میاں سید جلال (مرحوم)

Blogger Comrade Sajid Aman

ماضی کا جلال، جو نئی نسل محسوس نہیں کرسکتی اور نہ اُس دور کے مینگورہ کو تصور میں لاسکتی ہے۔ شاید کچھ عرصے بعد مصنوعی ذہانت اس قابل ہو کہ یادداشت، خیالات اور تصورات کو اصلی صورت میں مجسم کرسکے۔ چھڑکاو کی گئیں مینگورہ کی سڑکیں، شام کا وقت، خاموشی کی طرف جاتا شہر… اور میاں سید جلال پورے ’’جلال‘‘ کے ساتھ خوب صورت تانگے پر کسی تصوراتی شہزادے کی مانند جلوہ افروز ہوتے اور پورے شہر کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔
مینگورہ، اس کی شامیں اور میاں سید جلال کی تانگے میں شہر کی سیر لازم و ملزوم تھے۔
میاں سید جلال باچا میاگانو چم کے رہایشی تھے۔ بنیادی تعلق مینگورہ کے نواحی گاؤں کلاڈھیر سے تھا، جو تختہ بند کے پاس سادات کا ایک قدیم گاؤں ہے۔ اب آبادیوں کے پھیلاو نے اسے مینگورہ شہر کا حصہ بنا دیا ہے۔ اسی سادات گاؤں کے لوگ ریاستی دور سے پہلے موجودہ گلشن چوک میں گلشن چوک، ڈنڈ، ملکانان اور جولو خیل کے درمیان آباد ہوئے۔ یہاں پر میاگانو چم اور میاگانو مسجد مینگورہ کی پہچان ہیں اور شہر کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔
میاں سید جلال باچا ایک آزاد اور فطرتاً باغی انسان تھے۔ ایک طرف غریب پرور، دوسری طرف طاقتوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار۔ اُن کا مشغلہ بھی سرکش گھوڑے پالنا اور اُنھیں قابو میں رکھنا تھا۔ خوب صورت تانگا شام کو شہر کا چکر لگاتا، ہر طرف سے داد و تحسین ملتی۔ وجیہہ شخصیت، خوب صورت جوانی، پُرکشش لباس اور قیمتی تانگا… گویا خوابوں سے نکلا کوئی شہزادہ شہر میں نکل آیا ہو۔ اُن کے نکلنے کا انتظار ہوتا اور اُس کے بعد لوگ تانگے کے ساتھ ساتھ چلتے۔
میاں سید جلال کے چچا، طوطا، میاں گانو چم سے جا کر گل کدہ میں آباد ہوئے۔ سید خدابخش پاچا اُسی نسل کے چشم و چراغ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خاندان لنڈیکس اور امانکوٹ مینگورہ میں بھی آباد ہوا۔ ڈاکٹر طارق عزیز، صادق عزیز (مسلم لیگ) اور سید شفیق عزیز (واپڈا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیفٹی ملاکنڈ ڈویژن) کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے۔
یہ قدیم مینگروال اپنے گاؤں کلاڈھیر سے مضبوط رشتہ رکھتے تھے۔ میاں سید جلال اور میاگانو نے ریاستی دور میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا۔ ریاست نے دوستی اور دشمنی کے توازن میں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو قابو میں رکھا۔ میاں سید جلال نے جہاں سر پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت محسوس کی، وہاں ہاتھ رکھا۔ جہاں ہتھیلی پر سر رکھنے نوبت آئی، پیچھے نہ ہٹے۔
میاں سید جلال کے چشم و چراغ یوسف خان (مرحوم) اپنے دور میں بہادری اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔ شجاعت میں اپنے والد کا عکس تھے۔ ایوب خان اور اقبال سید (مٹے) بھی اسی سلسلے کے افراد تھے۔ ’’مٹے‘‘ ملابابا سکول میں ہمارے سینئر تھے۔ یوسف خان (مرحوم) ولد باچا خان (مرحوم)، جلوخیل کے ’’دنگ امین جلوخیل‘‘ سب کلاس میں تھے اور ضمیر صاحب (مرحوم) ہمارے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ڈاکٹر طارق عزیز میرے کلاس فیلو تھے۔ میاں جی (مرحوم) دنیا کے سب سے مہربان اور بہادر شخص کے بیٹے تھے، جب بھی ملتے بہت پیار سے ملتے۔
یہ ایک طرح سے حیا اور عزت کا زمانہ تھا۔ بڑے خواہ کوئی بھی ہوں، اپنا حق سمجھتے تھے کہ چھوٹوں کو ڈانٹیں اور منع کریں۔ اکثریت آبائی لوگوں کی تھی۔ اُس وقت اودھیانہ مارکیٹ بن رہی تھی جب ہم پڑھ رہے تھے۔ بن کر تیار بھی ہوگئی، مگر لمبا عرصہ ویران پڑی رہی۔ یہ گرمیوں میں بہت ٹھنڈی جگہ تھی۔ سردار علی جلوخیل، سجاد علی جلوخیل، طارق عزیز، جہان عالم جلوخیل، اختر علی (بابئی)، ہم سب ایک کلاس میں تھے۔ کبھی اودھیانہ مارکیٹ کے ملکانان مسجد کی طرف جاتے، تو یوسف خان (مرحوم) اور مٹے ہمیں بھگا دیتے۔
ایک گھنٹے کے ریسس میں سجاد اور سردار علی کھینچ کر لے جاتے۔ مَیں شرمیلا سا تھا، نہ جاتا، تو باچا خان (مرحوم)، دلیل خان اور یوسف خان (مرحوم) کو بجھوا کر لے جاتے۔ کئی دفعہ احمد خان اور دلیل خان (مرحوم) غصے میں آکر لے جاتے اور باچا خان (مرحوم) کہتے: ’’تحصیل دار صاحب کو کہوں گا، بھوکا پیاسا سکول میں رہ جاتا ہے، یہ اپنا گھر ہے یہاں نہیں آتا، وہی اس کو ٹھیک کریں گے۔‘‘
اور سردار علی اور سجاد کو خوب ڈانٹ پڑتی۔ طارق عزیز میاں جی (مرحوم) کہتے: ’’سڑک پار کرتے وقت ایک دوسرے کو ہاتھ دو اور آیا کرو۔‘‘
کیسے کیسے مہرباں لوگ، محبت اور خلوص سے بھرے لوگ تھے۔ ہمارا خوب صورت شہر ’’مینگورہ‘‘ وقت کے ساتھ بدلتا گیا۔ عمارتیں کھمبیوں کی طرح اُگ آئیں، کنکریٹ کا جنگل بنتا گیا۔ کیسے کیسے طاقت ور انسان مٹی کے نیچے دبتے چلے گئے۔ وہ جو تاریخ بناتے تھے، خود تاریخ بن گئے۔
اَب مینگورہ میں نئی نسل ’’ڈنڈ‘‘ کی وجۂ تسمیہ جانتی ہے، نہ مینز ملکانان، نہ میاگانو چم اور نہ جلوخیل۔ سب کچھ کمرشل ہوگیا ہے۔ بڑے بڑے پلازے بن گئے ہیں۔ ’’ڈنڈ‘‘ (وہ جگہ جہاں کھڑا پانی تالاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اب وہاں پر مینگورہ شہر میں ایک پورا محلہ آباد ہے) بھر گیا ہے اور ہم وار ہوکر آبادی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ اب میاگانو چم ہاسٹل اور ٹیوشن سنٹروں کی وجہ سے مقبول ہے۔ جلوخیل محلہ میڈیسن مارکیٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔
بات شروع ہوئی تھی میاں سید جلال سے اور تان مینگورہ شہر کی بربادی پر آکر ٹوٹی۔ اللہ تعالیٰ میاں سید جلال کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے