کیا سات مہینے کا وقت، وہ بھی سیاسی اور معاشی عدمِ استحکام کی قیمت پر، اس لیے دیا گیا تھا کہ جو فسانہ مزید آگے بڑھنے والا نہ تھا، اس کو کوئی اچھا موڑ دے کر ختم کرنے کی کوشش ہو رہی تھی؟
کیا جمعرات کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی، وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کی یکے بعد دیگر پریس کانفرنسیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ڈرامے کی ناکامی کے بعد بھی کٹھ پتلیاں اسٹیج چھوڑنا نہیں چاہتیں…… اور اب تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق اسٹیج اُلٹانے اور پتلیوں کے اُچھالنے کا فیصلہ ہوچکاہے……؟
سابقہ کٹھ پتلی کی خود اعتمادی اور جارحانہ انداز کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں انگڑائی لینے لگتا ہے کہ آیا موصوف کو سابق سے زیادہ طاقت ور پشت پناہی والے ملے ہیں…… یا وہ خود فریبی یا کسی اور ’’فریب‘‘ کا شکار ہوا ہے…… یا پھر وہ مرنے مارنے پر اتر آیا ہے؟
ان سوالات کے واضح جوابات شاید عن قریب عوام الناس کو مل جائیں۔ کیوں کہ سیاسی ہلچل اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور اس کا ڈراپ سین جلد متوقع ہے۔ کیوں کہ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رو سے بحران کی شدت، بحران کا حال لے کر آتی ہے۔
بہرحال میری دعا و منشا یہ ہے کہ ہاتھ سے لگائی گئی گرہیں اب دانتوں سے کھل جائیں اور چاقو قینچی کی نوبت نہ آئے۔ ہم دودھ کے جلے ہیں، اس لیے چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے کے عادی ہیں۔ اس ضمن میں اپنی 75 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اپنی بنائی ہوئی کٹھ پتلیوں میں بسا اوقات بدروح گھس جاتی ہے اور وہ اُودھم مچادیتی ہیں۔ پھر ایسی کٹھ پتلی کو ٹھکانے لگانے کے لیے مزید ماورائے آئین و قانون راستے اپنائے جاتے ہیں اور یوں یہ سرکس ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کیوں کہ ہم ایسے کرداروں کو مسلط کرتے ہیں ڈنڈے کی مدد سے۔ پھر ان سے کیوں توقع رکھی جائے کہ محض آئینی دفعات کے وِرد اور دَم سے دفع ہوں گے۔ آئین اور قانون تو وہ مانتے ہیں، جو آئینی اور قانونی راستے سے آتے ہیں۔
عمران نیازی کو خود بھی معلوم ہے کہ اس کو کرسی پر بٹھانے کے لیے ڈنڈے کو آئین اور جمہوریت کی گھاس میں لپیٹا گیا تھا۔ اس لیے تو وہ آئینی راستے سے وزیرِ اعظم ہاؤس سے نکلنے کے لیے سرے سے تیار نہیں تھے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پہلے سے خبطِ عظمت اور کمال درجے کی نرگسیت میں مبتلا شخص، جس کی پوری زندگی عیاشی، شہوت پرستی، خود پرستی، سماجی بے راہ روی اور سماجی و مذہبی اقدار سے عاری پن میں گزری ہو، اس پر مسیحا، مذہب، راہ نما اور مقبولیت کا ملمع چڑھانے سے اس کا اس قسم کی ذہنی صورتِ حال سے دوچار ہونا ہی تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں اُسترا آیا ہے، یا یہ کہیے کہ دے دیاگیا ہے…… اور اس استرے کی زد میں 22 کروڑ عوام کا سیاسی و معاشی مستقبل ہے۔ لہٰذا آیندہ کے لیے کم از کم یہ سبق تو سیکھ لیا جائے کہ سیاست میں مقبولیت حاصل کرنے والے اور کھیل یا شوبز کی مقبولیت سے سیاست میں آنے والوں کی ذہنیت اور رویوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتاہے۔
عمران نیازی کو خود اچھی طرح اندازہ ہے۔ کیوں کہ موجودہ سیاسی و معاشی حالات میں اس کی پونے 4 سالہ حکم رانی کا عمل دخل ہے۔ اس لیے اُس کو اِس کی سنگینی کا اچھا ادراک بھی ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ لانے والوں نے اس کو خوشی سے نہیں بلکہ دل پر پتھر رکھ کر باقاعدہ آئینی طریقے سے نکالا۔ کیوں کہ اس کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں سے جون تک مہنگائی کا وہ طوفان آنا تھا کہ عوام موجودہ مہنگائی کے لیے ترس کر رہ جاتے۔ دوسری طرف اس معاہدے کی خلاف ورزی اور دنیا سے سفارتی تعلقات کی تباہی کی وجہ سے اگرعمران نیازی بجٹ تک وزیرِاعظم رہتا، تو ملک کا دیوالیہ ہونا تقریباً یقینی تھا…… جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ خصوصاً پیٹرول، بجلی، ادویہ وغیرہ مہنگا رکھ چھوڑیں، ملنا مشکل ہوتا…… لیکن پھر بھی صاحب کو کرسی واپس چاہیے…… خواہ اس کے لیے ملک کو سیاسی عدمِ استحکام سے دوچار ہونا پڑے، یا مالی و معاشی طور پردیوالیہ ہونا پڑے، لاشیں گریں…… یا ’’بلقانائزیشن‘‘ (Balkanization) ہوجائے، اُس کو اِس سے کوئی سروکار نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ نتایج کی پروا کے بغیر ہر وہ حربہ استعمال کر رہا ہے جس سے دباو ڈال کر اقتدار واپس حاصل کرلے۔ اِس میں اُس کو ارشد شریف کی لاش مل گئی، جس کو کندھے پر اُٹھاکر وہ گندی سیاست کھیلنا چاہتا ہے۔
پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی تاریخ اور کرتوتوں کو ذہن میں رکھ کر اب کوئی اس کی سچی بات پر بھی یقین کرنے کے لیے تیار نہیں…… لیکن اگر ارشد شریف کے خاندانی پس منظر، اس کے پچھلے تعلقات اور حیثیت اور اس کے قتل کے مضمرات، معروضی سیاسی حالات اور اس کے ممکنہ نتایج کو ذہین میں رکھا جائے، تو کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کو باؤلے کتے نے کاٹا تھا کہ وہ اس صورتِ حال میں اس کا قتل کرتے؟
ایک باخبر صحافی نے پچھلی رات اپنے ’’ولاگ‘‘ (Vlog) میں کہا کہ انھوں نے ادارے کے ایک فرد سے گلہ کیا کہ ہم کو تو بہت معمولی اور مزاحیہ باتوں پر رگڑا دیا…… لیکن ان کو آپ لوگ کچھ نہیں کہتے۔ جواب ملا کہ کیا کیا جائے ……اپنا بھتیجا ہے!
اس کے باوجود ارشد شریف خیبر پختونخوا حکومت کے تھریٹ الرٹ سے ڈر کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ اب عجیب بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو یہ پتا نہ چلا کہ سوات میں طالبان کب اور کسی آئے…… لیکن یہ ارشد شریف کی زندگی کو درپیش خطرے کے منصوبے کو ’’انسپکٹر کلوسو‘‘ بن کر سونگ گئے۔
بہرحال جس طرح آج کی پریس کانفرنس میں دونوں ’’ڈی جیز‘‘ بار بار آئین اور قانون کا سہارا لے کر اور حوالہ دے کر اپنی بات میں وزن ڈالتے رہے…… امید ہے کہ یہ عمل معروضی سیاسی حالات کے دباو سے نکلنے کے لیے نہیں…… بلکہ اس ملک کے 22 کروڑ بدقسمت عوام کو ان کا اقتدارِ اعلا واپس کرنے کی شروعات ہوگا۔ مزید یہ کہ یہ موجودہ سیاسی فتنے سے ماورائے آئین نہیں بلکہ آئینی و قانونی دایرے میں رہ کر نپٹنے کا عزم ہوگا۔ اس کے لیے پریس کانفرنس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پارلیمان کو اس کا اصل اختیار دیا جائے۔ موجودہ سیاست زدہ اعلا عدلیہ کو صحیح معنوں میں عدلیہ بنایا جائے۔ چیف جسٹس کی ججوں کے تعین سے لے کر سوموٹو بنچ کی تشکیل تک ویٹو نما حیثیت میں توازن لایا جائے۔ ججوں کا تقرر اور ان کی حدود وقیود متعین کرنے کا اختیار پالیمنٹ کو واپس کیا جائے۔
کیوں کہ پچھلے دس پندرہ سالوں سے جمہوریت کو ’’ٹریپل ون بریگیڈ‘‘ سے زیادہ خطرہ مخصوص طریقے سے اعلا عدلیہ میں بھیجے گئے ججوں سے ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔