جب ہم اپنی اے سی والی گاڑیوں میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں، تو ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ باہر کی شدید گرمی میں کچھ لوگ ایسے ہیں، جو ہماری حفاظت اور سہولت کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔
ٹریفک وارڈنز اُن لوگوں میں شامل ہیں، جنھیں اکثر ہم نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اُن کا کام نہ صرف محنت طلب ہوتا ہے، بل کہ وہ شدید گرمی اور مشکل حالات میں بھی اپنے فرائض بہ خوبی انجام دیتے ہیں۔
غفران تاجک کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ghufran/
٭ ٹریفک وارڈنز کی مشکلات:۔ شدید گرمی کے موسم میں جب درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے، ایک عام انسان کے لیے 10 منٹ تک باہر کھڑا رہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ٹریفک وارڈنز اپنی ڈیوٹی پر سارا دن کھڑے رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف ٹریفک کو منظم رکھتے ہیں، بل کہ کسی بھی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔
٭ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ردِ عمل:۔ جب ٹریفک وارڈن کسی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان دیتا ہے، تو اکثر اوپر سے افسران کا فون آتا ہے کہ ’’اس کو جانے دو!‘‘ یہ عمل نہ صرف وارڈنز کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے، بل کہ قانون کی بالادستی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کبھی کبھی وارڈنز پر منفی رویے کا بہانہ بنا کر اُنھیں ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے۔ اس کلچر کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہماری اجتماعی ذمے داری ہے ۔
٭ ہماری ذمے داریاں:۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اُن کے مسائل کو سمجھیں اور اُن کے ساتھ تعاون کریں۔ ٹریفک وارڈنز کا کام ہمارے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی اُن کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ الجھنے کی بہ جائے ہمیں اُن کا احترام کرنا چاہیے اور اگر ممکن ہو، تو اُنھیں پانی پلائیں یا کوئی ٹھنڈا مشروب دیں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ٹریفک پولیس سوات  
سوات میں پولیس گردی نامنظور  
سوات کے ٹریفک نظام میں بہتری کون لائے گا؟ 
مینگورہ شہر کی بے ہنگم ٹریفک اور اس کا حل  
سوات، ٹریفک مسائل بارے چند تجاویز  
٭ قانون کی پاس داری:۔ ٹریفک قوانین پر سمجھوتا کرنے والے قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹیں اور کسی بھی دباو کو خاطر میں نہ لائیں۔ جب ٹریفک وارڈن قوانین پر عمل درآمد کرواتا ہے، تو ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ یہاں قانون کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔
٭ ٹریفک وارڈنز کا مثبت رویہ:۔ ٹریفک وارڈنز کو بھی چاہیے کہ وہ ’’پہلے سلام، پھر کلام‘‘ کے اُصول پر عمل کریں اور مسکراتے ہوئے لوگوں سے پیش آئیں۔ یہ رویہ سامنے والے کو انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے اور ماحول کو خوش گوار بناتا ہے۔
٭ اجتماعی شعور کی ضرورت:۔ ہمیں اپنے معاشرے میں اس بات کا شعور بیدار کرنا ہوگا کہ ٹریفک وارڈنز بھی انسان ہیں اور اُن کے بھی احساسات ہوتے ہیں۔ جب ہم اُن کا احترام کریں گے اور اُن کے ساتھ تعاون کریں گے، تو وہ بھی اپنی ڈیوٹی خوشی سے انجام دیں گے۔
آخر میں، ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ٹریفک وارڈنز کی محنت اور قربانیوں کا اعتراف کرنا اور اُن کے ساتھ تعاون کرنا ہماری ذمے داری ہے۔ ہمیں اُن کے مسائل کو سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ انسانی سلوک کرنا چاہیے۔ اگر ہم سب مل کر تھوڑی سی کوشش کریں، تو ہم اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
لہذا، اگلی بار جب آپ سڑک پر نکلیں، تو ٹریفک وارڈنز کے لیے اپنے دل میں احترام پیدا کریں۔ اُن کا شکریہ ادا کریں اور اگر ممکن ہو، تو اُنھیں کچھ پانی یا ٹھنڈا مشروب پیش کریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہمارے معاشرے کو ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں…… اور سب سے بڑھ کر ہمیں ٹریفک قوانین کی پابندی کر کے ٹریفک وارڈنز کے کام کو آسان بنانا چاہیے، تاکہ وہ بھی اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔