کیا پختونخوا کے تمام مسائل حل ہوگئے…؟

Blogger Ghufran Tajik

واہ رے قسمتِ پختونخوا، کیا ہی سنہرا دور تھا! ایمل ولی خان کی قیادت میں وطنِ پختونخوا کے تمام مسائل حل ہوچکے تھے۔ امن و امان مثالی، خوش حالی عروج پر، معیشت مضبوط، روزگار عام، تعلیم معیاری، ہسپتال جدید، سڑکیں شان دار، بجلی اور گیس وافر، نوجوان برسرِ روزگار اور عوام خوش حال تھے۔ ہر طرف ترقی کے ایسے چرچے تھے کہ پختونخوا کا ہر باشندہ امریکہ سے لے کر یمن تک سیر و سیاحت کے لیے نکلتا تھا۔ کسی کو غربت کی فکر تھی، نہ مہنگائی کا غم، نہ بے روزگاری کی پریشانی، نہ بدامنی کا خوف، نہ تعلیمی پس ماندگی کا مسئلہ تھا، نہ صحت کی سہولتوں کی کمی کا شکوہ ہی تھا!
غرض یہ کہ پختونخوا ترقی کی ایسی منزل پر پہنچ چکا تھا، جہاں پہنچنے کے خواب دنیا کی ترقی یافتہ قومیں بھی دیکھتی ہیں۔ عوام کے تمام بنیادی مسائل حل ہو چکے تھے، ادارے مثالی کارکردگی دکھا رہے تھے اور ہر پشتون کے چہرے پر خوش حالی کی چمک تھی… لیکن ہائے افسوس! اس ترقی یافتہ جنت میں ایک ایسا خطرناک مسئلہ باقی رہ گیا تھا، جو پوری قوم کی خوشیوں کو خاک میں ملا سکتا تھا!
وہ مسئلہ غربت تھا، نہ بے روزگاری… مہنگائی تھی، نہ بدامنی، کرپشن تھی، نہ تعلیم و صحت کی کمی، انفراسٹرکچر کی خرابی تھی اور نہ نوجوانوں کا مستقبل…!
بل کہ وہ ناقابلِ برداشت قومی بحران تھا: پیر بابا حضرت سید علی ترمذیؒ اور اخوند درویزہ باباؒ کی تاریخ، دینی خدمات اور علمی مقام پر گفت گو۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ پختونخوا کے سارے مسائل حل ہو جائیں، لیکن ان بزرگوں کے بارے میں اختلافی گفت گو کا مسئلہ باقی رہے؟ آخر قوم کی ترقی کا آخری دروازہ بھی تو اسی وقت کھلنا تھا، جب پیر باباؒ اور اخوند درویزہ باباؒ کے بارے میں ہر اختلاف ختم ہو جاتا۔
عوام بے شک روزگار کے لیے در بہ در پھرتے رہیں، نوجوان بے شک اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہوں، غریب مہنگائی کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہوں، ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی ہو، تعلیمی ادارے مزید توجہ کے منتظر ہوں اور سڑکیں اور بنیادی ڈھانچا ترقی کے دعوؤں سے سوال کرتے رہیں؛ لیکن ان سب باتوں پر گفت گو کی کیا ضرورت؟ اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ چند تاریخی شخصیات کے بارے میں کون کیا کَہ رہا ہے؟
کیا خوب ترجیحات ہیں! جب حال کے مسائل حل کرنے کا دعوا کافی نہ ہو، تو ماضی کی قبروں سے بحثیں نکال کر حال کے ایوانوں میں سجا دیجیے۔
ذرا سوچیے…! پیر بابا اور اخوند درویزہ باباؒ صدیوں پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ ان کی زندگی، تعلیمات، تصانیف اور دینی خدمات اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کے بارے میں تحقیق کرنا، سوال اٹھانا، تاریخی حوالوں کا جائزہ لینا اور علمی اختلاف کرنا ہر محقق کا حق ہے… لیکن تحقیق اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے؛ تنقید اور کردار کُشی میں فرق ہوتا ہے؛ تاریخی سوال اور مذہبی شخصیات کی توہین میں فرق ہوتا ہے۔
اگر کسی کو ان بزرگوں کے افکار سے اختلاف ہے، تو وہ مستند حوالوں، تاریخی شواہد اور علمی دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرے۔ ان کے دفاع میں کوئی بات کرے، تو اس کا جواب بھی دلیل سے دیا جائے۔ اندھی عقیدت تحقیق کا متبادل ہے، نہ اندھی مخالفت علم کا معیار ہی ہے… لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی تاریخی شخصیت پر تنقید کرنے سے پہلے اس کی پوری زندگی، اس کے عہد کے حالات، اس کی تحریروں اور اس کی دینی و سماجی خدمات کا مطالعہ ضروری نہیں؟ کیا تاریخ کا فیصلہ چند جملوں، سیاسی بیانات یا سوشل میڈیا کی بحثوں سے کیا جا سکتا ہے؟
اور اگر واقعی پختونخوا کے تمام مسائل حل ہوچکے ہیں, تو پھر اس خوش حالی کے ٹھوس شواہد عوام کے سامنے کیوں نہ رکھے جائیں؟ نوجوانوں کو روزگار، عوام کو معیاری تعلیم و صحت، شہریوں کو امن و انصاف اور علاقوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں کیا پیش رفت ہوئی؟
ان سوالات کے جوابات بھی قوم کا حق ہیں۔
اصل طنز یہ نہیں کہ پیر بابا اور اخوند درویزہ باباؒ پر گفت گو کیوں ہو رہی ہے؛ اصل طنز یہ ہے کہ اگر ان کے بارے میں بحث کو قوم کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے، تو پھر عوام کے حقیقی مسائل کس کھاتے میں ڈالے جائیں؟
پختونخوا کسی ایک سیاسی جماعت، خاندان یا شخصیت کی جاگیر نہیں؛ یہ کروڑوں انسانوں کا وطن ہے۔ اس کی ترقی کا پیمانہ سیاسی نعروں سے نہیں، عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی بہتری سے طے ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس کی تاریخ بھی کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں، بل کہ تحقیق، شواہد اور علمی دیانت کی امانت ہے۔
پیر باباؒ اور اخوند درویزہ باباؒ سے اختلاف کیجیے، مگر تحقیق کے ساتھ؛ ان کا دفاع کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ؛ تاریخ لکھیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ کسی بھی سیاسی یا فکری اختلاف کو ایسا قومی بحران بنا دینا جس کے سامنے تعلیم، صحت، روزگار، امن اور خوش حالی کے مسائل ثانوی دکھائی دینے لگیں، خود ایک قابلِ غور رویہ ہے۔
آخر میں ایمل ولی خان اور اُن کے سیاسی ہم خیالوں سے ایک سوال… اگر پختونخوا میں امن، خوش حالی، روزگار، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے تمام مسائل واقعی حل ہوچکے ہیں، تو پھر پیر بابا اور اخوند درویزہ باباؒ کی تاریخ پر بحث کو اتنی غیر معمولی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے… اور اگر یہ مسائل ابھی باقی ہیں، تو کیا قوم کی توجہ ان کے حل پر مرکوز کرنا زیادہ ضروری نہیں؟
کیوں کہ قومیں اپنے حال کو بہتر بنانے، اپنے مستقبل کو سنوارنے اور اپنے ماضی کو دیانت داری سے سمجھنے سے ترقی کرتی ہیں؛ نہ کہ ایک مسئلے کو اتنا بڑا بنا دینے سے کہ باقی تمام مسائل نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ تاریخ پر بات ضرور ہوگی، تحقیق بھی ہوگی اور سوال بھی اُٹھیں گے؛ لیکن ساتھ ہی عوام کے مسائل پر بھی سوال ہوں گے، کیوں کہ پختونخوا کے عوام کو صرف تاریخی مباحث نہیں، عملی ترقی بھی چاہیے…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے