پاکستان میں عدلیہ کے فیصلوں کو اُس وقت ہوا میں اُڑا دیا جاتا ہے، جب وہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی ذاتی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہو تے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات 90 رروز میں ہونے کا سپریم کوریم کورٹ کا حکم حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔ محض اس فیصلہ سے کئی اداروں کی سبکی ہونے کا اندیشہ تھا۔
طارق حسین بٹ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/butt/
عمومی رائے تھی کہ عوام شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے ناراض تھی اور اُسے اپنے ارمانوں کا قاتل سمجھتی تھی۔ بجلی اورروزمرہ ضروریاتِ زندگی کی اشیا عام انسانوں کی پہنچ سے باہر ہوگئی تھیں۔لہٰذا عوام میں برداشت کا مادہ مفقود ہوگیا تھا۔ مہنگائی کا جو سونامی اُمنڈا تھا، وہ تبا ہ کن تھا۔اس کیفیت نے عوام کے اوسان خطا کر دیے تھے۔ لہٰذا وہ حکومت کو سبق سکھانا چاہتے تھے۔ اسمبلی انتخابات میں عوام حکومت کے اقدامات کے خلاف ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ انتخابات کو التوا میں ڈال دیا جائے، اور اُنھوں نے بالکل ایسے ہی کیا۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات نہ ہونے تھے، نہ ہوئے۔ کیوں کہ شکست نو شتہ دیوار تھی۔
اُس وقت پی ڈی ایم حکومت عوای غیظ و غضب کا شکار تھی۔ اس حوالے سے عوام کا غصہ بھی بجا تھا۔ کیوں کہ پی ڈی ایم کی حکومت نے عوام دشمن اقدامات سے عوام کا جینا دو بھر کر دیا تھا۔ وہ غم و غصہ آج بھی برقرار ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی حکم عدولی پر نہ تو کسی ادارے کو توہینِ عدالت کا نوٹس ملا اور نہ کسی ادارے کی سرزنش ہی ہوئی۔ کیو ں کہ مقتدرہ کو یہ سب منظور نہیں تھا۔
دوسری طرف سپریم کورٹ بے بسی کی تصویر بنی یہ سب کچھ دیکھتی رہی، لیکن وہ کسی کو کوئی سزا نہ دے سکی۔ کیوں کہ سزا پر عمل در آمد کروانے والے خود بھی انتخابات کو ملتوی کروانے والوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
اس موقع پر الیکشن کمیشن نے جس طرح کے بہانے تراشے اور جس طرح سے آئین کی تشریح کی وہ ایک علاحدہ کہانی ہے۔ کبھی فنڈز کا رونا رویا گیا اور کبھی الیکشن سٹاف کی عدمِ دست یابی کو جواز بنا کر پیش کیا گیا۔ حالاں کہ کسی بات میں صداقت نہیں تھی۔
ایک خوف تھا جو کہ ہر ادارے پر قائم تھا اور وہ خوف آج بھی قائم ہے۔ لہٰذا ایک مخصوص جماعت کو نشانہ بنالیا گیا ہے، تاکہ انتخابی نتائج من پسند نکل آئیں اور جان چھوٹ جائے، لیکن وہ جماعت اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والی نہیں۔ کپتان کی ضد ساری دنیا میں مشہور ہے۔ لہٰذا کچھ بھی ہوجائے، وہ جماعت الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا دیکھا جائے گا۔
قارئین! الیکشن کا التوا آئینِ پاکستان کی کھلی توہین تھی، لیکن کوئی اس پر لب کشائی کے لیے تیار نہیں۔ جب مقصد کسی ایک جماعت کا راستہ روکنا ہو، تو پھر بہانے تراش لیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل بھی تو یہی ہوتا رہا ہے۔ طالع آزما اپنے قوتِ بازو سے آئین کا بازو مروڑ دیتے ہیں اور کوئی اُن سے جواب طلبی کی ہمت نہیں کرتا۔
جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل پرویز مشرف نے اپنی عسکری قوت کی بہ دولت منتخب وزرائے اعظم کو تخت سے برخاست کیا اور خود زمامِ اقتدار سنبھال لی۔ کسی عدالت نے اُنھیں برا بھلا کہا اور نہ اُن کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہی کھڑی کی، بلکہ اُنھیں آئینی تحفظ فراہم کیا، تاکہ ریاستی امور میں کوئی رخنہ اندازی مخل نہ ہونے پائے۔
مذکورہ سلسلہ اب ایک نئے انداز سے جاری و ساری ہے۔ ریاست کا جبر اپنی انتہا کو چھو رہا ہے اور سیات دان آہنی زنجیروں میں مقید کر دیے گے ہیں۔ الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، جس کی مدت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ جو زیادہ اُچھل کو د کرنے کی کوشش کرتا ہے، اُسے ’’لاپتا افراد‘‘ کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے، تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
اب سوال یہ ہے کہ جب جبر اپنی حدود سے تجاوز کرجائے، تو کوئی ایک ادراہ تو ہونا چاہیے، جو سیاسی قائدین کو ریلیف دے اور اُن کی اشک شوئی کرے۔وہ ادراہ عدلیہ کا ادارہ ہے، لیکن وہ بھی دباو کا شکار ہے۔ اس کے ہاتھ میں قلم بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ کیوں کہ جبر کی قوتیں اس پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے جو لیلا رچائی ہوئی ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے اور ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس کے حالیہ فیصلے انتہائی غیر منطقی اور تعصب انگیز ہیں، جس سے مخصوص جماعت کو نشانہ بنایا ہوا ہے، لیکن ایساکب تک ہوگا؟
دیگر متعلقہ مضامین:
پارٹی کارکن سیاست کا ایندھن ہیں 
غیر منطقی طور پر سیاست زدہ معاشرہ  
سیاست دانوں کو بدنام کرنا مسئلے کا حل نہیں 
سیاست میں مذہبی ٹچ 
مخاصمت کی سیاست میں کسی کا بھلا نہیں 
اگر معا ملہ زِندانوں کی کال کوٹھریوں تک ہی رہنا ہے، تو پھر عدلیہ جیسے ادارے کا قیام چہ معنی دارد……جب ظلم کو ظلم نہیں کہا جاسکتا، تو پھر عدلیہ کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ جب رات کے سائے گہرے ہو جائیں اور سائلین کا اس اندھیرے میں جینا دوبھر ہوجائے، تو پھر عدلیہ انصاف کے دیپ جلا کر ہر سو عدل و انصاف کے پھول کھلا تی ہے، جس سے اندھیرے کافور ہو جاتے ہیں، سچ کی جیت ہوتی ہے اور ظلم کا وجود مٹ جاتا ہے۔
وہ لوگ جنھیں جھوٹ، عداوت اور ذاتی انا کی وجہ سے زِندانوں میں پھینکا جاتا ہے، اُنھیں رہائی مل جاتی ہے۔ ظلم کی راہ کھوٹی ہوجاتی ہے اور سچائی کا بول بالا عوام میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔ جھوٹ کی شکست سے ایک نئی قوم جنم لیتی ہے اور یوں سفرِ زندگی میں اس کا نیا مقام متعین ہوتا ہے۔
یقین کیجیے، قومیں جھوٹ سے نہیں بلکہ سچ کی کوکھ سے توانائی حاصل کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم جھوٹ کے ایک ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، جو اسے دن بہ دن تنزلی کی جانب کھینچ رہا ہے۔ پاکستانی قوم بڑی باہمت، جرات مند، ذہین، حاضر دماغ اور فن کار ہے، لیکن جھوٹ کی لعنت نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔
عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اس تنزلی کے ذمے دار ہیں۔ اگر انصاف کی شمع روشن رہتی، تو قوم کے اذہان بھی روشن رہتے اور قوم میں سچ کی خاطر کھڑا ہونے کی جرات بھی زندہ رہتی۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ ذاتی مفادات کی خاطر اس قوم کے ساتھ جو ظلم روا رکھاگیا ہے، وہ انتہائی قابلِ نفرت ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں سچائی کا کھوج لگانا چنداں مشکل نہیں، مفاد پرست ٹولا پھر بھی جھوٹ کی ہنڈیا چڑھانے سے باز نہیں آتا۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ غلط ہے…… لیکن وہ پھر بھی اپنے مذموم ارادوں سے باز نہیں آتے۔ ہر الیکشن سے پہلے ایک شخص کو لاڈلا بنا لیا جاتا ہے اور پھر لائل پور کے گھنٹا گھر کی طرح سارے راستے اُسی کے گھر کی طرف جاتے ہیں۔ درِ یار کے طواف کا مفروضہ شائد انھی پر صادق آتا ہے۔ مخالفین کو نا اہل کیا جاتا ہے اور ان کی جماعت کو تتر بتر کر دیا جاتا ہے۔ یہ کرپشن کی فائلوں کا کمال ہوتا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے جبر کا شاخسانہ کہ کوئی بھی انسان بادِ مخالف میں کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کرتا۔
قارئین! انسانوں کے اندر جب انسانی گوہر مٹ جاتا ہے، تو پھر ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔علامہ محمد اقبالؔ کی زبان سے اس حقیقت کی گرہ کشائی دیکھیے:
میرِ سپاہ نا سزا لشکریاں شکستہ صف
ہاں وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کئی ہدف
تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
لاڈلی اور مخصوص جماعت کے لیے فضا خود بہ خود ہم وار ہوتی چلی جاتی ہے اور پھروہ مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے جاتے ہیں، جن کے لیے سارے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے لیے مسند سجائی گئی ہوتی ہے، اُنھیں پورے تزک و احتشام کے ساتھ مسند پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ وہ اس مسند کے اہل بھی ہیں یا کہ نہیں اور مخالفین کو جیلوں کی بلندو بالا دیواروں سے باتیں کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یا اُنھیں جَلا وطنی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
بلا وجہ زِندانوں کا رزق بننے اور گلنے سڑنے سے تو کہیں بہتر ہو تا ہے کہ انسان کھلی فضا میں سانس لے کر مستقبل کی منصوبہ بندی کر ے اور ظلم کے خلاف ایک نئے ولولہ کے ساتھ حملہ آور ہوکر اسے نیست و نابود کرے۔
اس وقت پاکستان میں جو روش اپنائی گئی ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے…… اور کوششِ بسیار کے باوجود مظلوبہ نتائج کے لیے فضا سازگار نہیں ہو رہی۔ لہٰذا جبر اور ریاستی طاقت کے ذریعے مخالفین کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے اور اُنھیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ ایسا رویہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا المیہ ہے، جس کی کوکھ سے کئی مسائل جنم لیں گے۔ کیا ہم اُن مسائل سے نبرد آزما ہوسکیں گے؟
یہ سوال ہر ذی ہوش پاکستانی کا منھ چھڑانے کے لیے کافی و شافی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔