یہ ریاست کس راستے پر گام زن ہے؟

Blogger Ghufran Tajik

پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں محاذوں پر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ملکی سیاست میں اس جماعت کا اثر و رسوخ اس قدر نمایاں ہے کہ سیاسی گفت گو کا بڑا حصہ اسی کے گرد گھومتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ہوں، حکومتی حلقے ہوں یا ذرائع ابلاغ… ہر طرف پی ٹی آئی کا ذکر کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملکی سیاست کا درجۂ حرارت بڑی حد تک اسی جماعت کی سرگرمیوں، فیصلوں اور ردِعمل سے متعین ہو رہا ہے۔
لیکن اس تمام سیاسی سرگرمی کے درمیان ایک ایسا پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور وہ ہے ترقی یاتی کام، عوامی سہولتیں اور عملی نتائج۔ اگر کسی جماعت کی ترقیاتی سرگرمیاں مختلف علاقوں میں دکھائی دے رہی ہوں، سڑکیں بن رہی ہوں، تعلیمی ادارے بہتر ہو رہے ہوں، صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہوں اور عوام کے روزمرہ مسائل حل ہو رہے ہوں، تو یہ سرگرمیاں سیاسی بحث کا ایک اہم موضوع بن جاتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی جماعت کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ دعووں اور زمینی حقائق میں فرق کیا جائے۔ منصوبوں کے اعلانات سے زیادہ اہم ان کی تکمیل، معیار، شفافیت اور عوام کو پہنچنے والا حقیقی فائدہ ہے۔
سیاست میں اصل کام یابی محض اپنی موجودگی منوانا نہیں، بل کہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت زیادہ مقبول ہے، بل کہ یہ ہے کہ کون عوام کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتی، ان کا حل پیش کرتی اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دیتی ہے؟
قومیں نظریات سے بنتی ہیں، مگر صرف نظریات سے نہیں چلتیں:
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قوموں کی تشکیل میں نظریات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نظریہ قوم کو مقصد دیتا ہے، اجتماعی شناخت پیدا کرتا ہے اور افراد کو ایک مشترکہ منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ نظریے کے بغیر کوئی قوم طویل عرصے تک اپنی سمت متعین نہیں رکھ سکتی۔ تحریکِ پاکستان بھی ایک نظریاتی جد و جہد تھی، جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ نظریۂ پاکستان نے مسلمانوں کو ایک سیاسی مقصد اور مشترکہ شناخت کے گرد جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایک مشترکہ نظریہ، ایک مشترکہ جغرافیے اور ایک مشترکہ قومی پرچم کے باوجود ہم ایک ایسی قوم بن سکے ہیں جس کے دکھ، مسائل اور خوشیاں مشترک ہوں؟
کراچی سے گلگت، چترال سے گوادر اور سوات سے تھرپارکر تک رہنے والے پاکستانی قانونی اور آئینی اعتبار سے ایک ملک کے شہری ہیں، لیکن کیا ان کے مسائل کو یک ساں قومی اہمیت حاصل ہے؟ کیا ایک دور دراز علاقے میں آنے والی آفت، کسی دوسرے صوبے کے شہری کو اسی شدت سے متاثر کرتی ہے؟ کیا کسی محروم علاقے کے بچے کی تعلیم، کسی بڑے شہر کے بچے کی تعلیم جتنی قومی ترجیح رکھتی ہے؟ کیا ایک علاقے میں بنیادی سہولتوں کی عدم دست یابی پورے ملک کو اسی طرح بے چین کرتی ہے، جس طرح کسی بڑے شہر میں پیدا ہونے والا بحران؟
اگر ان سوالات کے جوابات تسلی بخش نہیں، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومی یک جہتی کا سفر ابھی نامکمل ہے۔
کیا ہم پاکستانی پہلے ہیں یا اپنے اپنے علاقوں کے باشندے؟:
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس قومی نظریہ نہیں، بل کہ یہ ہے کہ ہم اس نظریے کو اپنی اجتماعی زندگی میں پوری طرح ڈھال نہیں سکے۔ ہم قومی وحدت کی بات کرتے ہیں، مگر علاقائی محرومیوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم اتحاد کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن وسائل کی تقسیم، ترقیاتی ترجیحات اور مواقع کی فراہمی میں مساوات کا سوال مسلسل موجود رہتا ہے۔
جب کسی علاقے کے لوگ برسوں بنیادی صحت، معیاری تعلیم، صاف پانی، روزگار اور محفوظ سڑکوں سے محروم رہتے ہیں، تو ان کے لیے قومی یک جہتی محض تقریروں کا موضوع بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ صرف نظریاتی نعروں کی بنیاد پر اپنی محرومیوں کو بھول جائیں، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر نہیں۔
قومی یک جہتی کا تقاضا یہ ہے کہ کراچی کے شہری کو چترال کے بچے کی تعلیم سے بھی اتنی ہی دل چسپی ہو، جتنی اپنے علاقے کے تعلیمی مسائل سے؛ گلگت کے باشندے کو تھر کے پانی کی فکر ہو؛ سوات کے شہری کو بلوچستان کی محرومی کا احساس ہو اور پنجاب کا کسان سندھ کے سیلاب زدگان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے۔
قوم اس دن مضبوط ہوتی ہے جب ایک علاقے کا مسئلہ دوسرے علاقے کے لیے بھی مسئلہ بن جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ محض ایک تصور نہیں رہتا، بل کہ ایک زندہ اجتماعی شعور کی شکل اختیار کرتا ہے۔
خالی پیٹ نظریہ نہیں، روٹی مانگتا ہے:
آج کے عام پاکستانی کی ترجیحات کو سمجھنے کے لیے کسی پیچیدہ سیاسی فلسفے کی ضرورت نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی بڑی تعداد سیاسی نعروں سے زیادہ عملی نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔
ایک باپ کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی فیس کیسے ادا کرے گا؟ ایک بیمار شخص کے لیے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ اُسے مناسب علاج کہاں ملے گا؟ ایک نوجوان کے لیے روزگار کا موقع کسی سیاسی تقریر سے زیادہ معنی رکھتا ہے، جب کہ ایک غریب خاندان کے لیے آٹے، بجلی اور بنیادی ضروریات کی قیمتیں بہ راہِ راست زندگی کا مسئلہ ہیں۔
یہاں ایک تلخ مگر اہم سوال جنم لیتا ہے کہ خالی پیٹ نظریہ کیا معنی رکھتا ہے؟
اس سوال کا مطلب نظریے کی نفی کرنا نہیں، بل کہ نظریے اور زندگی کے درمیان تعلق کو سمجھنا ہے۔ بھوک، غربت اور محرومی سے دوچار انسان کے لیے نظریہ اسی وقت زیادہ بامعنی بنتا ہے، جب وہ اسے انصاف، عزت، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کی صورت میں محسوس کرے۔
عوام کو نظریات سے بالکل بے سروکار قرار دینا بھی درست نہیں۔ وہ انصاف، خودمختاری، دیانت داری، مذہبی و ثقافتی شناخت اور مساوی حقوق کو اہم سمجھتے ہیں، لیکن ان اقدار کا عملی اظہار چاہتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے نام پر کی جانے والی سیاست ان کی زندگی میں کیا تبدیلی لاتی ہے؟ لہٰذا مسئلہ نظریے اور روٹی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں؛ اصل مسئلہ ایسا نظام قائم کرنا ہے، جہاں نظریہ انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور اس کے حقوق محفوظ بنانے میں رَہ نمائی فراہم کرے۔
ترقیاتی کام سیاست کا متبادل نہیں، اس کا امتحان ہیں:
اگر کوئی سیاسی جماعت سڑکیں بناتی ہے، ہسپتال قائم کرتی ہے، تعلیمی اداروں کو بہتر بناتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور عوامی مسائل حل کرتی ہے، تو اس کی کارکردگی کو سراہنا چاہیے۔ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ہر اچھے کام کو مسترد کرنا اتنا ہی غیرمنصفانہ ہے، جتنا کسی جماعت کے ہر اقدام کو بلا تحقیق درست قرار دینا۔
ترقیاتی کام کسی جماعت کا احسان نہیں، بل کہ عوامی وسائل اور حکومتی ذمے داریوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ عوام کے وسائل کو کتنی دیانت داری، شفافیت اور مساوات کے ساتھ استعمال کرتے ہیں؟
اسی طرح صرف عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں کی تعداد ترقی کا مکمل پیمانہ نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کیا سکولوں میں معیاری تعلیم میسر ہے؟ کیا ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور ادویہ موجود ہیں؟
کیا بنائی گئی سڑکیں پائیدار ہیں؟
کیا ترقیاتی منصوبے تمام علاقوں تک پہنچ رہے ہیں؟
کیا عام آدمی کی آمدنی اور معیارِ زندگی میں بہتری آئی ہے؟
ترقی کا حقیقی معیار یہ ہے کہ ایک عام شہری کو ریاست کی موجودگی اپنی زندگی میں محسوس ہو۔
اگر پی ٹی آئی یا کوئی دوسری جماعت ان میدانوں میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے، تو اس کی تعریف ہونی چاہیے۔ اگر وہ ناکام ہوتی ہے، تو اس پر سوال اٹھانا بھی عوام کا حق ہے۔ جمہوریت میں حمایت اور تنقید دونوں کی گنجایش ہونی چاہیے، کیوں کہ اندھی حمایت احتساب کو کم زور کرتی ہے اور اندھی مخالفت حقیقت کو دیکھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔
سیاست دانوں کی مقبولیت سے زیادہ عوام کی زندگی اہم ہے:
پاکستانی سیاست کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر سیاسی شخصیات اور جماعتوں کو اپنی شناخت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ کسی جماعت کی کام یابی کو اپنی ذاتی کام یابی اور اس کی ناکامی کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی اختلاف دلیل کے بہ جائے دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حال آں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت بہ ذاتِ خود قومی ترقی کی ضمانت نہیں، جیسے کسی جماعت کی مخالفت بھی لازماً درست سیاسی شعور کی علامت نہیں۔ اصل معیار کارکردگی، آئینی بالادستی، قانون کی حکم رانی، شہری آزادیوں، معاشی انصاف اور عوامی فلاح سے وابستگی ہونا چاہیے۔
عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں اور مخالف جماعت کے اچھے کام کو بھی تسلیم کریں۔ سیاسی شعور کا مطلب کسی ایک جماعت کے ساتھ غیرمشروط وفاداری نہیں، بل کہ ہر جماعت کو ایک ہی اصول پر پرکھنا ہے۔
اگر ہم ایسا سیاسی کلچر پیدا کرسکیں، تو جماعتیں بھی نعروں سے آگے بڑھ کر کارکردگی پر توجہ دینے پر مجبور ہوں گی۔
ہمیں کس قسم کے پاکستان کی ضرورت ہے؟:
ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نظریۂ پاکستان قومی وحدت، مساوی شہریت، انصاف اور اجتماعی ذمے داری کی بنیاد بنے؛ جہاں ترقی چند بڑے شہروں تک محدود نہ رہے؛ جہاں چترال، سوات، بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان اور سابق قبائلی اضلاع کے لوگوں کو بھی یک ساں مواقع میسر ہوں؛ جہاں کسی شہری کی محرومی اس کے جغرافیے کی وجہ سے اس کا مقدر نہ بنے۔
ہمیں ایسا نظام چاہیے، جہاں سیاست دان عوام سے ووٹ لینے کے بعد ان کے سامنے جواب دہ رہیں، جہاں ترقیاتی منصوبے سیاسی وابستگی کے بہ جائے ضرورت کی بنیاد پر شروع ہوں اور جہاں اختلافِ رائے کو غداری یا دشمنی نہ سمجھا جائے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں ایسا قومی شعور درکار ہے، جو صرف قومی دنوں کی تقریبات، نعروں اور تقاریر تک محدود نہ ہو، بل کہ روزمرہ زندگی میں دوسروں کے حقوق تسلیم کرنے، محروم طبقات کی آواز سننے اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال کی صورت میں ظاہر ہو۔ المختصر نظریہ بھی، روٹی بھی، عزت بھی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی سرگرمیوں، مقبولیت اور ترقیاتی دعووں پر بحث اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس بحث کو کسی ایک جماعت کی حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست، عوام کی زندگی کو کس سَمت لے جا رہی ہے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نظریہ قوم کو سَمت دیتا ہے، مگر اس سَمت پر چلنے کے لیے انصاف، معاشی استحکام، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتیں بھی ضروری ہیں۔ نظریہ اگر عوام کے دکھ درد سے لاتعلق ہو جائے، تو وہ محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، اور ترقی اگر قومی وحدت، مساوات اور انصاف سے خالی ہو، تو وہ بھی پائیدار معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
ہمیں نظریے کو ترک کرنے کی ضرورت ہے اور نہ عوام کی بنیادی ضروریات کو نظریاتی بحثوں کے نیچے دبانے کی۔ ضرورت اس توازن کی ہے، جہاں قومی شناخت اور عوامی فلاح ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ کون سی جماعت پاکستان پر حکم رانی کرے گی، بل کہ یہ ہے کہ حکم رانی کرنے والی جماعت پاکستان کے عام شہری کے لیے کیا بدلے گی؟
کیا ایک مزدور اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکے گا؟
کیا ایک نوجوان کو روزگار کے لیے اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا؟
کیا ایک بیمار شخص علاج کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت کرنے سے بچ سکے گا؟
کیا چترال کے شہری کا دکھ کراچی کے شہری کو بھی اپنا دکھ محسوس ہوگا؟
جس دن پاکستانی ایک دوسرے کی محرومی کو اپنی محرومی اور ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنے لگیں گے، اسی دن نظریۂ پاکستان ہماری عملی قومی زندگی میں حقیقی معنوں میں زندہ ہوگا۔
کیوں کہ قومیں صرف مشترکہ تاریخ اور نظریے سے نہیں، بل کہ مشترکہ ذمے داری، انصاف، احساس اور ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے کے جذبے سے بھی بنتی ہیں… اور ایک کام یاب ریاست وہی ہوتی ہے، جہاں شہریوں کو صرف وطن سے محبت کرنے کا درس نہیں دیا جاتا، بل کہ وطن انھیں عزت کے ساتھ جینے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے