پنجاب کے اکثر شہروں اور دیہاتوں میں مخصوص وضع قطع کے مجذوب نظر آتے ہیں۔ سبز چولے میں ملبوس ان مجذوبوں کے سر چھوٹے اور کچھ لمبوترے سے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ عموماً ایک ہٹا کھٹا آدمی ہوتا ہے جو ان سے بھیک منگواتا ہے۔ ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی بے زبان جانور کے گلے میں پٹا ڈال دیاگیا ہو۔ مالک جدھر چاہے لے جائے۔ عرفِ عام میں ان کو شاہ دولہ کے چوہے کہتے ہیں۔ سب لوگ ان پر رحم کھاتے ہیں اور بھیک بھی دیتے ہیں۔ ان کی بددعاؤں سے لوگ ڈرتے بھی ہیں…… اور ان سے دعائیں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چوں کہ ذہنی معذور ہوتے ہیں، اس لیے بات چیت نہیں کرسکتے۔ خاموش رہتے ہیں۔ رمضان اور دیگر مذہبی تہواروں کے دنوں میں یہ آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ اکثر یہ گھروں کے دروازے کھٹکھٹاکر بھی بھیک مانگتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر تجسس پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ایک جیسے لوگ کہاں سے آتے ہیں؟
تھوڑی جستجو اور تحقیق کے بعد پتا چلا کہ پنجاب کے شہر گجرات میں ایک مزار ہے جس کو ’’شاہ دولہ‘‘ کہتے ہیں۔ ان سب مجذوبوں کا تعلق اسی مزار ہے۔ شاہ دولہ بابا تو کب کے وفات پاچکے ہیں…… لیکن مزار کو ان کے معتقدین اور مرید چلا رہے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق شادی شدہ جوڑوں کے ہاں اگر اولاد نہ ہو، تو وہ شاہ دولہ کے مزار پر جاکر منت مانگتے ہیں…… اور پہلے بچے کی پیدایش پر اس کو مزار کے مجاوروں کے حوالے کر تے ہیں۔
کہتے ہیں کہ اگر منت مانگنے کے بعد پہلے والے بچے کو مزار کے حوالے نہیں کیا، تو آیندہ سب بچے معذور پیدا ہوں گے۔ اس لیے لوگ ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے اپنے نومولود بچے کو مزار کے مجاوروں کے حوالے کرتے ہیں۔ وہ لوگ اس بچے کے سر پر لوہے کا ایک خول چڑھاتے ہیں، تاکہ سر کی نشو و نما رُک جائے…… جس سے اس کا سر لمبوترا اور دماغ مفلوج ہوجاتا ہے۔ باقی جسم نارمل حساب سے بڑھتا ہے…… لیکن دماغ اور سر چھوٹا رہ جاتے ہیں۔ کچھ سالوں کے بعد ان بچوں کے سروں سے خول ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ بجے ذہنی طور پر مفلوج ہوتے ہیں۔
اس کے بعد ان معذور بچوں سے بھیک مانگنے کا دہندا شروع کرایا جاتا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ پیشہ ور گداگر مزار سے ان بچوں کو کرایے پر بھی لے جاتے ہیں۔ 1969ء میں حکومتِ پاکستان نے اس مزار کو محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام کرلیا…… اور بچوں کو معذور بنانے کی اس قبیح فعل پر پابندی لگا دی…… لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ پریکٹس آج بھی جاری ہے۔ آج بھی شاہ دولہ کے مزار پر شادی شدہ جوڑے آتے ہیں…… اور مراد بر آنے کی صورت میں پہلے بچے کو مزار کے حوالے کرتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق آج بھی شاہ دولہ کے مزار کے ساتھ 10 ہزار بچے موجود ہیں…… جو بھیک منگوانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان بچوں کا کوئی والی وارث نہیں۔ یہ مزار کی ملکیت ہیں۔ یہ بچے نہ کوئی سوچ رکھتے ہیں…… اور نہ ان کی اپنی کوئی مرضی ہی ہوتی ہے۔ چوں کہ دماغ میکینکل طریقے سے ناکارہ کیا جاتا ہے…… اس لیے ان کی پوری زندگی دوسروں کے رحم و کرم پر گزرتی ہے۔ ان کی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ مقصد ہے شاہ دولہ کے مزار کے مجاروں کے لیے بھیک اکھٹا کرنا۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں، تو ہر طرف شاہ دولہ کے چوہے نظر آئیں گے جن کے سروں میں دماغ ہے…… لیکن معاشرے کے کچھ عیار لوگوں نے ان کے دماغ کو ناکارہ کردیا ہے۔ ان کو صرف حصولِ زر یا حصولِ اقتدار کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ دنیا اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر اچھے شہری بنا رہی ہے…… اور ترقی یافتہ معاشروں کی بنیادیں مضبوط کر رہی ہے…… اور ہم اپنے بچوں کو شاہ دولہ کے چوہے بنانے میں لگے ہیں۔ ہمارا مستقبل ان سے وابستہ ہے جن کو اپنے وجود کا بھی پتا نہیں۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور سیکھنے کے عمل سے جان بوجھ کر دور رکھا…… اور ان کے سروں پر جہالت کے خول چڑھا دیے۔
بدقسمتی سے اس کام میں ریاست کے ساتھ اشرافیہ اور مفاد پرستوں نے بھر پور کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ جن سروں پر چند سال پہلے جہالت، تنگ نظری اور انتہاپسندی کے خول چڑھائے گئے تھے…… اب وہ شاہ دولہ کے چوہوں کی شکل میں جابجا نظر آرہے ہیں۔ پورا معاشرہ ایک بے حس اور بے آواز معاشرہ بن چکا ہے۔ جہاں بھی دیکھیں ہر طرف شاہ دولہ کے چوہے نظر آتے ہیں…… جن کی سوچ اپنی ہے اور نہ آواز ہی اپنی ہے۔ جس نے جدھر ہانکا اس طرف چل دییے…… جس نے جہاں بٹھایا، وہیں بیٹھ گئے۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔