ہماری جیلیں تو ویسے بھی بدنام ہیں۔ کبھی انہیں جرایم کی یونیورسٹیاں کہا جاتا ہے، تو کبھی ان جیلوں میں تعینات افسران کو ٹھیکیدار بنا دیا جاتا ہے۔ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ ان جیلوں میں کرپشن کی بھی عجیب داستانیں ہیں۔ غریب آدمی کے لیے یہ جیلیں عقوبت خانے ہیں…… جب کہ پیسے والے بڑے ڈاکو کے لیے جیل کسی بھی ریسٹ ہاؤس سے کم نہیں۔ جب ان کا دل کرتا ہے تاریخ لگوا کر اپنے دفتروں میں کام کرکے گھر میں بیوی بچوں سے بھی ملاقات کرلیتے ہیں۔ امیر اور غریب کو یکساں سہولیات فراہم کرنے کے لیے وزیرِ اعلا نے قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیل اصلاحات کے لیے 17 رکنی اعلا سطح کی کمیٹی قایم کردی…… جس کے لیے کنوینر عبدالعلیم خان ہوں گے جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری (پریزن) خصوصی کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔ خصوصی کمیٹی میں رکنِ پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق، عائشہ نواز، عنیزہ فاطمہ، سید علی رضا شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، آئی جی جیل خانہ جات، ڈائریکٹر جنرل پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس، سابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، اسامہ خاور گھمن، احد خان چیمہ، فاطمہ بخاری، مدیحہ طلعت، میری جیمز کل، سپریٹنڈکوٹ لکھپت جیل اور ہیومن رائٹس کمیشن کا نمایندہ شامل ہوگا۔ یہ خصوصی کمیٹی صوبہ بھر میں جیلوں کی صورتِ حال کا جایزہ لے کر فوری طور پر بہتری لانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔ کمیٹی قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیل مینجمنٹ میں بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کرے گی۔ کمیٹی متعلقہ سٹیک ہولڈر سے عملی مشاورت کرکے جیل کے بوسیدہ سسٹم میں اصلاحات مرتب کرے گی۔ جیل قوانین اور انتظامی امور کے درمیان تفاوت کو دور کرنے پر کام کرے گی۔ اس کمیٹی میں اکثر اراکین جیل کے اندر بھی رہ چکے ہیں…… جو ان ’’یونیورسٹیوں‘‘ کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ امید ہے کہ یہ سبھی افراد مل جل کر جیلوں میں ایسی اصلاحات متعارف کروائیں گے کہ ایک عام قیدی بھی انہی کی طرح جیل میں وقت گزار سکے۔ جیسے علیم خان اور احمد چیمہ نے گزارا تھا۔
پاکستان میں جیلیں اور ان کی انتظامیہ آئین پاکستان کے تحت ایک صوبائی قابلیت ہے۔ پاکستان دنیا میں جیلوں کی 23ویں سب سے بڑی آبادی ہے…… اور سزائے موت پانے والی آبادی میں 5ویں نمبر پر ہے۔ تقریباً 64.5 فی صد قیدی مقدمے کی سماعت کے منتظر ہیں۔
قیدیوں میں 98.6 فی صد مرد، 1.7 فی صد نابالغ اور 1.2 فی صد قیدی غیر ملکی شہری ہیں۔ 2018ء تک پاکستان میں 56,499 قیدیوں کی سرکاری گنجایش تھی…… لیکن اس میں 80,145 قیدی تھے۔
’’پنجاب جیل خانہ جات‘‘ ایک اصلاحی تنظیم، ایک یونیفارم سروس اور صوبائی محکمۂ داخلہ سے ایک منسلک محکمہ ہے۔ یہ تنظیم حکومتِ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے انتظامی کنٹرول میں کام کرتی ہے۔ اس تنظیم کے فنکشنل سربراہ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل ہیں…… جو صوبے میں 43 جیلوں کا انتظام دیکھتے ہیں۔
یہ تنظیم صوبہ کی مختلف مرکزی، ضلعی اور خصوصی جیلوں میں قید قیدیوں کی تحویل، کنٹرول، دیکھ بھال اور اصلاح کی ذمے دار ہے۔
پنجاب جیل خانہ جات کا محکمہ 1854 میں صوبہ پنجاب کی مختلف مرکزی، ضلعی اور خصوصی جیلوں میں قید قیدیوں کی تحویل، کنٹرول، دیکھ بھال اور اصلاح کے لیے قایم کیا گیا۔ ’’ڈاکٹر سی ہیتھ وے‘‘ پہلے انسپکٹر جنرل (آئی جی) تھے۔ 1894ء کا جیل ایکٹ (1894 کا ایکٹ نمبر IX) گورنر جنرل آف انڈیا نے کونسل میں منظور کیا…… جس نے 22 مارچ 1894ء کو گورنر جنرل کی منظوری حاصل کی۔
ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ (1865ء سے) ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور ضلع سرگودھا (1873ء سے) ڈسٹرکٹ جیل جہلم (1854ء سے) ڈسٹرکٹ جیل راجن پور (1860ء سے) بورسٹل انسٹی ٹیوشن اینڈ جووینائل جیل بہاولپور (1882ء سے) ڈسٹرکٹ جیل ملتان (1872ء سے) ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد (1872ء سے)، گوجرانوالہ جیل (1854ء سے) اور صوبہ سندھ میں ڈسٹرکٹ جیل (اب جوینائل جیل) دادو (1774ء سے)، 1894ء میں جیل ایکٹ کی منظوری سے بہت پہلے بھی فعال تھیں۔ آزادی کے وقت پنجاب کو اُنیس (19) جیلیں وراثت میں ملی تھیں…… جب کہ آزادی کے بعد اب تک صوبے میں مزید چوبیس (24) جیلیں بن چکی ہیں۔
اس وقت صوبے میں ایک (1) ہائی سیکورٹی جیل، نو (9) سینٹرل جیلیں، پچیس (25) ڈسٹرکٹ جیلیں، دو (2) بورسٹل انسٹی ٹیوشنز اور نوعمر جیلیں، ایک (1) خواتین جیل اور دو (2) سب جیلیں سینٹرل جیل ساہیوال ایک قدیم جیل ہے…… جو ساہیوال میں واقع ہے۔ اس جیل سے ملحقہ ہائی سکیورٹی جیل اور پنجاب جیل سٹاف ٹریننگ کالج کی تعمیر تک رقبے اور زرعی اراضی کے حوالے سے یہ ایشیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔
جیلوں کے انتظام و انصرام اور قیدیوں سے متعلق دیگر تمام معاملات کو عام طور پر درج ذیل قوانین/قواعد کے تحت منظم کیا جاتا ہے:
اعمال (1894ء تا 2006ء) جیل ایکٹ 1894ء، قیدیوں کا ایکٹ 1900ء، پاگل پن ایکٹ 1912ء، پنجاب بورسٹل ایکٹ 1926ء، گڈ کنڈکٹ پریزنرز پروبیشن ریلیز ایکٹ 1926ء، پنجاب ملازمین کی کارکردگی نظم و ضبط اور احتساب ایکٹ (PEEDA) 2006ء، قواعد و ضوابط (1818ء سے 2010ء)، 1818ء کا ضابطہ III (ریاستی قیدیوں کی قید کے لیے ایک ضابطہ)، اچھے برتاؤ کے قیدیوں کی پروبیشن رہائی کے قواعد 1927ء، ویسٹ پاکستان جیل خانہ جات ڈیپارٹمنٹ ڈیلی گیشن آف پاؤر رولز 1962ء، پاکستان جیلوں کے قوانین 1978ء، پنجاب میں سزائے موت کے قوانین 1979ء، جوینائل جسٹس سسٹم رولز 2001-2002ء، نجاب جیل خانہ جات کے محکمہ کے سروس رولز 2010ء اور پاکستان میں پیرول سسٹم۔
امید ہے کہ یہ نئی کمیٹی جیلوں کو حقیقی معنوں میں اصلاح گھر بنائے گی۔ کیوں کہ اس میں سابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر بھی موجود ہیں…… جن کی جیلوں کے حوالہ سے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت اور کوشش سے جیلوں کے قیدیوں کے اس ظالمانہ نظام سے بچانے کی کوشش کی۔ جیلوں کے اندر بنک قایم کیا۔ پی سی اُو لگوائے۔ ٹھنڈے پانی کے کولر لگوائے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی پیکیج سے ہٹ کر ایسے اَن تھک اور محنتی آدمی کو جیلوں کے حوالہ سے کوئی اہم ذمے داری بھی دینے جا رہی ہے۔ موجودہ آئی جی مرزا شاہد سلیم بیگ بھی ایک نڈر اور خوب صورت انسان ہیں، جنہوں نے اپنے طور پر جیلوں کا نظام بہتر بنانے کے لیے بہت اہم ذمے داریاں سر انجام دی ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔