آنے والے الیکشن کیسے ہوں گے، اُس دن کیا ہوگا اور پھر الیکشن کے بعد کی صورتِ حال کیا ہوسکتی ہے؟ سیاسی بصارت رکھنے والے لوگ تو اس صورتِ حال سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اب تک اس صورتِ حال پر جان دار اور غیر جانب دار تبصرہ سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی بھی فرماچکے ہیں۔ وہ ایک جہاں دیدہ سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ سابق وزیرِ اعظم بھی ہیں۔ اس لیے اُن کے بیان کے بعد اَب سب کی آنکھیں کھل جانی چائیں۔ خاص کر اُن لوگوں کی جو ملک کو اُس طرف لے کر جارہے ہیں۔
روحیل اکبر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akbar/
اگر لاہور کی بات کریں، تو اس وقت میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے چاروں حلقوں کا سروے کریں، تو اُن علاقوں میں سوائے اُن لوگوں کے اور کسی کی فلیکس نظر نہیں آتی۔ آزاد امیدوار اپنی اپنی فلیکس لگاتے ہیں، تو کچھ دیر بعد ہی اُسے اُتارنے والے پہنچ جاتے ہیں۔ جی ٹی روڈ باغبان پورہ کے قریب تو ٹاؤن کے اہل کاروں اور عا م لوگوں کے درمیان اچھی خاصی جھڑپ بھی ہونا شروع ہوچکی ہے۔ اِس وقت شالا مار ٹاؤن کے تقریباً 10 سے زائد ملازمین زخمی ہیں اور دوسرے ملازمین نے پولیس کے بغیر مخالفین کی فلیکسیں اتارنے سے انکار کردیا ہے۔ اب رات کے وقت پولیس کا ڈالا شالا مار ٹاؤن کے ملازمین کے ہم راہ جاکر امیدواروں کی فلیکسیں اُتار تا ہے۔ یہی صورتِ حال پورے ملک میں بنی ہوئی ہے اور سرکاری مشینری مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، استحکام پارٹی اور جے یو پی کے علاوہ ہر اُس اُمیدوار کو الیکشن سے قبل ہی میدان سے بھگانے کی کوشش کررہی ہے۔
سابق گورنر میاں اظہر جو خود بھی ایم این اے کے امیدوار ہیں، اُنھیں بھی گذشتہ روز گرفتار کیا گیا۔ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول ہے اور سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کو بھی قابو کرنے کے لیے اُنھیں ایف آئی اے کے ذریعے نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ہماری عدالتوں میں بیٹھے ہوئے منصفوں کا، جنھوں نے اس معاملے کو روک دیا ہے، بلکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی تازہ ترین کاروائی کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ صحافیوں اور یوٹیوبروں کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری نوٹسوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران میں چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے تمام نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس حوالے سے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے تنقید کی بنا پر کارروائی نہ کرے۔ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر 2 میں لیا۔ معاملہ 5 رکنی بینچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا۔ 5 رُکنی بینچ نے طے کیا کہ 184 (3) کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے۔ صحافیوں کی ہی نہیں ججوں کی بھی آزادیِ اظہارِ رائے ہوتی ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جنرل ضیا کے پاکستانی سیاست پر اثرات  
عمران خان کے کاغذات نام زدگی کیوں مسترد ہوئے؟ 
پی ٹی آئی بارے سپریم کورٹ تفصیلی فیصلے کے 20 نِکات 
باہر شیر اندر ڈھیر  
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بار بار کَہ رہا ہوں کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں گے؟ ہم تو غلطیاں تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرمجھ سے غلطی ہوئی ہے، تو مجھ پر اُنگلی اُٹھائیں۔ اگر اُنگلی نہیں اُٹھائی، تو میری اصلاح نہیں ہوگی۔ تنقید کریں گے، تو میری اصلاح ہوگی۔ تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں۔ آزادیِ صحافت آئین میں ہے۔ میرا مذاق بھی اُڑائیں، مجھے کوئی فکر نہیں۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں، تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے، وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔ ہمیں سچ بولنا چاہیے۔ یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے۔ جب تک کسی کو قابلِ احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا۔
دورانِ سماعت مطیع اللہ جان نے ارشد شریف قتل کیس کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے اُٹھاتے ہوئے کہا کہ مائی لارڈ ایک اسی نوعیت کا سنگین معاملہ بھی زیر التوا ہے اور وہ کیس شہید ارشد شریف کا ہے۔ اِس کیس کو بھی دیکھ لیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے کے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم د یتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالی گلوچ الگ بات ہے۔ ایف آئی اے تنقید کی بنا پر کارروائی نہ کرے۔ صحافی اگر عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں، تو کریں، لیکن کسی کو تشدد پر اُکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے۔ کسی بھی صحافی یا عام عوام کو بھی تنقید کرنے سے نہیں روک سکتے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کا یہ فیصلہ سنہرے حروف سے لکھا جائے۔ کیوں کہ تنقید نہیں ہوگی، تو پھر اصلاح کیسے ہوگی؟ ویسے بھی سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ دونوں شعبوں میں اگر ایمان داری اور ذمے داری کے ساتھ کام کیاجائے، تو عوام کی خدمت کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ کسی بھی علاقے کی تعمیر وترقی، عوام کی خوش حالی کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے پیغام اور عوامی مسائل کو اُجاگر کرکے حل کرنے میں پریس کلب اور علاقائی صحافی اہم رول پلے کرتے ہیں۔ بالخصوص وہ لوگ جن کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی، وہ مظلوم لوگ پریس کلبوں کے باہر آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں، تاکہ اُن پر نازل ہونے والی مصیبت کا حل تلاش کیا جائے۔ اسی طرح کسی بھی علاقائی پریس کلب اور علاقائی صحافی بھی اپنے اپنے علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیوں کہ پریس کلب علاقہ کا آئینہ اور صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتے ہیں اور جب تک صحافی اپنی ذمے داری ایمان داری کے ساتھ سرانجام نہیں دیں گے، تب تک معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ کسی شہری کی داد رسی ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ ہمارے صحافی کئی عرصہ تک دہشت گردوں کے نشانے پر رہے۔ اس دوران میں کئی نام ور صحافی کام کے دوران میں جان کی بازی ہار کر ہم سے جدا ہوئے۔ ہمیں ان کی قربانیوں کا احساس بھی کرنا ہوگا۔
مَیں خاص طور پر ارشد شریف اور ان جیسے بے باک اور نڈر صحافی جو راہِ صحافت میں شہید ہوئے۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
باقی رہ گئی الیکشن کی بات تو وہ صورتِ حال سب کے سامنے ہے اور جیسے جیسے وقت گزرے گا ویسے ویسے اور نکھر کر سامنے آتی جائے گی۔ ویسے اتوار کی ریلی میں جو پکڑ دھکڑ ہوئی، پی ٹی آئی ورکروں پر تشدد ہوا، وہ بھی قابلِ مذمت ہے، جب کہ ان کے مقابلے میں باقی جماعتوں کو سرکاری پروٹوکول میں ریلیاں نکلوائی جارہی ہیں، کیا پاکستان کے عوام اس قدر جاہل ہیں کہ وہ سوچنے سمجھنے کی قوت سے بالا تر ہوچکے ہیں کہ جو مرضی ہوتا رہے اور لوگ خاموشی سے اپنی آنکھیں اور کان بند کرکے بیٹھے رہیں؟ ایسا بھی نہیں ہے اور نہ وقت ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ اس لیے قائدِاعظم کے اس جمہوری ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی رہنے دیا جائے اور ہر کسی کو الیکشن لڑنے، تنقید کرنے اور بولنے کی آزادی دی جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔