھی معلومات کا تجزیہ، جو آپ سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے مختلف ایپس کے ذریعے گوگل والوں کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا تقریباً ہر ایپ ایک سیکورٹی لائسنس دیتا ہے، جس میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ اگر آپ ہمارا ایپ استعمال کرتے ہیں، تو ہمیں آپ کی فُلاں فُلاں ذاتی معلومات تک رسائی چاہیے…… اور اگر آپ یہ رسائی دیتے ہیں، تو پھر ہم اُن معلومات کو فُلاں فُلاں کاموں کے لیے استعمال کرنے میں آزاد ہوں گے۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری دی جانے والی معلومات کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے……؟ دیگر استعمال کے علاوہ ان معلومات کو کاروباری اداروں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے، جو کسی علاقے میں رہنے والوں کی معلومات کا تجزیہ کرکے اُن کی ترجیحات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اسی اندازے کے مطابق کاروبار میں رجحان سازی کی جاتی ہے۔ نتیجتاً کمرشلائزیشن کا نیا دور جسے ’’آن لائن بزنس‘‘ سمجھ لیں، کا دور رو بہ ترقی ہے۔
قارئین! صارفین کی ذاتی معلومات کو جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے سعودی، ایران، شمالی کوریا اور چین میں سوشل میڈیا کے کچھ ایپس کو مکمل یا جزوی طور پربند کیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی کئی مہینوں سے ایکس (سابقہ نام ٹوئیٹر) بند کیا گیا ہے……!
مگر سوال یہ ہے کہ اِبلاغی جنگ میں پاکستان کا یہ دفاعی حربہ کب تک اور کتنی حد تک کار آمد رہتا ہے اور اس کا ملکی معاملات پر کیا اثرات ہوں گے؟ اس کا جواب مستقبلِ قریب میں خود بہ خود مل جائے گا۔ انتظار فرمائیں اور تکتے جائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔