بیشتر انسانوں کے لیے خود غور و فکر کرنا، زندگی کے گورکھ دھندوں سے نمٹنا اور آگے بڑھنے کے لیے راہیں متعین کرنا دشوار ہوتا ہے…… یا انھوں نے ایسا سمجھا ہوتا ہے۔ اس لیے انھیں ایک ایسے رہنما کی تلاش ہوتی ہے جس کے قدم سے قدم ملا کر آنکھیں بند کرکے پیروی کی جا سکے۔ ایسے میں میرِ کارواں ایک بُت بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس قدر گہرا جذباتی ناتا جڑ جاتا ہے کہ اس کی کہی ہوئی کسی بھی بات پر تنقید ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔ قاید کی جہان دیدگی سے تو استفادہ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن اس کی تمام تر نادیدگی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
اکثر حالات میں جہاں دیدگی کی بھی ایک طے شدہ میعاد ہوتی ہے اور نئی دریافتوں اور ایجادات کے بعد یہ بھی ایکسپائر ہوجاتی ہے۔ لہٰذا پھر لکیر کے فقیروں کا مشکل میں پڑجانا طے ہوتا ہے۔
ظہیر الاسلام کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/zaheer/
آج تک ایسا انسان نہیں دیکھا جو ہو بہو وہی زندگی جیتا ہے جس کی وہ تبلیغ کرتا ہے۔ آپ دنیا کے بڑے بڑے فلسفی اُٹھا کر دیکھ لیجیے، پہلے تو ان کا فلسفہ بذاتِ خود ایک "Paradox” ہوگا اور اگر ایسا نہ بھی ہو، تو ان کے قول و فعل میں تضاد ضرور ہوگا۔ تھیوری اور عمل میں فرق کا نمایاں ہونا ایک بشری تقاضا ہے ۔
اس طرح ایسا بھی کوئی شخص نہیں گزرا جس نے کبھی کچھ غلط نہ کہا ہو۔ اس لیے کسی شخص کے ساتھ صد فی صد متفق ہونا ایک ذی شعور انسان کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ اقبال بھی اس سے مستثنا نہیں…… لیکن پھر بھی ان کے حوالے سے ہمارے ہاں چار بڑے گروہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
٭ پہلا گروہ:۔ وہ جن کی اقبالؔ کے ساتھ محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ اقبالؔ کا ہر فرمان بطورِ ضرب المثل پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر کسی حوالے سے تنقید کرتا ہے، تو کمر کس کر اقبالؔ کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ چوں کہ اقبالؔ کی شخصیت کا یک طرفہ تذکرہ انتہائی ابتدائی جماعتوں سے نصاب کا حصہ ہوتا ہے اور ریاست کے قومی شاعر اور مبینہ مفکر ہونے کے ناتے انھیں ہر پلیٹ فارم پر ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، اس لیے اقبال کے ساتھ اس حد تک عقیدت ہونا سمجھ سے بالاتر بالکل نہیں۔ جیسے پہلے بتایا گیا ہے، ان لوگوں کو اقبالؔ میں وہی قاید نظر آتا ہے جس کی بغیر کسی جھجک کے پیروی کی جا سکتی ہے۔
غصہ اور اس کی قسمیں:
https://lafzuna.com/blog/s-30009/
٭ دوسرا گروہ:۔یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے، جو اقبالؔ سے کچھ اختلافات یا ان کے قول و فعل میں کچھ تضادات کی بنیاد پر پورے اقبالؔ کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ان کا مذاق بھی اڑاتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے فہم کے آگے اقبال کی کوئی حیثیت نہیں۔ حالاں کہ عموماً معاملہ الٹ ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر مغربی مفکرین سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض مفکرین کو وہی درجہ دیتے ہیں جو اولذکر گروہ نے اقبالؔ کو دیا ہے۔ اس گروہ کو مناسب ردِ استعماریت (Decolonization) کے بعد معتدل نقطۂ نظر کی طرف مایل کیا جاسکتا ہے۔
٭ تیسرا گروہ:۔ یہ گروہ ذکر شدہ دو گروہوں کی طرح انتہا پسند نہیں۔ یہ لوگ نہ تو اقبالؔ کی مکمل نفی کرتے ہیں اور نہ ان کا بُت تراشتے ہیں۔ اس گروہ کو اقبالؔ بھی اپنے جیسا بشر معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا ان میں کوئی فرشتہ ڈھونڈنے کی بجائے انھیں انسانی کم زوریوں اور صفات کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اقبالؔ کے ساتھ ان لوگوں کی عقیدت جذباتی سے کہیں بڑھ کر علمی ہوتی ہے۔ یہ لوگ شرق و غرب کی تفریق میں نہیں پڑتے۔ جہاں سے بھی سیکھنے کو کچھ ملتا ہے، بلا تردد سیکھ لیتے ہیں۔ اپنا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے۔ تاحال جہاں تک اقبال کو جانا ہے، ان کا پسندیدہ گروہ بھی تیسرا ہی ہے۔ انھوں نے کسی کی اندھی تقلید نہیں کی اور نہ حصولِ علم کے سلسلے میں مذہبی اور ثقافتی بٹوارے کو رکاوٹ بنایا۔ ہر مکتبِ فکر کا مطالعہ کر کے اپنا راستہ خود متعین کیا۔ ممکن حد تک اپنے طرز کی ایک تعمیرِ نو کی کوشش کی جس کا ثبوت ان کی تصنیف "The Reconstruction of Religious Thought in Islam” میں بخوبی ملتا ہے۔ انھوں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میرا بُت تراش لیں اور جو کچھ مَیں نے کہا یا کیا ہے، اسی تک محدود رہیں۔ وہ بذاتِ خود ایک پیہم سفر میں رہے اور دوسروں کو بھی جہدِ مسلسل اور تجدید کا سبق دیا۔ فکر کا سفر انھی تک محدود کرنا اور انھیں ایک فوق البشر والی حیثیت دینا مخصوص ریاستی سرپرستی اور ہماری اپنی کاہلی کا نتیجہ ہے۔ اس میں اقبالؔ کا ذاتی طور پر کوئی قصور نہیں۔ یہ تو ہماری ذمے داری ہے کہ جو عمارت انھوں نے کھڑی کی ہے، پہلے اس کی جان پڑتال کرلیں اور پھر جہاں مناسب لگے، مرمت کرلیں، جہاں ضرورت محسوس ہو، نئی اینٹیں لگا لیں…… لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جس حد تک اقبال کو موضوعِ بحث بنایا جاتا رہا ہے، اتنا ان کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ سنی سنائی باتوں پر ایک گروہ نے انھیں امام بنا لیا، جب کہ دوسرے نے یکسر رَد کر دیا۔ مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ فیس بک پر موجود میرے چار ہزار دوستوں میں سے شاید ہی بیس لوگوں نے اقبال کی کتاب "The Reconstruction of the Religious Thought in Islam” کی ورق گردانی کی ہو۔ اسے پوری طرح سے سمجھنا، تو دور کی بات ہے۔ فارسی کلام پڑھنے والوں کی تعداد اس سے بھی کم ہوگی۔ مَیں خود بھی اقبالیات کا ابتدائی طالبِ علم ہوں۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے:
https://lafzuna.com/blog/s-29995/
٭ چوتھا گروہ:۔ چوتھا گروہ وہ ہے جو نثر نما اشعار میں دل کی بھڑاس نکال کر نیچے لکھ لیتا ہے: ’’اقبالؔ!‘‘ اقبال نے ہمیں متواتر تعمیرِ نو اور اجتہاد کا پیغام دیا، لیکن ہم نے اس حوالے سے ان ہی کی طرف سے کی گئی محنت پر بس کیا۔ مولانا مودوی کو جہاں تک مَیں نے سمجھا ہے، اجتہاد کے بڑے قایل تھے۔ جماعتی بھی انھیں گذشتہ صدی کا سب سے بڑا مجتہد مانتے ہیں، لیکن جماعتیوں نے بھی اجتہاد کو ان ہی پر ختم کیا ہے۔ ایک طرف دعوا کرتے ہیں کہ اپنا کوئی فرقہ نہیں جب کہ دوسری طرف جب مودودی صاحب کے مقابلے میں ابو الکلام آزاد، مولانا وحید الدین خان، جاوید غامدی، ڈاکٹر اَسرار وغیرہ لا کھڑے کیے جاتے ہیں، تو پھر ان کی فرقہ پرستی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ یہی رویہ باقی مکاتبِ فکر کا اپنے رہنماؤں سے متعلق ہے۔
ہم نے اگر آگے بڑھنا ہے، تو جمود اور بت تراشیوں سے باز آنا ہوگا۔ بقولِ اقبالؔ
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔