بھارت اور روس کے مابین آمدہ عشرے کے لیے تجارتی اور دفاعی معاہدے مستقبلِ قریب میں جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کی منتقلی کا نقارہ بجاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بات غور طلب ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد روس، جنوبی ایشیا میں پہلے سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ بھارت روس دفاعی معاہدے جنوبی ایشیا میں بھارتی اجارہ داری کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہیں۔ بھارت اور روس 2025ء تک تجارتی ہدف 30 بلین ڈالرز مقرر کرچکے ہیں۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے، تو چین کے خلاف ’’بھارت امریکہ گھٹ جوڑ‘‘ کے بعد روس کی آمدسے ایک دلچسپ تکون بن چکی ہے۔ روس پہلے ہی چین کے خلاف انڈین پیسیفک میں بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ’’روس بھارت قربتیں‘‘ کسی تکون کی تشکیل کی بجائے دیگر مقاصد کے لیے ہیں۔ اگرچہ بھارت امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ یارانہ نبھانا چاہتا ہے…… تاہم بھارت دومصیبتوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ سرد جنگ میں روس پربھارتی دفاعی انحصار کی وجہ سے بھارت امریکہ سے ہاتھ ملانے سے گریزاں رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں بھارت اور امریکہ میں 3 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے مکمل ہوئے او ر دو طرفہ دفاعی تجارت کا حجم جو کہ سال 2008ء میں تقریباً صفر سے 2019ء میں بڑھ کر 17 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
اب تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ بھارت کی روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری چین کو روکنے کے ساتھ ساتھ امریکی ناراضی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
روس نے ایک طرح سے بھارت کو ممکنہ امریکی پابندیوں کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ میری نظر میں ’’بھارت روس قربت‘‘ کی بنیادی دو وجوہات ہوسکتی ہیں…… یا تو بھارت امریکہ تعلقات میں پہلے جیسا جنوں نہیں رہا…… یا بھارت اس بات کو بھانپ چکا ہے کہ امریکی دوستی مفادات پر منحصر ہے اور مشکل کی گھڑی میں امریکہ دغا دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس وقت بھارت کی دفاعی سمت چین، روس اور امریکہ کے درمیان بالکل غیر واضح ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ وہ ’’یورو ایشیائی طاقت‘‘ بن جائے۔ ایشیا اور یورپ دونوں طاقتوں کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھے۔ بھارت، ماسکو کی دفاعی، چین کی معاشی اور امریکہ کی دفاعی منصوبہ بندی کے درمیان کھٹ پتلی بنا ہوا ہے۔
اس طرح عالمی اُفق پر ابھرتی ہوئی چینی معاشی طاقت او ر رو س اور چین کی بڑھتی قربتوں نے بھارت کو شش و پنچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ چین اور روس کی دوستی یا دشمنی دونوں ہی عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اور یہ دونوں صورتیں بھارت پر گہرے نقوش مرتب کریں گی۔ اول تاریخی اور دوم مستقبل کے پس منظر کے لحاظ سے۔
بھارت روس تعلقات، بھارت امریکہ تعلقات سے کہیں زیادہ گہرے اور مضبوط ہیں۔ روس نے بھارت کی عسکری اور سیاسی پروفائل کو مضبوط کرنے کے علاوہ بے شمار علاقائی مسائل میں بھارت کی بھر پور مدد کی ہے۔ اس طرح روس اور چین ماضی میں بھی دفاعی اور معاشی ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ چین اور روس میں بڑھتے مراسم شاید چین بھارت سردمہری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں اور شاید یہ اقدام امریکہ کو افغانستان کی طرح جنوبی ایشیا سے بے دخل کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ روس، انڈیا اور چین ’’آر آئی سی‘‘ طرزکا کوئی گروپ بنا لیں اور بھارت کی جانب روسی جھکاؤ شاید چین بھارت کشیدگی کو کم کرتے ہوئے امریکہ کردار کو جنوبی ایشیا سے نکال باہر کرے۔
بھارت سرد جنگ کے دوران میں بھی ’’نان الائن بلاک‘‘ بنا کردرمیانی راستے پر گام زن رہ چکا ہے۔ روس کی سرد مہری کی وجہ سے بھارت مجبوراً امریکہ سے ہاتھ ملانے پر راضی ہوا اور امریکہ کے لیے بھی خطے میں چین کو روکنے کے لیے بھارت کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہ تھا۔ اس لیے دونوں کے مشترکہ مفادات نے بھارت اور امریکہ کو باہمی حلیف بنا دیا۔ اب امریکہ بھارت کے ذریعے چین کو روکنا چاہتا ہے جب کہ بھارت امریکہ کے ذریعے ’’ایشیائی بادشاہت‘‘ کا تاج سر پر سجانا چاہتا ہے۔
50ء کی دہائی میں ’’بھارت چین جنگ‘‘ میں روس نے بھارت کوجدید اسلحہ سے لیس کیا اور ’’چین روس جنگ‘‘ میں بھی روس نے بھارت کو سمندری آبدوزوں اور دیگر آلات سے مزین کیا…… تاکہ بھارت امریکی دباؤ کا سامنا کر سکے۔ روس کے فراہم کردہ اسلحہ کی مدد سے بھارت 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد نئی دہلی کو شدید دھچکا لگا اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت انتہائی کم ہو کر رہ گئی۔
مغرب میں نیٹو کی توسیع اور افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ماسکو اور بیجنگ کو قریب لانے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔
قارئین، اگر ماضی کی 60 سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ چین اور روس ماضی میں دوست اور دشمن دونوں کردار ادا کر چکے ہیں اور یہی صورتِ حال یورپ اور روس کے تعلقات میں نظرآتی ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں روس اور چین کو ایک دوسرے سے جدا رکھنا بہترین امریکی مفادات میں ہے۔ کم از کم جنوبی ایشیا میں امریکہ روس دوستی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ بھارت کو اپنے سارے انڈے امریکی ٹوکری میں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وسطِ ایشیا میں چینی اثر و رسوخ روسی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ شائد روس یہ خلا ’’بھارت روس دوستی‘‘ کے بعد ایران کے ذریعے وسطِ ایشیا میں اپنے پنجے مضبوط کرنے کے اہداف کے تحت منصوبہ بندی کر رہا ہو۔
’’روس بھارت قرابت داری‘‘ کی ایک اور بڑی وجہ امریکہ اور جاپان کے فری اور اوپن انڈو پیسیفک منصوبے پر بھارتی ناراضی ہے۔ ہو سکتا ہے بھارت کو اس بات کا یقین ہو چکا ہو کہ امریکہ دوستی سے نہ صرف بھارت، چینی تعاون کو کھو دے گا…… بلکہ روس کی جانب سے بھی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ روس ممکنہ طور پر نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کو کم کرکے امریکہ کی جانب بھارتی جھکاؤ کو کم کرنے کو شش کر رہا ہو۔ کیوں کہ خطے میں امریکی موجودگی روس اور چین دونوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ بھارت بھی افغانستان سے امریکی روانگی کے بعد مایوسی کا شکار ہے۔ کیوں کہ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ صفر ہو چکا ہے…… جب کہ روس اور چین، افغانستان اور پاکستان کی مدد سے اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
اب عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بھارت ’’امریکہ نوازی‘‘ کی بجائے روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوش گوار بنائے۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔