رواں ماہ شائع ہونے والی تحریر ’’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور آئینی تاریخ کی درستی‘‘ میں عرض کیا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے عدالتی منصب پر بیٹھا یہ شخص ہر گزرے دن کے ساتھ نئی آئینی تاریخ مرتب کر رہا ہے۔ ’’فیض آباد دھرنا نظرِ ثانی‘‘ ، ’’مشرف پھانسی‘‘، ’’ذوالفقار علی بھٹو پھانسی‘‘ مقدمات کے فیصلوں کی بہ دولت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جابر حکم رانوں کے زیرِ سایہ بننے والی آئینی تاریخ کو درست کرنے کی جانب رواں دواں ہیں۔
ایڈوکیٹ محمد ریاض کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/adv/
ہر غیر آئینی و غیر قانونی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں اور پاکستان کی اعلا ترین عدلیہ پر ماضی میں لگنے والے بدنما داغوں کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ یقینی طور پر ’’بابا رحمتا فیم‘‘ سے مشہور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور اس کے ہم خیال ساتھی ججوں کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنا اتنا سہل کام نہ تھا، مگر آئین و قانون کی سربلندی پر یقین رکھنے والا جج جو اپنے شعبے سے مخلص ہو، اُس کے سامنے کھڑی ہونے والی ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہورہی ہے۔
’’جسٹس شوکت صدیقی کیس فیصلہ‘‘ کی بہ دولت آج ’’بابا رحمتا گینگ‘‘ اور اُس کے ہینڈلر پاکستانی عوام کی لعن طعن کے حق دار قرار پا رہے ہیں۔
جسٹس شوکت صدیقی سپریم کورٹ فیصلہ کے نمایاں نِکات:
٭ پہلا نکتہ:۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے الزمات کی انکوائری کرنے کی بجائے فرض کیا کہ جسٹس شوکت صدیقی کے الزمات غلط ہیں۔ مفروضے کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت صدیقی کو جوڈیشل مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا۔
٭ دوسرا نکتہ:۔ سپریم جوڈیشل کونسل پر لازم تھا کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کو الزمات ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتی، جب کہ دوسری جانب جسٹس اخلاق، جسٹس شوکت علی اور مظاہر نقوی کے مقدمات میں فیصلے شہادتوں کی بنیاد پر ہوئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد برطرفی کے فیصلے دیے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
محلاتی سازشیں، فیض دھرنا اور انکوائری  
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟ 
ہمارا عدالتی نظام اور قاضی فائز عیسیٰ 
٭ تیسرا نکتہ:۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے برطرف کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی کو فیئر ٹرائل کا موقع فراہم نہیں کیا۔ جسٹس شوکت صدیقی کو قانون کے مطابق موقع فراہم نہ کر کے اُن کی شہرت کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
٭ چوتھا نکتہ:۔ آئینی اور قانونی تقاضے پورا نہ کرنے کی وجہ سے آرٹیکل 211 کا اس کیس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ لہٰذا آرٹیکل 184/3 کے تحت برطرفی کے فیصلے کے خلاف آئینی درخواستیں قابلِ سماعت ہیں۔
٭ پانچواں نکتہ:۔ فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ حال ہی میں مظاہر علی اکبر نقوی کے کیس میں بھی 14 شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔ مظاہر نقوی کیس میں گواہوں نے متعدد دستاویزی شہادتیں پیش کیں۔ گواہوں پر جرح کا موقع فراہم کیا گیا۔
٭ چھٹا نکتہ:۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے نہیں بتایا کہ جسٹس صدیقی عدالتی ضابطۂ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔
٭ ساتواں نکتہ:۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں خطاب میں جنرل فیض حمید اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف الزامات لگائے، تو حکومتِ پاکستان اور آرمی چیف کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے خطوط میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ موصوف جج کے الزامات کی انکوائری کی جائے، مگر سپریم جوڈیشل کونسل نے درخواست دہندگان کی جانب سے انکوائری کرنے والی بات کو نظر انداز کرکے نہ تو موصوف جج کو الزامات ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا اور نہ جنرل فیض حمید اور ساتھیوں سے الزامات کی بابت کسی قسم کی انکوائری ہی منعقد کی۔
قارئین! جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چار دیگر معزز ججوں کے فیصلے کی بہ دولت جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کالعدم قرار پاچکی ہے۔ بہ ظاہر شوکت صدیقی اپنے عہدے پر بہ حال ہوچکے ہیں، مگر سال 2018ء کی پٹیشن کو کئی سالوں تک سپریم کورٹ کی بندالماریوں میں رکھنے کی بہ دولت جسٹس شوکت صدیقی ہائیکورٹ جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 62 سال سے اُوپر ہوچکے ہیں۔ لہٰذا موصوف اپنے عہدے پر براجمان تو نہ ہوسکیں گے، لیکن اُن کے اُوپر لگا ہوا بدنما داغ ضرور صاف ہوجائے گا…… مگر افسوس صرف اس بات پر ہو رہا ہے کہ ’’بابا رحمتا گینگ‘‘ اور اس کے ہینڈلروں کے پھیلائے ہوئے گند کی بہ دولت ریاست پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ کیوں کہ اسی بابا رحمتا گینگ نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو مسندِ اقتدار سے ہٹانے کے لیے آئین و قانون سے ہٹ کر ’’بلیک لا ڈکشنری‘‘ کا سہارا لیا۔ منتخب وزیرِ اعظم کو مسندِ اقتدار سے ہٹانے کے بعد بھی چین نہ آیا، تو غیر آئینی و غیر قانونی طور پر ٹرائل کورٹ پر اپنے ساتھی جج کو مانیٹرنگ جج مقرر کر دیا۔ شاید دُنیا میں ایسی مثال پہلی مرتبہ قائم ہوئی ہوگی۔اسی طرح جب قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کے فیصلے میں اسی گینگ کے ہینڈلروں کو قانون کی گرفت میں لانے کی بات کی، تو یہ گینگ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہوگیا اور دو سال سے زاید عرصہ اُن کو زیرِ عتاب لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لکھے ہوئے ’’جسٹس شوکت صدیقی کیس فیصلہ‘‘ نے بابا رحمتا گینگ کی زیرِ سرپرستی سپریم جوڈیشل کونسل کے اُس وقت کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں۔ 23 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ پاکستان کے ہر شہری اور خصوصاً قانون کے ہر طالب علم کو پڑھنا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔