سوات کے حالاتِ حاضرہ اور اس پر عوامی ردِ عمل کوئی غیر متوقع اور انہونی بات نہیں۔ اِن حالاتِ حاضرہ اور اس پر عوامی ردِ عمل کے اکثر اسباب و عوامل اور اِن سے بچاو کے ماتقدمی اقدامات، پالیسی اور سیکورٹی فورسز کا اپنے رویے اور پالیسی پر نظرِ ثانی اور سوات کے ریاستِ پاکستان کے شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ناکامی پر بہ طورِ تلافی ان سے معافی مانگنے کا مشورہ بھی 2012 ء میں دیا تھا جو کہ ابھی تک صدا بہ صحرا ہی ہے، تاہم اس طرح کے حالات کے پیدا ہونے اور اِن پر اس طرح کے ردِ عمل کا ادراک پہلے ہی سے تھا۔ اس ضمن میں، مَیں نے کئی سال پہلے اپنی تحاریر میں ذکر کیا ہے۔ یہاں پر زیادہ کچھ نئے لکھنے کے بجائے اُن پرانی تحاریر میں سے اقتباسات پیش کرنے کے ذریعے ہی یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور اس کا پہلے سے ادراک ہونے کی وجہ سے ان کے تدارک کے حفظ ماتقدمی اقدامات پیش کیے گئے تھے۔
ملکہ الزبتھ دوم کا دورۂ سوات:  https://lafzuna.com/history/s-29653/
مَیں نے 2010 ء میں اپنی ایک تحریرمیں لکھا تھا کہ اگرچہ ایک پیمانہ پر طالبان کو جنونی اور باغی گردانا جاسکتا ہے، جیسا کہ میجر راورٹی نے انیسویں صدی میں اشارہ کرتے ہوئے طنزاً لکھا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک وہ سب جو ہمارے (یعنی انگریزوں کے) خلاف لڑ رہے ہیں ’’جنونی‘‘، ’’باغی‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ ہیں، لیکن یہ ایک پائیدار حل نہیں۔ گو کہ طالبان منتشر اور کمزور بنائے گئے ہیں لیکن نہ تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود ہوئے ہیں، نہ ان کا نظریہ تبدیل ہوا ہے اور نہ ان کی سوچ میں کوئی تبدیلی ہی آئی ہے۔ ملک کے باشندے اور شہری ہونے کے ناتے طالبان کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے جس کے لیے عام معافی کا اعلان کرکے انڈونیشیا اور سعودی عرب کی طرز پر عملی تربیت اور کورسز یا رجوعی ذہنی تطہیر کا اہتمام کرکے معمولی محنت سے انھیں دوبارہ پُرامن شہری بنایا جاسکتا ہے۔
سوات میں خان و ملک سسٹم:  https://lafzuna.com/history/s-8235/
حالات کو مستقل طور پر ٹھنڈا کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث قومی اور بین الاقوامی قوتوں کو عقلِ سلیم اور ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ان تمام بنیادی مقامی اور غیر مقامی مسائل کا حل بھی ضروری ہے جو اس طرح کے حالات کو جنم دے رہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز خاص کر فوج اور پولیس کی عوام کے ساتھ رویے اور طرزِ عمل کی اصلاح اور مثبت تبدیلی نیز فوج کی مرحلہ وار ایک سال میں واپسی جیسے عوامل بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔
اگر اصل مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا، تو یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ پھر اس طرح کے حالات پیدا نہیں ہوں گے۔ اس لیے کہ جب ماحول کو نہیں بدلا جاتا اور مرض کی اصل وجہ کا کھوج لگا کر علاج نہیں کیا جاتا، تو نشہ یا عارضی طور پر درد دُور کرنے والی دوائی سے مرض ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جب نشہ یا اس دوائی کا اثر زائل ہوجاتا ہے، تو مریض پھر سے بے آرام ہوجاتا ہے اور مرض ٹھیک ہونے کی بجائے بڑھتا جاتا ہے۔ بہ طورِ مثال اگر کسی جگہ گندا پانی جمع ہو، تو وہاں مچھر پیدا ہوں گے اور بدبو بھی آئے گی۔ سپرے کے ذریعے موجودہ مچھروں کو مار دیا جاسکتا ہے اور موجودہ بد بُو کو ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد نئے مچھر پیدا ہوں گے اور پھر سے بد بُو آنے لگے گی۔ لہٰذا مستقل حل اس جگہ کا بھرنا اور یہاں سے گندا پانی نکالنا ہے نہ کہ بار بار سپرے کرنا۔ مذکورہ عوامل اور مسائل ایک بار پھر سر اُٹھا سکتے ہیں۔ اگر عوامی رنجشیں حقیقی معنوں میں دور نہیں کی گئیں، اور ان کے مسائل اور تشویش کے عوامل حقیقی طور پر ختم نہ ہوں۔
اس طرح 2009ء تا 2013ء کی کئی ایک تحاریر میں، مَیں نے واضح کیا تھا کہ سوات کی شورش یا بحران دراصل کئی ایک مقامی، ملکی اور بین الاقوامی عوامل کا پیدا کردہ تھا جس میں اہم کردار خفیہ اداروں کا تھا۔ سوات میں جو کچھ کیا گیا اور کیا جا رہا ہے، یہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور کیا جا رہا ہے، جس کے مختلف الجہت اسباب و عوامل اور اغراض و مقاصد تھے اور ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ سوات کا ہر باشندہ جانتا ہے کہ 2007ء تا 2009ء کے دوران میں سوات میں جو ہوا یا کیا گیا، بارود اور خون کے اس کھیل کا نشانہ سوات اور اس کے عوام ہی رہے اور وہ مختلف حوالوں سے جو نقصان اُٹھا چکے ہیں بعض کی تو تلافی ممکن ہی نہیں اور بعض کی تلافی شاید موجودہ نسل کی زندگی میں ہوجائے۔
مغل اور سوات:  https://lafzuna.com/history/s-8064/
سوات میں عسکریت پسندی کے لبادے اور آڑ میں جو کچھ کیا گیا، اس کی حقیقت سوات سے باہر ہو یا نہ ہو لیکن کے سوات بوڑھوں، جوانوں اور بچوں (یعنی سوات کی تین نسلوں) کو خوب معلوم ہے۔ سوات کے عوام نے طویل وقت تک جو دیکھا اور مشاہدہ کیا، اس کی بنیاد پر وہ اپنا نقطۂ نظر اور رائے رکھتے ہیں اور اس سب کچھ کو ریاست اور ریاستی اداروں کا ایک کھیل قرار دیتے آرہے ہیں۔
اگرچہ 2009ء میں طالبان کی گرفت کم زور پڑگئی لیکن سوات اور سوات کے پاکستانی شہری ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ کے مصداق ایک اور زیادہ طاقت ور ریاستی ادارے کی چنگل میں آگئے۔ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں سوات اور یہاں کے باشندوں کی بڑے پیمانے پر تباہی اور بربادی کے علاوہ فوجی اہلکاروں کا رویہ سوات کے پاکستانی شہریوں کے ساتھ بہ حیثیتِ مجموعی قابض قوتوں والا رہا۔ ان میں سے اکثر نے مقامی روایات کی پاس داری کا خیال نہیں رکھا بلکہ عوام کے ساتھ توہین اور تذلیل آمیز رویہ اور جابرانہ طور طریقے روا رکھے۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور لوگوں کی عزتِ نفس کو مجروح کیا۔
جہانزیب کالج:  https://lafzuna.com/history/s-7903/
مزید یہ کہ لوگوں کو ویلج ڈیفنس کمیٹیوں (VDC) اور عوامی لشکر بنانے پر مجبور کیا، امن کمیٹیوں کے نام سے کٹ پتلی کمیٹیاں بنائیں اور ان سب کے ذریعے وہ کام کیے جن کا نہ ملکی آئین و قانون میں کوئی اجازت ہے اور نہ ان کے تحت اس طرح کے کاموں کی کوئی گنجائش ہی ہے۔ یہاں کے باشندوں کے درمیان ’’پھوٹ ڈالو اور حکم رانی کرو‘‘ کی پالیسی اپنائی گئی۔ اس عمل نے سوات کے معاشرے میں لوگوں کے درمیان مزید خلیج، بداعتمادی، دشمنیاں اور دوریاں پیدا کرکے معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا اور گمبھیر بنا دیا، جس کے اثرات آیندہ نسلوں تک جاری اور محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
2009ء کے آپریشن راہِ راست کے بعد حکومتی اور سیکورٹی ادارے سوات میں امن اور مثالی امن کے دعوے تو کر تے آئے ہیں لیکن کنٹرول، رِٹ اور امن میں فرق ہے۔ کنٹرول اور رِٹ، خواہ ریاست اور ریاستی اداروں کی ہو یا غیر ریاستی عناصر کی، خون خرابے اور طاقت کے بل بوتے پر حاصل کی جاسکتی ہے لیکن امن نہیں۔
امن کے قیام کے لیے عوام کے دل جیتنا، ان کو تحفظ اور عزتِ نفس کا احساس دلانا اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی مدبرانہ اصلاح کرنا، نیز ایسے حالات اور ماحول پیدا کرنا درکار ہوتا ہے جس میں وہ عزت سے جی سکیں۔ ان کی تمام بنیادی ضروریات پوری ہوسکیں۔ اِس کے لیے عوام کا ظاہری نہیں بلکہ حقیقی اعتماد بہ حال اور حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دھونس دھمکی، طاقت کے بے دریغ، بے جا اور بے مہابا استعمال اور عوام کی تحقیر و تذلیل سے امن کبھی قائم نہیں ہوسکتا بلکہ یہ نفرت، عداوت، بے اعتنائی، بے اطمینانی اور خوف ناک بغاوت کے جذبات و احساسات کو جنم دینے اور انھیں پروان چڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور بنے۔
خوشحال خان خٹک اور سوات:  https://lafzuna.com/history/s-7599/
2007ء سے جاری اقدامات اور پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف اندر ہی اندر نفرت اور حقارت کے جذبات پنپ رہے تھے، جو معمولی چنگاری نہیں (جو کہ ایک بہت بڑی آگ لگنے یا لگانے کے لیے کافی ہوتی ہے) بلکہ راکھ کے بیچ انگاروں کی مانند ہے جو معمولی پھونک سے ایک بڑی اور مہیب آگ میں کسی بھی وقت بدل سکتے ہی۔ بہ ظاہر خاموشی اور سب کچھ ٹھیک نظر آنے اور ٹھیک ہے کی رپورٹس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ واقعی ایسا ہی تھا یا ہے۔ اس لیے کہ لوگوں کے لبوں پر مہرِ خموشی ثبت ہونے اور ڈر کے مارے دلی جذبات و احساسات اور حقیقتِ حال کا اظہار نہیں کر پانے لیکن اندر ہی اندر مایوسی کے علاوہ نفرت اور سوچ و خیالات میں سخت تر باغیانہ پن پنپتا رہنا شاید شاعر کے اس شعر کا عکاس ہے:
زباں پہ مہر لگانا تو کوئی بات نہیں
بدل سکو تو بدل دو میرے خیالوں کو
2009ء میں کامیاب عسکری آپریشن کے دعوے کے کئی سال گزرنے کے باوجود، سوات میں فوج کی تعیناتی کا برقرار رہنا، باقاعدہ طور پر فوجی آپریشن کے خاتمے کا اعلان نہ کرنا، ’’ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن، 2011ء‘‘ کا نافذ رہنا اور فوج کو سوات سے واپس نہ بلوانا وغیرہ عجیب بھی ہیں اور کسی طور بھی امن کی علامت ہے اور نہ ایسا گردانا جاسکتا ہے۔
گذشتہ تین چار دہائیوں میں حکومتوں اور خفیہ اور سیکورٹی اداروں نے، کانٹوں کے ایسے بیچ بوئے ہیں، جو اَب پودے نہیں بلکہ تن آور درخت بن گئے ہیں اور فارسی کے مقولے ’’خود کردہ را علاجے نیست‘‘، یعنی اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں، کے مصداق اس کا علاج بھی قابو میں نہیں۔ ایسے درخت جنھیں اگر کاٹا بھی جائے، تو ہر ایک سے سفیدے کی طرح ایک کی بجائے کئی ایک درخت اُبھر آتے ہیں۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال سے نمٹنے اور عوام سے معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ مشکلات میں گھرے ہوئے کی معمولی لغزش اس کے لیے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کرسکتی ہے اور آتش فشاں پر بیٹھے ہوئے کا کیا دھرا اُس کے اپنے ہی گلے آپڑتا ہے اور لاوا اُس کو بھی ساتھ ہی بہا لے جاتا ہے۔
چرچل کی روئیدادِ سوات:  https://lafzuna.com/history/s-7512/
راقم نے جون 2010ء میں اپنی تحریر زیرِ عنوان ’’سکیورٹی کے نام پر انسانیت کی تذلیل‘‘ میں خبردار کرکے اور یاد دلاتے ہوئے اس کا اختتام ان الفاظ میں کیا تھا کہ اگر ’’سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی موجودہ روش برقرار رہی، تو بعید نہیں کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس کے بھیانک نتائج بھگتنے پڑیں (جیسا کہ مشرقی پاکستان میں بھگتنے پڑے تھے)۔ لارڈ کرزن کے یہ ریمارکس یاد دلانے کے مستحق ہیں کہ’جس شخص نے بھی ہندوستان کی تاریخ کا ایک صفحہ پڑھا ہو وہ کبھی بھی سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے بارے میں پیشنگوئی نہیں کریگا۔‘ یعنی یہ کہ سب کچھ ٹھیک اور کنٹرول میں [ہے] نہیں کہے گا۔اس لئے کہ یہاں پر بظاہر خاموشی کے باوجود عوام کا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، اگر وہ حکومتی اقدامات، پالیسیوں اور رویے سے مطمئن نہ ہوں۔‘‘
جب سوات میں کبل کے مقام پر ’’پختون تحفظ مومنٹ‘‘ کا پہلا جلسہ ہوا، تو ایجنسیوں نے اس جلسے میں شرکت کرنے والوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنا شروع کردیا۔ اُن دِنوں دو بندے میرے پاس بھی اس غرض سے آئے کہ اس حوالے سے میری رائے معلوم کریں۔ مَیں نے انھیں اپنی مذکورہ بالا تحریر ’’ سکیورٹی کے نام پر انسانیت کی تذلیل‘‘ کی کاپی دکھائی اور کہا کہ اس بارے میں پہلے ہی خبردار کیا جاچکا تھا۔
پشتون معاشرے میں حجرے اور مسجد کا کردار:  https://lafzuna.com/history/s-7392/
13 جون 2012ء کو ’’روزنامہ آزادی سوات‘‘ میں، سوات میں اُس وقت کے آئی ایس پی آر کے سربراہ، عارف محمود نے اپنے کالم زیرِ عنوان ’’سوات بیدار ہو چکا ہے‘‘ میں طالبان اور فضل اللہ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ایک سائنسی اُصول کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’کہتے ہیں کہ کسی سپرنگ کو ایک خاص حد تک ہی دبایا جاسکتا ہے۔ اس حد کے بعد وہ چھوٹ کر منہ کو لگتا ہے۔ اتنے شدید دباؤ اور سختیوں نے سوات کے عوام کو ایک خاص شعور و آگاہی اور زبان عطا کردی۔‘‘ کالم کے اختتامی پیراگراف میں وہ لکھتا ہے کہ ’’اب سوات بیدار ہو چکا ہے۔‘‘
عارف محمود نے ایک ایسا سائنسی اُصول بیان کیا ہے کہ جو نہ صرف طالبان کے ضمن میں ٹھیک تھا یا اُن پر فِٹ کیا جاسکتا تھا بلکہ یہ سیکورٹی فورسز پر بھی اُسی طرح ہی لاگو اور فِٹ ہوتا ہے۔ پس جیسا کہ مندرجہ بالا باتوں اور کچھ تفصیل سے عیاں ہے، فوج یا سیکورٹی فورسز نے سوات میں جو کچھ کیا اور اُن کی جو پالیسیاں رہیں اور ہیں، اُن کے ’’شدید دباؤ اور سختیوں نے سوات کے عوام کو ایک خاص شعور و آگاہی اور زبان عطا کردی‘‘ اور اُنھیں بیدار بھی کیا۔
گرین چوک:  https://lafzuna.com/history/s-7077/
لہٰذا جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہوچکا ہے کہ سوات کے حالاتِ حاضرہ اور اس پر موجودہ عوامی ردِ عمل کوئی غیر متوقع اور انہونی بات نہیں۔ اب جب کہ ’’سوات بیدار ہوچکا ہے‘‘ تو ان معروضی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے خفیہ اور سکیورٹی ادارے اپنی پالیسیوں، روش اور رویوں پر نظرِ ثانی کریں اور ان میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ سوات کو مزید تجربہ گاہ نہ بنائیں۔ اس کی زمین اور وسائل پر جمی نظروں اور پالیسیوں کو ختم کر دیں۔ فوج کو مکمل طور پر سوات سے واپس بلائیں۔ یہاں پر کوزہ بانڈیٔ کے مقام پر فوجی چھاؤنی اور دوسرے مقامات پر اس طرح کے منصوبے ترک کریں۔ ’’سوات موٹر وے فیز ٹو‘‘ کے منصوبے کو بھی ختم کریں یا بہ صورتِ دیگر اس کو سالانہ اربوں روپے کی آمدنی دینے والی زرخیز زرعی اراضی پر تعمیر کرنے کے بہ جائے دریائے سوات کے کنارے تعمیر کیا جائے۔ اس لیے کہ موجودہ حالات کے پیدا کرنے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ’’سوات موٹر وے فیز ٹو ‘‘ کی زرخیز زرعی اراضی پر تعمیر کرنے کے مخالفین کو دبانا اور ٹارگٹ کلنگ یا تاک شدہ قتل کا نشانہ بنانا ہے، تاکہ ’’سوات موٹر وے فیز ٹو‘‘ کی زرخیز زرعی اراضی پر تعمیر کرنے کی مخالفت کو ختم کرکے اپنے ہی منصوبے کے مطابق اس کی تعمیر کی راہ ہم وار کی جاسکے۔
مزید یہ کہ’’ ایکشنز (اِن ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن، 2011ء‘‘، کو بھی واپس لیا جائے۔ اِتنے سالوں تک اگر اِس کے نفاذ اور سوات میں فوج کی موجودگی دیرپا یا حقیقی امن قایم نہ کرسکے، تو مزید ان کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ سوات میں 2006ء سے پہلے جو امن تھا، تو وہ یہاں فوجی چھاؤنی، فوج کی موجودگی اور ’’ایکشنز (اِن ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن، 2011ء‘‘ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اِن سب کے بغیر ہی تھا۔ لہٰذا آیندہ بھی یہاں پر امن کا قیام اور اس کا قایم رہنا فوجی چھاؤنی، فوج کی موجودگی اور ’’ایکشنز (اِن ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن، 2011 ء‘‘ کے بغیر بھی ممکن ہے۔
بحرانِ سوات کی طبقاتی جنگ کا پہلو:  https://lafzuna.com/history/s-7001/
شایدمذکورہ بالا باتوں اور تجاویز پر عمل در آمد کی خاطر کچھ مشکل اور غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے، لیکن اگر ان باتوں اور تجاویزکو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا اور اس پر سنجیدگی سے غور کر کے ان پر عمل نہیں کیا گیا، تویہ توقع رکھنا عبث اور خام خیالی ہے کہ سوات میں امن آئے گا۔ لوگوں کی سوچ اور رویہ تبدیل ہوچکا ہے، جس کا اظہار مزاحمتی احتجاجوں میں عوام کی روز بروز بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔
لہٰذا ملک و قوم کی خاطر اور خانہ جنگی یا سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان جنگ اور مزید خون ریزی سے بچنے اور فوج کا عوام کی نظروں میں کھوئے ہوئے اعتماد و وقارکو بحال کرنے کی خاطر یہ کڑوی گولیاں نگلنا ہی بہتر ہوگا۔
وما علینا الا لبلاغ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔