خواہ دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے، حالات جو بھی ہوں…… لیکن ہماری ریاست اور اس کے ادارے نوآبادیاتی خمار اور اس کے انتظامی اوزار کے استعمال سے باز نہیں آنے والے۔
نوآبادیاتی طاقتیں جہاں بھی جاتیں، پہلے اس علاقے کے لوگوں کی تاریخ، ثقافت اور سماجی و سیاسی اداروں کو تہ وبالا کرتیں یا ان کو مسخ کرکے اپنے سیاسی ہتھیار میں تبدیلی لاتیں۔ جہاں انگریز خصوصاً ان کے نام نہاد مستشرقین نے دانستہ و غیر دانستہ طور پر ہماری ڈھیر ساری سماجی اقدار اور ثقافت کا مسخ شدہ چہرہ دنیا کو پیش کیا، وہاں ان کی انتظامیہ نے ہمارے سماجی و سیاسی اداروں کو ان کے فطری سانچے سے نکال کر اپنے نوآبادیاتی قالب میں ڈھال دیا۔ سب سے زیادہ استحصال انھوں نے جرگہ اور اس کے نام کا کیا۔ انھوں نے ہندوستان کے دیگر علاقوں سے پشتون وطن کے لیے ایف سی آر کے غیر انسانی اور کالے قانون کی شکل میں حکم رانی کرنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا۔ اس کالے قانون کو جایز بنانے اور چلانے کے لیے من پسند وفاداروں پر مشتمل مراعات یافتہ طبقہ پیدا کیا۔ اُس طبقے کے افراد کو ارکان بناکر سرکاری جرگے تشکیل دیے۔ پھر اسی جرگہ کا نام پولی ٹیکل ایجنٹ کا ’’کونسل آف یس مین‘‘ بن گیا، جو ان کے ہر فیصلے پر صرف مہرِ تصدیق ثبت کرتا تھا اور ہر اجتماع کے اختتام پر ’’اعزازیہ‘‘ کے نام پر ہر رکن اپنی اپنی قیمت وصول کرتا تھا۔ ’’مَلَک‘‘ کا لقب اور اعزاز عوام کی بجائے پولی ٹیکل ایجنٹ نے دینا شروع کیا…… اور یوں دیکھا دیکھی ’’سرکاری مَلَکوں‘‘ کی ایک فوج تیار ہوئی۔ قبائیلی علاقوں میں یہ نظام ’’انضمام‘‘ تک جاری رہا۔
ملاکنڈ ڈویژن بشمول سوات میں سرکاری جرگے کا نظام پاٹا ریگولیشن کے تحت نافذ تھا، جس میں ڈی سی اس قسم کے سرکاری جرگوں کا مائی باپ ہواکرتا تھا۔ ایف سی آر اور پاٹا ریگولیشن ختم ہونے کے بعد بھی انتظامیہ اور پولیس نے اس نظام کو مختلف کور اور ناموں سے قایم رکھا ہوا ہے۔
اس طرح سوات میں 2009ء کے فوجی آپریشن کے بعد ویلج ڈیفنس کمیٹیاں بنائی گئیں۔ دوسری طرف پولیس نے مصلحاتی کمیٹیاں تشکیل دیں۔ اب اس میں نیا اضافہ مقامی حکومت کا ویلج اور نیبرہوڈ کا چیئرمین ہے۔ جملہ معترضہ ہی سہی مگر ان مقامی حکومتوں کے پاس کتنے اختیارات ہیں کہ ان بے چاروں کو ’’دہشت گردی‘‘ سے متعلق گھمبیر مسایل میں رگڑا دیا جا رہا ہے؟
آمدم بر سر مطلب، بروزِ ہفتہ 15 اکتوبر 2022ء کو ایک بار پھر ’’گرینڈ جرگہ‘‘ کے نام پر ملاکنڈ ڈویژن کی انتظامیہ نے ایک اجتماع کا انعقاد کیا، جس کو عوامی حلقوں نے ’’سرکاری دربار‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا۔ اس اجتماع میں صوبے کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور انسپکٹر جنرل آف ایف سی شمال اور متعلقہ اضلاع کے ڈی سیز نے شرکت کیا۔ اجتماع کے لیے شرکا کا انتخاب اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس ایچ اُوز نے روایتی سرکار کے منظورِ نظر عمایدین، جو انتظامیہ کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی ہوتے ہیں، وی ڈی سیز اور مصالحتی کمیٹیوں اور ویلج اینڈ نیبر ہوڈ کے چیئرمینوں سے کیا گیا۔ ایس ایچ اُوز کو یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ اپنے علاقوں سے چنے گئے شرکا کو اپنی نگرانی میں فہرست کے ساتھ حال تک پہنچایا جائے۔
اس نام نہاد سرکاری جرگہ یعنی سرکار دربار میں نہ تو سوات قومی جرگہ (جس میں سوات کی ہر سیاسی جماعت اور شعبہ ہائے زندگی سے نمایندگی ہے) کو دعوت دی گئی تھی، نہ تاجر برادری کو، نہ ہوٹل ایسوسی ایشن کو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مقامی میڈیا یا سوات پریس کلب کے نمایندے بھی مدعو نہیں تھے۔ ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ میڈیا کو کوریج کی اجازت ہے اور نہ شرکت کی۔ صرف آئی ایس پی آر کی دو ممبر پر مشتمل ٹیم جرگہ کو کور کرے گی اور بعد میں آئی ایس پی آر میڈیا کے لیے پریس ریلیز جاری کرے گا۔
تاہم سرکاری جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جرگہ میں سول سوسائٹی کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔ اب پتا نہیں کہ انتظامیہ کے ہاں سول سوسائٹی کی کیا تعریف ہے؟ حقیقتاً جرگہ کی ساخت اور اوصاف ’’بائے ڈیفالٹ‘‘ عوامی اور جمہوری ہوتے ہیں۔ جرگہ بندوقوں کے سائے اور بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے اور نہ اس کی کارروائی پہلے سے طے شدہ پلان کے تحت کنٹرول کی جاتی ہے۔ اس میں مقررین کو پہلے اور باریک بینی سے نہیں بنایا جاتا، بلکہ تمام شرکا کو اپنے را ئے کے اظہار کا حق حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں کسی بھی جمہوری معاشرے میں کوئی سرکاری افسر یا انتظامیہ عوامی جرگے بلاکر اپنے فیصلے نہیں سناتے بلکہ عوامی ادارے انتظامیہ کو بلا کر اس سے باز پرس اور وضاحت طلب کرتے ہیں۔
اس صوبے میں منتخب اسمبلی موجود ہے۔ اسے انتظامیہ بشمول کور کمانڈر کو بلاکر ان سے امن و امان کے متعلق باز پرس کرنا چاہیے تھی۔ اس طرح اجتماع کی صدارت اس صوبے کے وزیرِ اعلا کو کرنا چاہیے تھی۔ کیوں کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے اور مشکل صورتِ حال میں صوبہ وفاق سے مدد طلب کرسکتا ہے۔
اب بد قسمتی سے صوبائی حکومت اس کا ملبہ دس مہینوں کی وفاقی حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پچھلے ایک سال سے مختلف حلقے حکومت کو خبردار کر رہے تھے کہ دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہوکر سوات اور صوبے کے دیگر اضلاع میں داخل ہورہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت یا تو اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی یا اس سے صرفِ نظر کر رہی تھی۔ وزیرِ اعلا کے آبائی ضلع اور تحصیل میں پچھلے تین مہینوں سے دہشت گردی کے مختلف واقعات ہورہے ہیں، لیکن وہ عمران خان کے ساتھ جلسوں میں مصرف ہیں۔ کیوں کہ عمران خان ہیلی کاپٹر کے بغیر سفر نہیں کرتا اور وزیرِاعلا کی غیر موجودگی میں وہ صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہر جلسے میں وزیرِ اعلا کو ساتھ رکھنا پڑتاہے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت کے ترجمان کَہ رہا ہے کہ سوات میں طالبان نہیں ہیں۔ صرف ایک کمانڈر اپنی ہمشیرہ کی بیمار پرسی کے لیے آیا تھا۔
اب لیکن دو دنوں سے یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ طالبان سوات سے واپس نکل رہے ہیں۔
قارئین! پچھلے 9 سالوں میں پی ٹی آئی حکومت نے کھل کر طالبان کی مذمت کی اور نہ کسی بھی دہشت گردی یا ٹارگٹ قتل کے واقعے پر اس کے کسی نمایندے یا وزیر نے جاکر مذمت ہی کی ہے۔ نتیجتاً، ریاست اور عوام میں شکوک و شہبات اور خلیج روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ آج عوام ریاست کے ہر اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جرگہ کے دن جرگہ ہی کے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں گرم تھیں۔ کوئی شرکا کو قربانی کے بکروں کا اجتماع قرار دے رہا تھا، تو کوئی اس کو پکوڑوں اور سموسوں کی دعوتِ عام۔ ماضی میں عوام مظاہروں اور جلسوں میں ’’ہم امن چاہتے ہیں‘‘ کے نعرے لگاتے سنے گئے، لیکن اب مزید ریاست سے امن کی بھیک نہیں مانگی جا رہی بلکہ ہر اجتماع میں یہ نعرے لگتے ہیں کہ ’’دہشت گردی نہیں ہونے دیں گے‘‘، ’’امن قایم کرکے رہیں گے۔‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔