قارئین! کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ ’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟ مَیں نے گوگل پر تلاش کیا، لیکن آپریشن کی مخالفت اور خال خال حمایت کے سوا کوئی تفصیل نہیں ملی کہ آپریشن کیسے ہوگا……؟
احسان حقانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ihsan-haqqani/
ایک لڑکے نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولانا صاحب، کیا جوان لڑکی اور لڑکے کا ایک دوسرے کے ساتھ سونا جائز ہے؟ مولانا صاحب نے بے زاری سے جواب دیا کہ ’’بچے، جائز ناجائز تو بعد کی بات ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم سوتے نہیں۔
اگر واقعی میں آپریشن ہو، جس کے نتیجے میں مٹھی بھر انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کو جہنم واصل کیا جائے، تو کون کم بخت اس کی مخالفت کر سکتا ہے…… لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپریشن تو ہوجاتا ہے۔ ’’فضل اللہ‘‘ گھیرے میں آجاتاہے۔ وہ شدید زخمی بھی ہوجاتا ہے اور اچانک سے وہ فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
اہلِ سوات کو جینے دو (تحریر: حسن چٹان)
سوات: ایک تنقیدی جائزہ (تحریر: ڈاکٹر سلطانِ روم)
سوات میں پولیس گردی نامنظو (تحریر: طالع مند خان)
سوات کو بچایا تھا، آگے بھی بچائیں گے (تحریر: فیاض ظفر) 
دہشت گردی بارے ریاستی سنجیدگی (تحریر: طالع مند خان)  
ڈاکٹر جب آپریشن کرتے ہیں، تو پہلے مریض کا معائنہ ہوتا ہے۔ مرض معلوم ہونے کے بعد مریض اور دوسرے ڈاکٹروں کے مشورے سے آپریشن کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پھر مریض کو آپریشن تھیٹر میں لایا جاتا ہے۔ آپریشن سے پہلے، آپریشن کے دوران میں اور آپریشن کے بعد جتنی اشیا اور ادویہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ سب فراہم کی جاتی ہیں۔ جہاں چیرہ لگانا ہو، اس جگہ کو صاف کرکے نشان لگایا جاتا ہے۔ پھر جھٹ سے آپریشن کرکے مکمل کرنا اولین ترجیح ہوتی ہے۔ آپریشن کی تکمیل کے بعد مریض کے زخموں اور درد کا علاج ہوتا ہے۔ تب مریض کے صحت یاب ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔
ہم نے تو جو آپریشن دیکھا، اُس میں پورے جسم پر چیرے لگائے گئے۔ زخم اور درد کے لیے کوئی دوائی نہیں دی گئی، تو اس طرح کا آپریشن بالکل نہیں چاہیے۔ آپریشن کرنا ہے، تو ناسور معلوم ہیں۔ وہ ویڈیو ز میں للکار رہے ہیں۔ نشان زد کیجیے۔ پکڑ لیجیے اور جہاں مرضی ہو، لے جائیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں…… لیکن آپریشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہی بے گھر کریں، ہمارے ہی راستے بند کردیں اور اگلے دن خبر آئے کہ انتہاپسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تو نہ کیجیے……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔