خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام سوات میں اولاً بدترین زلزلے، ثانیاً طالبانائزیشن اور ثالثاً سیلاب نے مقامی لوگوں کو مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس حوالے سے تشویش کا شکار ہیں جب کہ مقامی لوگ بھی مختلف نفسیاتی مسایل کے شکار اپنے پیاروں کی وجہ سے ذہنی خلجان میں مبتلا ہیں۔
٭ کون سے لوگ نفسیاتی مسایل کا زیادہ شکار ہیں؟
حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد امن کمیٹی کے ممبران اور علاقے کے خان خوانین عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نفسیاتی مسایل کے شکار ہیں۔ بیشتر خوانین نے اپنا رکھا ہوا اسلحہ واپس نکال لیا ہے…… اور وہ کسی بھی ناخوش گوار واقعے کے لیے خود کو مکمل طور پر تیار کیے ہوئے ہیں۔
کامریڈ ڈاکٹر امجد علی خان کا مدین امن مظاہرے سے خطابhttps://lafzuna.com/video/s-29752/
٭ کس واقعے نے اہلِ سوات کو زیادہ تشویش میں ڈالا ہے؟
تحصیل کبل کے علاقے برہ بانڈی میں 13 ستمبر کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں امن کمیٹی کے سابقہ رکن ادریس خان سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے جس میں 2 پولیس اہل کار بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف وہراس میں اضافہ ہوگیا۔ ادریس خان کے کزن برکت خان اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ادریس خان ایک بہادر انسان تھے۔ اُن کو بار بار دھمکی آمیر کالیں موصول ہوتی تھیں۔ ’’ہم انھیں بار بار منع کر رہے تھے کہ اپنی نقل و حمل محدود رکھیں، مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ہمارا پورا خاندان اب تشویش میں مبتلا ہے۔ اب جب مَیں گھر سے نکلتا ہوں، تو والد صاحب غصہ ہوتے ہیں کہ گھر سے نہ نکلو!‘‘
برکت خان کہتے ہیں کہ ہم اس واقعے کے بعد ذہنی دباو میں مبتلا ہیں، مگر اپنا گھر بار چھوڑیں گے اور نہ میدان سے پیچھے ہٹیں گے۔
سوات اولسی پاسون اور عوامی مزاحمت غیر متوقع اور انہونی نہیں: https://lafzuna.com/current-affairs/s-29749/
٭ نوجوانوں پر حالیہ دہشت گردی کی لہر کا کیا اثر ہے؟
ڈگری کالج کے فورتھ ائیر کے طالب علم عمران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد مَیں اور ہمارے خاندان کے دیگر افراد ذہنی دباو کا شکار ہیں۔’’پہلے جب ہم کالج جاتے تھے، تو صبح کالج کے لیے بلا خوف و خطر نکل جایا کرتے تھے، مگر اب ایک انجانا سا خوف سائے کی طرح چمٹا رہتا ہے۔ 2007ء میں میرے والد گھر سے نکل کر مینگورہ شہر کے نشاط چوک میں خود کُش دھماکے میں شہید ہوئے۔وہ غم اب تک سائے کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ اب جب دوبارہ امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کے پیشِ نظر تھوڑی سی دیر ہوجاتی ہے، تو نتیجتاً میری ماں بھی فکر مند ہوجاتی ہے۔‘‘
عمران کے بقول، اب مطالعے میں دھیان رہتا ہے، نہ دوستوں کے ساتھ سیر کا مزا ہی آتا ہے۔
سوات کے نڈر صحافی فیاض ظفر سوات کا مقدمہ لڑتے ہوئے: https://lafzuna.com/video/s-29742/
٭ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے طالبات پر کیا اثرات ہیں؟
سوات یونی ورسٹی وومن کیمپس کے سائیکالوجی ڈیپارمنٹ کی لیکچرار مس تمنا (فرضی نام) نے اس حوالے سے بتایا کہ حالیہ دہشت گردی اور سیلاب کی وجہ سے طالبات سہمی سہمی سی دکھائی دیتی ہیں۔ ’’جب مَیں کلاس میں لکچر دیتی ہوں، تو طالبات کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ حاضری بھی اب کم ہی رہتی ہے۔ اس سے پہلے جب ہم سوشل میڈیا پر خبریں دیکھتے تھے، تو اسے ایک طرح سے پروپیگنڈا سمجھتے تھے کہ سوات کے ٹورازم کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ وادی میں پولیس کے اہل کار موجود ہیں، فورسز کے اہل کار موجود ہیں، تو ایسے میں کیسے مٹھی بھر عناصر سوات کے امن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟‘‘
مس تمنا کہتی ہیں کہ جیسے ہی سوشل میڈیا پر زخمی ڈی ایس پی اور دیگر سیکورٹی اہل کاروں کی ویڈیو وائرل ہوتے ہوئی دیکھی، تو گویا ہماری جان نکل گئی۔ ’’اب جب ہم طالبات کو حوصلہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ خیر کرے گا، تو جواب ملتا ہے کہ اگر ایک ڈی ایس پی اور سیکورٹی اہل کار تک محفوظ نہیں، تو عام عوام کس کھیت کی مولی ہیں؟ حالیہ فائرنگ اور ریموٹ بم دھماکے نے رہی سہی کسر بھی پورا کردی۔‘‘
مینگورہ بائی پاس والے واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں: https://lafzuna.com/video/s-29736/
٭ ماہرِ نفسیات کیا کہتے ہیں؟
سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال میں ماہرِ نفسیات اسسٹنٹ پروفیسر نظام الدین اس صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگ سخت بے چینی، خوف اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک چھوٹی سی خبر لوگوں میں بڑی اضطرابی کیفیت پیدا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ’’حالیہ سیلاب اور اس کے بعد اُٹھنے والی دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے نفسیاتی مسایل میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ہم اُو پی ڈی میں روزانہ کی بنیاد پر 80 تا 100 مریضوں کا معاینہ کرتے تھے، جب کہ حالیہ واقعات کے بعد پچھلے تین ہفتوں سے ڈپریشن اور انزایٹی کے مریضوں کی تعداد ایک سو پچاس سے لے کر ایک سو ساٹھ تک پہنچ گئی ہے، جس میں زیادہ تر خواتین اور طلبہ و طالبات شامل ہیں۔‘‘
نظام الدین آگے کہتے ہیں کہ آنے والے مریضوں کو ڈر، خوف، بے چینی، ڈپریشن اور انزائٹی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔’’حالیہ سیلاب کی وجہ سے بھی لوگوں کے نفسیاتی مسایل میں اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ تر خواب آور ادویہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیوں کہ بیش تر خوف کی وجہ سے سو نہیں پاتے اور یوں ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔‘‘
جرگہ یا سرکاری دربار؟: https://lafzuna.com/current-affairs/s-29694/
٭ فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟
ماہرِ نفسیات اسسٹنٹ پروفیسر نظام الدین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ نفسیاتی امراض کے شکار افراد کو گھر والوں کے جذباتی سہارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس وقت پریشانی کا یہ حال ہے کہ گھروں کے اندر بھی پریشانی اور ڈپریشن کا ماحول ہے۔ ہر کوئی اپنے سائے سے ڈر رہا ہے۔ ’’اندازہ لگائیں کہ سوات بائی پاس پر درجنوں ریسٹورنٹ اور ہوٹل موجود ہیں، جہاں پر رات گئے تک چہل پہل رہتی تھی۔ مختلف ریسٹورنٹوں میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا رش ہوا کرتا تھا، مگر اب بدامنی کی لہر نے سب کچھ ویران کرکے رکھ دیا ہے۔ اب رات دس بجے بھی نکل کر دیکھیں، توغیر ملکی یا ملکی سیاح تو دور کی بات مقامی لوگ بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔‘‘
سوات، امن مظاہروں کے بعد پائیدار امن کے لیے حکمت عملی: https://lafzuna.com/current-affairs/s-29678/
٭ دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ سے کاروبار پر کیا اثرات پڑے ہیں؟
ایک مقامی ریسٹورنٹ کے مالک ضیاء اللہ کا کہنا تھا کہ ان کا عام طور پر ایک لاکھ سے لے کر ڈھائی لاکھ تک کا روزانہ کاروبار ہوا کرتا تھا۔ پہلے سیلاب نے تباہی مچائی۔ ابھی سانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ دہشت گردی کی لہر اُٹھ گئی۔ ’’امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کی وجہ سے اب پچھلے ایک ہفتے میں تیس ہزار کا سیل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ذہنی دباو کا شکار ہوں۔ بلڈنگ کا کرایہ ایک طرف، سٹاف کی تنخواہیں، بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچہ کہاں سے لاؤں گا؟ دن بھر اس فکر میں جی ہلکان ہوجاتا ہے۔‘‘
مینگورہ، دہشت گردوں کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ: https://lafzuna.com/current-affairs/s-29633/
٭ امن و امان کی بحالی بارے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
پچھلے ماہ کی 24 تاریخ کو پولیس لائن مینگورہ میں پولیس کے زیرِ اہتمام جرگہ کیا گیا جس میں عمایدینِ علاقہ، سیاسی اور سماجی مشران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر ذیشان اصغر نے جرگے کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی واضح ہے۔ اگر ہمارے گھر میں کوئی آکر ہمیں گولی مارے گا، تو ہم ان کو پھولو ں کے ہار نہیں پہنائیں گے، جو بھی بندوق اٹھائے گا اور آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
دوسری طرف امن و امان کے قیام کے لیے تین بریگیڈ فوج سوات میں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پولیس اور فوج کے جوان مشترکہ طور پر علاقے کا امن بحال کریں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔