’’کیا اہلِ سوات کا غم و غصہ جایز ہے؟‘‘ تجربہ بتاتا ہے کہ جلد اس سوال کا جواب یوں ہوگا: ’’سوات میں کچھ شر پسند عناصر وہاں طالبان کی موجودگی کو بہانہ بنا کر ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں ففتھ جنریشن وارفیر میں استعمال ہورہے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔‘‘
اگست کے اَواخر میں مٹہ سوات کی ایک خوب صورت وادی میں طالبان نکل آتے ہیں۔ مقامی ذرایع کے مطابق وہ شام ہوتے ہی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور گاہے گاہے پولیس تھانوں پر حملے کرتے ہیں۔ پھر ایک ویڈیو سامنے آجاتی ہے جس میں ایک پولیس ڈی ایس پی اور فوجی افسر دکھتا ہے، جو طالبان کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ طالبان ان کو اِغوا کرکے کچھ عجیب و غریب مطالبات کرتے ہیں اور جرگے کے لیے مخصوص مقامی رہنماؤں کا نام لیتے ہیں۔ پھر ایک اور واقعے میں یہ طالبان ایک ہردل عزیز مقامی سیاسی رہنما کی گاڑی کو بم سے اُڑا کر ان کو شہید کردیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پورے سوات میں کئی لوگوں کو بھتا دینے کے لیے رقعے بھیجے جاتے ہیں۔ پوری وادی میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ سواتی لوگ احتجاج پر اُتر آتے ہیں۔ ان احتجاج کو مرکزی میڈیا پر دِکھایا نہیں جاتا۔ بعض مقررین کے خلاف پرچے کاٹے جاتے ہیں۔ بات جب وزیرِ داخلہ تک رینگتے رینگتے پہنچتی ہے، تو موصوف ایسی کسی موجودگی سے صاف انکاری ہوجاتے ہیں۔
اُدھر سے افواجِ پاکستان کے تعلقات عامہ کی طرف سے بیان جاری ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ سوا ت کی چند پہاڑیوں پر مسلح افراد کو دیکھا گیا ہے، تاہم سوات میں طالبان کی موجودگی کے بارے میں خبریں واضح طور پر مبالغہ آمیز اور گم راہ کن ہیں۔
مرکز کی طرف سے یہ انکار اور صوبائی و سیاسی قیادت کی طرف سے تادیر مکمل خاموشی مسئلے کو مزید گھمبیر بناتی ہے اور اس کی مثال 2005ء اور 2006ء والی پُراَسرار خاموشی سے دی جاتی ہے…… جب سوات میں دہشت کی کارروائیاں بڑھ رہی تھیں، مگر ریاست اور حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔ اسی خاموشی اور عوامی میں خوف اور ابہام کی وجہ سے فروری 2009ء کو ایک نام نہاد امن معاہدے کے ذریعے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے کئی دوسرے علاقوں کو طالبان کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ امن کی بجائے ملاکنڈ اور پورے سوات پر طالبان کا قبضہ وہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ہی جاکر ریاستی ادارے دباو میں آکر کچھ کرنے پر مجبور اُس وقت ہوجاتے ہیں، جب سوات سے پندرہ لاکھ سے زیادہ کی آبادی کو بے گھر کردیا جاتا ہے۔
ماضی کی طرح اس بار بھی سوات میں دہشت گرد کارروائیوں پر ریاستی ادارے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خاموش ہیں۔ ان کی جانب سے خاموشی سے وہی ابہام والی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ شاید مدعا اس بار بھی وہی ہو کہ سواتیوں میں خوف پیدا کردیا جائے، تاہم اس بار سواتی عوام کی طرف سے ردِ عمل مختلف ہے۔
وہ ہر چھوٹے بڑے قصبے میں سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوات ’’فرسٹ ٹرینڈ‘‘ بنتا ہے۔ مقامی عوام، سول سوسائٹی اور دیگر حلقے بھرپور انداز میں سوات میں امن چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چپ کا روزہ توڑ دیا جائے اور واضح طور پر بتایا جائے کہ اس بار مقاصد کیا ہیں؟
سواتی عوام اب سوات میں صرف امن چاہتے ہیں اور ماضی کے تجربے کی بنیاد پر سخت ردِ عمل احتجاجوں کی صورت میں دیتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرکے اگر تجزیہ کیا جائے، تو سواتیوں میں غم و غصہ بالکل جایز اور مناسب ہے اور ان کا ردِ عمل ان کے تحفظ اور سوات کے امن بلکہ پوری ریاست پاکستان کے امن کے لیے ضروری ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔