غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے:
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
اس شعر کو اپنے ملک اور معاشرے پر منطبق کریں، تو سب کچھ واضح ہوجاتا ہے۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
گھنٹا تو بہت زیادہ وقت ہے، یہاں تو لمحوں میں ایسے ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ کون توقع کرسکتا تھا کہ شہرِ اقتدار میں واقع ایوانِ انصاف کے چھے منصف بہ یک وقت ایک احتجاجی خط تحریر کرنے کے بعد اسے منظرِ عام پر بھی لائیں گے؟
ویسے منصفوں کا کام ہے متاثرین کو انصاف دینا، مگر حالیہ خط نے واضح کردیا ہے کہ انصاف دینے والے خود انصاف مانگنے پر مجبور ہیں…… اور کیوں نہ ہوں گے…… جب آپ کی رہایشی کمرے میں جاسوسی کے آلات برآمد ہوجائیں، تو سوچیے پھر کیا بچ جاتا ہے؟
آلاتِ جاسوسی کی برآمدگی کا ذکر منصفوں نے اپنے خط میں کیا ہے۔ یہ واقعی قبیح فعل ہے کہ آپ کسی کی ذاتی نوعیت کی حرکات و سکنات کو محفوظ کرتے پھریں۔
ظاہری سی بات ہے کہ رہایشی کمرے میں جج اور اس کی بیوی ہی رہتی ہوگی۔ اور اگر کسی جج صاحب کی ایسی ذاتی حرکات ریکارڈ کی گئی ہیں، تو پھر مابعد جج صاحب نے جو فیصلے کسی بھی کیس خاص کر سیاسی مقدمات میں دیے ہیں، وہ کیسے آزاد یا مبنی بر انصاف ہوسکتے ہیں؟
یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں انصاف کے ادارے کبھی آزاد نہیں رہے…… اور نہ شاید آگے بھی ہوسکتے ہیں…… مگر انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کی ایسی نیچ حرکات شاید ہی کہیں اور کی گئی ہوں۔
یہ بات یاد رہے کہ معاشرے کا استحکام نظامِ انصاف سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی ملک معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم بھی ہو، لیکن اگر وہاں انصاف کا نظام نہ ہو، یا ناقص ہو، تو ان معاشروں اور ممالک میں طوائف الملوکی جنم لیتی ہے۔ نتیجتاً معاشی اور سیاسی استحکام کے باجود معاشرے برباد ہوجاتے ہیں۔ انتشار اور افراتفری میں اجتماعیت کھوجاتی ہے اور انفرادیت ذاتی بچاؤ اور فائدے کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ فیصلہ کے نمایاں نِکات  
پی ٹی آئی بارے سپریم کورٹ فیصلے کے 20 نِکات 
فیض آباد دھرنا کیس، سپریم کورٹ کے نِکات پر عمل در آمد نہ ہوسکا  
عدالتوں میں 22 لاکھ سے زاید زیرِ التوا مقدمات  
پاکستانی عدالتی نظام کا تاریخی پس منظر  
برخلاف اس کے ممالک غریب ہی سہی، لیکن اگر وہاں نظامِ عدل فعال اور آزاد ہو، تو معاشرہ پُرسکوں ہوگا۔ مثلاً: افغانستان جو دہائیوں سے جنگوں سے متاثرہ ملک ہے، وہاں اب طالبان نے جلد اور سستے انصاف کا نظام شروع کیا ہے۔ اس پر بحث ہوسکتی ہے، مگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے، تو افغانستان میں چوری، ڈکیتی، راہ زنی، اِغوا برائے تاوان اور دیگر ایسے جرائم ختم یا کافی حد تک کم ہوچکے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں امن فروغ پا رہا ہے، جو معاشی ترقی کے لیے راستہ ہموار کررہا ہے۔
مَیں نے اسی تناظر میں سوچا کہ امریکی اور مغربی معاشی، سیاسی اور سفارتی پابندیوں کے باوجود ایران میں سخت گیر مولویوں کا نظام ابھی تک کیوں فعال ہے؟ تو کچھ مطالعہ، چند متعلقہ لوگوں سے سوال و جواب اور تھوڑی سی تحقیق نے راستہ سجھایا کہ یہ ایران کا ’’نظامِ انصاف‘‘ ہی ہے، جس نے ابھی تک اسی سخت گیر نظام کے باجود ایرانی معاشرے کو قائم رکھا ہوا ہے۔
برسبیلِ تذکرہ، ایک پھل فروش جس نے 20 سال ایران میں گزارے تھے، نے کہا کہ ایک بار ہم نے ایرانیوں سے لڑائی کی تھی۔ بات عدالت تک پہنچ گئی، مگر باجود غیر ملکی ہونے کے عدالت نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا۔ کیوں کہ مخالف فریق ایرانی سہی، مگر ناحق پر تھا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشروں کا استحکام اور دوام انصاف ہی کے مرہونِ منت ہے۔ اب جس معاشرے میں منصف خود انصاف کا متلاشی ہو اور معاشرے کی اکثریت یہ جان چکی ہو کہ یہاں عدالت بھی فروخت ہوتی ہے، حکومت بھی برائے فروخت ہے اور اگر بات ڈالر یا ریال اور دینار کی آجائے، تو پوری کی پوری ریاست دست یاب ہے۔ ایسے ماحول سے پھر ڈرنا چاہیے۔ کیوں کہ نہ جانے کون، کب اور کس جرم میں آپ کو مار دے اور انصاف بھی نہ ملے۔ کیوں کہ انصاف دینے والوں کی جب ’’ویڈیوز‘‘ بنائی گئی ہوں، تو وہ بے چارے کیا انصاف دیں گے؟
لہٰذا معاشرے کو انارکی سے بچانے کے لیے لازم ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ منصفوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور انصاف کے اداروں میں بے انصافی کرنے اور کروانے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے، تاکہ عدالتوں پر عوامی اعتماد بحال ہوجائے۔
اس لیے انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ دِکھنا بھی چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔