آپ کسی بھی والدین یا ٹیچر سے پوچھیں کہ ان کے بچے تعلیمی میدان میں کیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں؟ تمام نہیں تو بیشتر کا جواب یہی ہوتا ہے: ’’لڑکیاں اچھا پڑھ لیتی ہیں…… لیکن لڑکوں نے نہ پڑھنے کی قسم کھا رکھی ہے…… اور ان کے رویے کو کنٹرول کرنا بھی ایک الگ عذاب ہے۔‘‘
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/ishaq/
چوں کہ اکیسویں صدی تعلیم و شعور کی صدی تصور کی جاتی ہے، جہاں تعلیم ہماری زندگی کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کی سی اہمیت اختیار کرچکی ہے (مستقل فیل ہونے والے بچے یا پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر اکثر طالب علم ڈپریشن میں مبتلا یا خودکشی جیسے عوامل کو انجام دیتے پائے جاتے ہیں۔) ہماری خوشیاں، کامیابی اور شخصیت کو بھی ہماری اسناد سے ماپا جاتا ہے۔ اب ایسے میں جب ہمارے بچے اس میدان میں پیچھے رہ رہے ہوں، تو والدین کا فکر مند ہونا بہت ضروری ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت "Boy Crisis” نامی ایک مسئلے نے لڑکوں کے تعلیمی میدان میں بری پرفارمنس اور رویے کو لے کر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ماہرِ تعلیم "Gender Studies” کی تحقیق اور اعداد و شمار سے جو نتایج سامنے آئے ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں نے لٹریچر سے لے کر سائنس اور ریاضی (جو خاص مردوں سے وابستہ مضامین مانے جاتے ہیں) میں لڑکوں سے بہت بہتر نتایج دیے ہیں۔ اس صدی میں یونیورسٹی سے اعلا تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے (پریکٹیکل فیلڈ میں یہ تعداد کم کیوں ہے؟ یہ ایک علاحدہ بحث ہے۔)جہاں "Gender Pay Gap” کم ہوتا جارہا ہے، وہاں "Gender Education Gap” وسیع ہوتا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی بات کریں، تو "Oslo Summit On Education and Development (2015)” نے ہمارے ملک کو تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا ہے (یہاں بلاشبہ نہ صرف اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد کم ہے، بلکہ لڑکے بھی اس بنیادی عیاشی سے محروم ہیں۔) ہم بات کریں گے اُن والدین کی جو اپنے بچوں کے لیے بہترین یا اپنی استطاعت کے مطابق اسکولوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
عمرانیات اور سیاسیات میں فرق:
https://lafzuna.com/blog/s-30074/
پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پروگرام (PSEP) کی ایک ریسرچ رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کی کارکردگی تمام مضامین (ما سوائے ریاضی، جس میں زیادہ نہیں بس اُنیس بیس کا فرق آیا ہے) میں مخالف جنس کی نسبت بہت بہتر ہے۔ محض تعلیم ہی نہیں بلکہ رویے اور ’’سوشل سکلز‘‘ میں بھی لڑکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یوں اچانک اس صدی میں لڑکوں کے رویے اور کارکردگی پر اعتراضات کی بھرمار کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا ان مسایل کو زیرِ بحث لانا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ آنے والے وقتوں میں اس "Gender Gap” کے ہول ناک نتایج سے بچا جا سکے؟
وجوہات یقینا ان گنت ہیں…… لیکن چوں کہ "Boy Crisis” ایک گلوبل ایشو کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے، تبھی اس پر مختلف ماہرین سے مختلف قسم کے نظریات سننے میں آتے ہیں۔
لرننگ اور ٹیچنگ سے وابستہ افراد کی ریسرچ کہتی ہے کہ اکیسویں صدی کی کلاس رومز کچھ اس طرح سے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اس میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے بچے کا "Self-regulatory” ہونا ضروری ہے (یعنی گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر لیکچر سننا، اسے باقاعدگی سے نوٹ کرنا، ڈسپلن اور انسٹرکشنز کو فالو کرنا، بورنگ اور "Frustrated Assignments” کو وقت پر مکمل کرنا، منظم رہنا۔) ایکسپرٹس کے مطابق یہ کلاس رومز لڑکیوں کے حق میں بہتر اور لڑکوں کے لیے بوریت کا سامان ہیں۔
تربیتی عناصر پر اگر غور کیا جائے، تو معاشرے میں اولادِ نرینہ کی ’’سوشلائزنگ‘‘ کے طور طریقے کچھ اس طرح سے تشکیل دیے گئے ہیں کہ ان کے لیے اسکول ایک عدم دلچسپی کی جگہ ثابت ہوتی ہے۔ خالص "Masculinity Model” کے زیرِ اثر پنپنے والے آزاد ذہنوں کے لیے اکیسویں صدی کی تعلیم گاہ کسی جیل سے کم نہیں۔ مردوں کے حقوق سے وابستہ کچھ تحریکوں نے اس بحران کی وجہ فیمنزم (Feminism) کو قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور کے اسکول اور نصاب خالص فیمنسٹ (Feminist) اُصولوں پر نافذ ہیں…… جس کی وجہ سے طالب علموں کو کلاس رومز میں مشکلات کا سامنا ہے۔ فیمنسٹ مائنڈ کی ٹیچرز کا رویہ لڑکوں کی طرف جانب دارانہ ہے۔ ان تحریکوں نے کلاس رومز کو "Boy-friendly” بنانے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شعبۂ تعلیم سے وابستہ مرد اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے۔ خاص کر ’’کنڈر گارٹن‘‘ اور ابتدائی تعلیم میں مردوں کی شراکت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ لڑکوں میں پڑھنے لکھنے کے فقدان اور عدم دلچسپی کو اوائلی سالوں میں کلاس رومز میں مرد اساتذہ کا بحیثیت ایک رول ماڈل موجود نہ ہونا بھی مانا جارہا ہے۔ بچوں میں پائی جانے والی معذوری (جن میں Antisocial Behavior, Attention Disorders, Autism Spectrum Disorders, Dyslexia, Stuttering, Delayed Speech) کی شرح لڑکوں میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے انھیں خاص توجہ اور روایتی انداز سے ہٹ کر پڑھانے کی ضرورت ہے۔
اقبال اور ہمارے چار گروہ:
https://lafzuna.com/poetry/s-30022/
اکیسویں صدی میں معیشت اور سائنس نے "Muscles” سے "Microchip” کا جو سفر طے کیا ہے، اس کے اثرات مردوں پر بہت منفی حد تک پڑے ہیں۔ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں اور ہیوی مشینری کے ہوتے ہوئے اب محنت اور مشقت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اس منتقلی کی بدولت اعلا تعلیم کے بغیر اچھی جاب ملنے کا تصور ماند پڑرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر عالمی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے۔ بچے (خاص کر لڑکے) ماں باپ کی علاحدگی کی وجہ سے "Father-figure” یعنی والد کے کردار کو بھر پور طریقے سے سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کی بدولت ان میں تشدد، خود اعتمادی کی کمی اور بُرے گریڈز دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس بحران کی وجہ "Male-parent” کا لڑکوں کی زندگی میں بھرپور کردار ادا نہ کرنا بھی خیال کیا گیا ہے۔
پاکستان میں طلاق کی شرح بہت کم ہے، لیکن مرد حضرات کا بچوں کی تربیت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ کیوں کہ انھیں اپنی سوشل سرگرمیوں سے فرصت کم ملتی ہے اور ہماری سوسائٹی میں اس کا کوئی تصور بھی موجود نہیں (اب تو سوشل میڈیا بھی آگیا ہے، حالات اور بھی گھمبیر ہیں۔)
مسایل ہوں اور اس میں میڈیا کا منفی کردار شامل نہ ہو، یہ ہرگز ممکن نہیں۔ ٹین ایجرز جب فلموں یا ڈراموں میں دیکھتے ہیں کہ کلاس کا سب سے "Cool Dude” ایک بہت ہی بے پروا لڑکا ہے۔ ٹیچرز سے بدتمیزی کرتا ہے۔ بیک بینچر ہے۔ پڑھائی سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ اسکول بنک کرنا اس کا اسٹائل ہے۔ لڑنے جھگڑنے میں نمبر ون، لڑکیوں پر "Sexist” کومنٹ پاس کرتا ہے، لیکن پھر بھی لڑکیاں اسی کو پسند کرتی ہیں۔ اس کی نسبت جو لڑکا پڑھتا ہے اور اچھا رویہ رکھتا ہے، کلاس میں وہ بزدل ہے اور اس سے لڑکیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں۔ یہ فارمولا فلموں میں شاید کامیاب ہو…… لیکن حقیقی زندگی میں شدید ناکامی کا باعث ہے۔
والدین، پالیسی میکرز اور ٹیچرز، ان تینوں کے کردار کے بغیر اس مسئلے کا حل تلاشنا ممکن نہیں۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کی کامیابی پر بہت خوشی ہے…… لیکن ہمیں اپنے بیٹوں کے مسایل پر بھی نظر دوڑانی ہوگی۔ اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک جنس پر ٹوٹنے والے مسایل کا اثر یقینا مخالف جنس پر بھی پڑتا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔