ہم سب نے کیمیا (Chemistry) پڑھتے ہوئے ذروں (Atoms) کے درمیان آیونک بونڈ، سگما بونڈ، کوویلنٹ بونڈ وغیرہ کے متعلق یقینا پڑھا ہے…… لیکن ایک اور بونڈ جو انسانوں کے درمیان بنتا ہے اور اس قدر طاقت ور ہوتا ہے کہ اسے توڑنا اکثر و بیشتر ناممکن لگتا ہے۔ اس بونڈ کو سائیکالوجسٹ ’’ٹروما بونڈ‘‘ (Trauma Bond) کہتے ہیں۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کوئی مثبت خصوصیات کا حامل بونڈ نہیں۔
ٹروما بونڈ کیا ہے ؟ یہ کن لوگوں کے درمیان پروان چڑھتا ہے اور اس بونڈ کے کیمیکل ری ایکشن کو روکنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟ تو سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ ٹروما بونڈ میں آپ ایک نشئی (Addict) ہیں۔ نارساسسٹ آپ کا ڈیلر ہے۔ نارساسسٹ کی محبت کی برسات (Love Bombing) آپ کا آکسی ٹاسن (Oxytocin) ہے اور ڈوپامین (Dopamine) آپ کامنتخب کردہ نشہ! (یہ بونڈ نارساسسٹ کے علاوہ بھی بن سکتا ہے کسی کے ساتھ، لیکن میں نارساسسٹ کے نقطۂ نظر سے وضاحت کروں گی)
ٹروما بونڈ چوں کہ ایک بونڈ ہے۔ اس لیے کیمیا کی طرح اس کے بننے میں دماغ کے مختلف کیمیکل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہی مختلف کیمیکل کا مستقل اخراج اس کو لت (Addiction) کی شکل دے دیتا ہے ۔
ٹروما بونڈ تب بننا شروع ہوتا ہے جب نارساسسٹ اپنے پارٹنر (یہ بونڈ کسی دوست یا فیملی ممبرز کے درمیان بھی پروان چڑھ سکتا ہے) کو ابیوز کرتا ہے، اس سے ویلیو اور تعریف حاصل کرنے یا کنٹرول کرنے کے لیے۔ چوں کہ نارساسسٹ ایک خاص پیٹرن کو فالو کرتے ہیں جس میں پہلے فیز میں یہ اپنے پارٹنر پر تعریفوں کی بوچھاڑ (Love Bombing) کردیتے ہیں اور پھر جب کوئی بات نارساسسٹ کو ناگوار گزرے یا اسے آپ کو کنٹرول کرنے کا دل کرے، تو دوسرا فیز آتا ہے آپ کی ذات کی تخفیفِ زر (Devalue) کرنے کا۔
وہ شخص جس سے مل کر آپ کو لگا تھا کہ ایسی کیمسٹری اور ایسا احساس تو کبھی کسی سے مل کر نہیں ہوا۔ یہ پرفیکٹ ہے…… جو پہلے آپ سے کَہ رہا تھا کہ ’’تم میرے سول میٹ ہو‘‘، ’’آج سے پہلے کیوں نہیں ملے!‘‘ اچانک ایک چھوٹی سی بات پر آپ کو شدید تکلیف پہنچا کر ’’ڈی ویلیو‘‘ کرکے آپ کے دماغ کو انتشار، افراتفری اور مایوس کن صورتِ حال میں دھکیل دیتا ہے، جس سے دماغ میں شدید تناو اور دباو والے ہارمون کا اخراج ہوتا ہے۔
نارساسسٹ اپنی عادت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پارٹنر کو سبق سکھا کر، معافی مانگ کر پھر سے محبت اور تعریفوں کی برسات کرنے لگتا ہے اور یوں آپ کا دماغ انتشار سے نکل کر پیار کی بوچھاڑ میں نہانے لگتا ہے۔ پلیژر (Pleasure) والے کیمیکل ریلیز کرتا ہے۔ پھر نارساسسٹ کسی دن دوبارہ آپ کو ابیوز کرتا ہے۔ پھر دماغ انتشار کا شکار، پھر معافی اور پھر سے پیار ملنے پر کیمیکل کا اخراج…… یہ سلسلہ ایک سائیکل کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ آپ اس سائیکل میں دماغ میں خارج ہونے والے کیمیکل کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اب آپ ابیوز سے بھاگنا چاہتے ہیں، لیکن نارساسسٹ سے دوری آپ کو بے چین کردیتی ہے۔ آپ واپس کسی نشئی کی مانند آنے لگتے ہیں۔ بنا اس بات کی پروا کیے کہ اس سے دماغ کی زندگی کو نقصان ہورہا ہے۔
آپ اکثر اپنے دوستوں یا کسی قریبی کو ایسے ریلیشن شپس میں دیکھتے ہیں۔ سب اس دوست کو سمجھاتے ہیں کہ یہ ریلیشن شپ اس کے لیے صحیح نہیں…… لیکن ہمارے اقربا اس سے نکل نہیں پارہے ہوتے۔ کیوں کہ اکثر وہ اس ابیوزو سائیکل کو دیکھ ہی نہیں رہے ہوتے۔
اس سائیکل کو توڑنے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے ؟
٭ سب سے پہلے اس بات کو ماننا کہ آپ ایک بیمار اور غیر تند رست ریلیشن شپ میں پھنس چکے ہیں، بہت ضروری ہے۔ یہ مان لینے سے ہی اس بونڈ کو توڑنے کی شروعات ہوگی۔
٭ کسی سائیکالوجسٹ کی مدد لیں جو ٹروما میں ایکسپرٹ ہو۔
٭ اگر سائیکالوجسٹ کی مدد کسی وجہ سے نہیں لے سکتے، تو اس کا علاج خود کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس پر موجود لٹریچر کو پڑھیں، پڑھنا آپ کو اس بونڈ کی گہرائی، بناوٹ اوراس کے اثر کوسمجھنے میں مدد دے گا۔
٭ نارساسسٹ سے سارے رابطے ختم کردیں۔ یقینا یہ بہت مشکل ہے۔ اس ریلیشن شپ کی مثال نشے کی مانند ہے اور نشہ چھوڑنا آسان نہیں…… لیکن اس سائیکل میں پھنسے رہ کر آپ صرف اپنی زندگی برباد کررہے ہیں اور کچھ نہیں۔ شروع کا کچھ عرصہ بہت تکلیف ہوگی لیکن آپ نے اپنے فیصلے پر قایم رہنا ہے۔ اس کا فایدہ آپ کو بعد میں ہوگا، جب آپ اس درد والے فیز کو سر کرلیں گے۔ پھر آپ شکر ادا کریں گے کہ آپ نے بہترین فیصلہ لیا۔ بس شروع کے کچھ مہینے اس ریلیشن شپ کی، اس شخص کی طلب ہوگی تو برداشت کرنا ہے ۔
٭کوئی تھراپسٹ نہ سہی، تو کسی دوست سے اپنے احساسات کا ذکر کریں۔ اس کے سامنے اس سائیکل کو وضاحت کے ساتھ بیان کریں، تاکہ آپ کا دماغ کلیئر ہوسکے۔ یا پھر کاپی اور پین کا سہارا لیں۔ اپنے جذبات لکھیں۔ اپنی تکلیف کو الفاظ دیں۔ اس سے آپ کو نہ صرف بہتر سمجھ آئے گی اس بونڈ کی بلکہ جذبات صفحہ پر اُتار کر آپ کا دماغ خالی ہوجائے گا۔ اب اس میں مزید جگہ بنے گی، جسے آپ اپنے وہ مسایل جو اگنور ہورہے تھے کی طرف توجہ دینے میں استعمال کرسکتے ہیں۔
٭ چوں کہ نارساسسٹک ابیوز میں پیار اور ابیوز دونوں کا آناجانا آپ کو کنفیوز رکھتا ہے، آپ کے دماغ میں پیار ابیوز کے آنے جانے سے کیمیکل کے توازن میں جو بگاڑ پیدا ہوتا ہے، وہ آپ کے معاملات کو کلیئرٹی کے ساتھ پرکھنے کی قابلیت میں خلل پیدا کردیتا ہے، تبھی آپ حقیقت کو پرکھ نہیں پاتے۔ آپ ابیوز کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کے لیے آپ میڈی ٹیشن یا کسی بھی پُرسکون سرگرمی کے ذریعے حقیقت کو ویسے دیکھ سکنے کی پریکٹس کرسکتے ہیں جیسی وہ ہے، کیوں کہ ٹروما بونڈ میں حقیقت سے جڑے رہنا ہی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ دماغ کہے گا کہ اس شخص کے بغیر نہیں رہ سکتے…… لیکن آپ نے حقیقت بیان کرنی ہے خود سے کہ ’’رہ سکتے ہیں‘‘، آپ مر نہیں جائیں گے نارساسسٹ کے بغیر۔
٭ ٹروما بونڈ کا پیار-ابیوز کا سائیکل آپ کی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس بونڈ میں اسٹریس اور خوشی دونوں کے ہارمون اچھی خاصی مقدار میں اور مستقل طور پر ایک سائیکل کی شکل میں خارج ہوتے ہیں جس کا اثر آپ کی قوتِ مدافعت پر بھی ہوتا ہے جس سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
رشتوں میں ایموشنل ڈراما ہماری ساری انرجی نگل جاتا ہے۔ ٹروما بونڈ میں نارساسسٹ کے ابیوز سے بچنے کے لیے آپ ہر وقت چوکنا رہتے ہیں۔ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں کہ کب میرے ٹاکسک رشتوں کو کون سی بات بری لگ جائے۔ عموماً نارساسسٹ اپنے ساتھ کچھ کردینے کی دھمکی سے بھی کنٹرول کرتے ہیں اپنے رشتوں کو۔ رشتے ہماری زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ بہت ہی اہم حصہ…… اس لیے ان کے نارمل اور بہتر نہ ہونے کا اثر ہماری صحت، کیریئر اور زندگی کے دیگر معاملات پر پڑتا ہے۔ کسی بھی لت کو چھوڑنے کی طرح آپ کو ٹروما بونڈ سے نکلنے پر دماغ یوں محسوس کروائے گا کہ جیسے آپ نارساسسٹ کے بغیر مر جائیں گے، لیکن دراصل ایسا ہے نہیں۔ آپ نے خود کو اس درد سے گزرنے دینا ہے۔ اس سے گزر کر آپ مضبوط ہوں گے، مریں گے نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹاکسک لوگوں، خاص کر نارساسسٹ لوگوں کے ابیوز سے نکل کر آپ ایک مختلف انسان بن جاتے ہیں۔ ایموشنز کے رولر کوسٹر پر کئی عرصہ جھولنے کے بعد نارمل لوگ اور نارمل زندگی بہت عجیب لگتے ہیں، لیکن صحت یاب ہونے کے بعد، اس قسم کے ذہنی اور جذباتی ہیجان کو سر کر لینے کے بعدآپ خود کو مزید بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔