کسی بھی سیاسی پارٹی میں جب تک ورکر نہ ہوں، تب تک لیڈر پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ورکر ہی اُنھیں زمین سے اُٹھا کر آسمان تک لے جاتا ہے۔ اُن کی خاطر لڑائیاں کرتا ہے۔ بغیر کسی لالچ اور فیس کے وہ ان کا ہر جگہ وکیل بنا پھرتا ہے۔ اور تو اور یہ ایک ورکر ہی ہوتا ہے جو جو اپنے لیڈر کی خاطرجیلوں میں جاتے ہیں اور خودسوزیاں تک کرجاتے ہیں۔ لیڈر حضرات بھی اپنے ورکروں کی چائے اور بریانی سے تواضع کرتے رہتے ہیں، لیکن ورکر تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جب اُس کی جماعت اقتدار میں آئے، تو پھر اُسے بھی سکون کی زندگی کے کچھ پل میسر آسکیں۔
روحیل اکبر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akbar/
ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اپنے ورکروں کو خوب استعمال کرتی ہیں۔ اُنھیں مستقبل کے سنہری خواب دکھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ اقتدار میں بھی شامل کرنے کے سہانے خواب دکھاتے ہیں، لیکن جیسے ہی اقتدار ملتا ہے، پھر وہ واپس پلٹ کر اپنے ورکروں کی شکل تک نہیں دیکھتے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اپنے ورکروں کو کسی نہ کسی حد تک یاد رکھتی ہے، لیکن مسلم لیگ ن اقتدار میں آنے کے بعد ورکروں سے دوری اختیار کرلیتی ہے۔ آج مسلم لیگ ن مرکز اور پنجاب میں اقتدار میں ہے، لیکن اس کے ورکر شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ سرِ دست ن لیگ کے ٹاپ کے وکروں کی گفت گو آپ سب کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد عام چھوٹے چھوٹے ورکروں کی تکلیف کا اندازہ پڑھنے والے خود لگالیں۔
سب سے پہلے پارٹی کے پرانے ورکر توصیف شاہ کا پیغام ہے کہ مسلم نون کا ایک پرانا ساتھی اور میاں نواز شریف کا وفادار سپاہی چوہدری عتیق جس نے تحریکِ نجات مشرف کی آمریت اور عمران نیازی کے دور میں فرنٹ لائن پہ کام کیا، نے گذشتہ روز حالات سے تنگ آ کر خودکشی کرلی۔ اُس کی تنگی کی وجہ بھی یہی تھی کہ اُس نے سارا وقت ہی پارٹی کے لیے وقف کررکھا تھا۔ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں پہ وہ نہ پہنچتا ہو۔ کاروبار اُس کا وہ تباہ ہوگیا۔ گھر میں کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں تھی۔ اسی پریشانی میں اُس کی بیوی بھی اُسے چھوڑ کر چلی گئی۔ حالات سے تنگ آکر اُس نے خود کشی کرلی۔ جن کی خاطر اُس پارٹی ورکر نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، اُس کے جنازے میں لاہور کے 30 ایم پی ایز اور 14 ایم این ایز میں سے صرف خواجہ عمران نذیر نے شرکت کی۔ یہ وہی چوہدری عتیق تھا، جو میاں خاندان کی گرفتاریوں پر سراپا احتجاج رہا اور ہر پیشی پر سب سے آگے آگے ہوتا تھا۔ کارکنوں کو حوصلہ دیتا تھا، لیکن جیسے ہی پارٹی اقتدار میں آئی، تو ہماری فرنٹ لائن کا سپاہی خود کشی کرگیا اور جاتے جاتے پیغام دے گیا کہ کارکن ہمیشہ کارکن ہی رہتا ہے اور لیڈروں کے حکومت میں آتے ہی خود کشی کرجاتا ہے۔ اس لیے میری تمام قائدین سے گزارش ہے کہ ازراہِ مہربانی ایسے چند لوگ ہیں، اُن کو بلا کر اُن کے روزگار کا کوئی بندوبست کر دیں۔ کوئی اس میں میرٹ نہیں جائے گا۔ اگر ہم ان کو کوئی روزگار مہیا کر دیں گے، تو وہ آپ کو دعائیں ہی دیں گے۔ اُنھوں نے ساری زندگی پارٹی کو دی ہے۔ ایسے کارکنوں کو بلا کر خود شہباز شریف اور مریم نواز اپنے ہاتھوں سے روزگار فراہم کریں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جنرل ضیا کے پاکستانی سیاست پر اثرات  
پارٹی کارکن سیاست کا ایندھن  
لیڈر کبھی ورکر کو ڈھال نہیں بناتا  
میاں نواز شریف کے دل فریب وعدے اور زمینی حقائق  
سیاست دانوں کو بدنام کرنا مسئلے کا حل نہیں  
ان کے بعد کلچرل ونگ پنجاب کی صدر مسز ملک نے بھی اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ مَیں نے 20 سال پارٹی کے لیے قربانی دی ہے۔ اب بھی پنجاب کے اضلاع میں پارٹی کا کام ہورہا ہے۔ میرے بچوں نے قربانی دی ہے۔ میرے بیٹے نے تین سال پرائم منسٹر ہاؤس میں کام کیا، جہاں سے ہم نے ٹرانسپورٹ لی، نہ رہایش۔ اس وقت میں شدید بیمار ہوں۔ میری تین سرجریاں ہوچکی ہیں۔ اب بھی بیڈ ریسٹ پہ ہوں۔ میری پارٹی کے کسی قاید، رہنما اور لیڈر نے ہسپتال تو کیا، گھر آکر بھی میں میری عیادت نہیں کی اور نہ میرا حال ہی پوچھا۔ یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر ورکرکے ساتھ ہورہا ہے، جس سے عام پارٹی ورکر بدل ہورہا ہے۔ میاں محمد نواز شریف جس سے میں عشق کی حد تک پیار کرتی ہوں، اللہ اُن کو سلامتی دے۔ میاں شہباز شریف، میاں حمزہ شہباز شریف اور باجی مریم کو حالات اور مصائب کا پتا ہے، لیکن اس کے باوجود ورکروں کا استحصال ہورہا ہے، جب کہ چوہدری عتیق کی موت کا مجھے بے حد صدمہ اور بہت دکھ ہوا ہے۔ اُس کے پاس گاڑیاں تھیں۔ اُس کے پاس بزنس تھا۔ اُس کے پاس کاروبارتھا، جو اُس نے سب میری طرح پارٹی پہ لگا دیا۔ میاں صاحب جب بھی تاریخ پر آتے، تو وہ اپنی گاڑی میاں صاحب کی گاڑی کے ساتھ ہی رکھتے تھے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ پارٹی کی بے پروائی کا ایسا شکار ہوئے کہ روٹی کو ترس گئے۔ ن لیگ کے اس دور میں تو ورکر کے ساتھ بہت برا ہورہا ہے۔ توصیف شاہ نے ورکروں کے حق میں آواز آٹھائی ہے، تو ہم سب اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
قارئین! کچھ اسی طرح کی آواز ساہیوال سے ایک پرانے پارٹی ورکر چوہدری علیم ظہور کی بھی آئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ واقعی اس دور میں پارٹی ورکر کے ساتھ بہت برا ہو رہا ہے۔ اس لیے محترمہ مریم نواز سے گزارش ہے کہ ایسے ورکر جو ہر مشکل دور میں میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے، جو ہر گلی، چوک اور چوراہے میں میاں نواز کی جنگ لڑتے رہے، اُن کو ترقیاتی فنڈز میں حصہ دیا جائے۔ اس لیے کہ وہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، اور اُن کو جواب دِہ ہیں۔ ہم اپنے لیے نہیں مانگتے، پارٹی کے ووٹرز کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایم پی اے اور ایم این اے پارٹی ورکروں کی بجائے اپنے چمچوں کو نوازتے ہیں۔ قیادت کی خاموشی اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اُنھیں ورکروں کی بجاے فصلی بٹیرے چاہئیں۔ ازراہِ مہربانی نظریاتی ورکر جو پچھلی صفوں میں کھڑا ہے، اسے جاننے کی کوشش کریں۔
قارئین! مَیں نے اُوپر پیپلز پارٹی کا ذکر کیا تھا کہ وہ اپنے ورکروں کے حق میں بہتر ہے، لیکن اتنی بھی بہتر نہیں کہ وہ قربانیاں دینے والوں کو یاد رکھ سکے۔ اب پیپلز پارٹی میں بھی قربانیاں دینے والے بہت پیچھے رہ گئے، جب کہ پیسے والے مفاد پرست آگے نکل گئے۔ نہیں یقین، توشاہدہ جبین کو دیکھ لیں جس کی پیپلز پارٹی کی خاطر قربانیاں اتنی زیادہ ہیں کہ لاہور کی گلیاں اور محلے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اس نے پارٹی کی خاطر محنت کی، جب کہ اس سے بڑھ کر اور کیا قربانی ہوسکتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی غیر قانونی اور ناجائز پھانسی پر اس کے بھائی نے بہ طورِ احتجاج خود سوزی کرلی تھی۔ یہ قربانیاں ناقابلِ یقین اور ناقابلِ فراموش ہیں، جنھیں رائیگان نہیں جانا چاہیے۔ ایسے مخلص ورکروں کو ایوانوں میں ہونا چاہیے، جو عوام کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی پارٹی کا چہرہ ہوتے ہیں، جسے آج کے لیڈروں نے دھندلا دیا ہے۔ اگر یہ لوگ چلے گئے، تو پھر آنے والے دور میں پارٹی ورکر کم اور فصلی بٹیرے زیادہ نظر آئیں گے، جو مفادات میں تو سب سے آگے ہوں گے، لیکن مشکل میں کسی اور کے ساتھ کھڑے ہوکر آنکھ تک نہیں ملائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔