ادبی سرقے کی ایک بھولی بسری کہانی

Blogger Alina Gul

ترجمہ و تحقیق: Alina Gul’’ایف سکاٹ فٹز جیرالڈ‘‘ (F. Scott Fitzgerald) نے اپنی بیوی کی ڈائری چوری کی۔ اُس کے الفاظ کو اپنے نام سے شائع کیا۔ پھر اُس کی کتاب کو بند کروادیا۔ وہ ایک جلتے ہوئے ہسپتال میں کمرے میں مقفل دم توڑ گئی۔’’زیلڈا سائرے فٹز جیرالڈ‘‘ (Zelda Fitzgerald) سنہ 1900ء میں پیدا […]

دو ناول، ایک انسانی کہانی

Book Review by Abu Jaun Raza

ادب کی دنیا ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی میں اترنا قاری کو نہ صرف ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے، بل کہ اس کے فکر و شعور کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے، جو مجھے بار بار کتابوں کی طرف کھینچ لاتا ہے ۔ حال ہی میں میرے مطالعے […]

ادب کیوں پڑھیں؟

Translated by Nayab Hassan

ترجمہ: نایاب حسن(نوٹ:۔ ماریو برگس یوسا، 1936ء تا 2025ء، ہسپانوی زبان کے اہم ترین و رجحان ساز ادیب، ناول نگار، ڈراما نویس اور مضمون نگار ہیں۔ اُن کے دو درجن سے زائد ناول، اتنے ہی مضامین کے مجموعے اور نصف درجن سے زائد ڈراموں کے مجموعے شائع شدہ ہیں۔ 2010ء میں اُنھیں نوبل انعام براے […]

’’کافی ٹھنڈی ہونے سے پہلے‘‘ (جاپانی ادب)

Book Review by Danish Mirza

تبصرہ: دانش مرزا یہ ٹوکیو کے ایک چھوٹے سے کیفے کی کہانی ہے، جہاں ’’وقت میں سفر‘‘ (Time Travel) ممکن ہے، مگر کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ۔ آپ صرف اُن لوگوں ہی سے مل سکتے ہیں، جو پہلے اس کیفے میں آچکے ہوں۔ آپ حال میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے اور آپ کو اپنی کافی […]

ڈاکٹر انعام الحق جاوید: زندہ جاوید شاعر

Blogger Rohail Akbar

ڈاکٹر انعام الحق جاوید لفظوں کے جادوگر تو ہیں ہی، ساتھ میں مخلص دوست، ہم درد انسان اور خوب صورت و خوب سیرت ہیں۔ جو بھی اُن سے ایک بار مل لیتا ہے، پھر بار بار ملنے کی حسرت اُس کے دل میں پیدا ہوتی رہتی ہے۔آج کل کے غم زدہ ماحول میں اُن کی […]

ناول ’’موبی ڈک‘‘ (تبصرہ)

Abdullah Khalid

تحریر: عبد اللہ خالد ہرمین میلول (Herman Melville) جو 19ویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے، جن کی کہانیاں سمندری مہمات، انسان کی نفسیات اور قسمت کے کھیل کے گرد گھومتی ہیں۔ 1819ء میں نیویارک میں پیدا ہونے والے میلول نے اپنی جوانی میں مختلف ملازمتیں کیں، لیکن بالآخر سمندر نے اُنھیں اپنی طرف راغب […]

ناول ’’گریٹ ایکسپیکٹ ایشنز‘‘ (تبصرہ)

Book Review by Abdullah Khalid

تحریر: عبد اللہ خالد چارلس ڈکنز 19ویں صدی کے ایک نام ور انگریزی ناول نگار تھے، جنھوں نے زندگی کے تلخ حقائق اور انسانی فطرت کو بے حد خوب صورتی سے قلم بند کیا۔ اُن کی تحریریں محض کہانیاں نہیں، بل کہ سماج کا آئینہ تھیں، جہاں امیری اور غریبی، محبت اور بے حسی، اُمید […]

روسی ادب: فن کی عظمت کا آئینہ

Waqar Kanwal

تحریر: وقار کنول روسی ادب کو دنیا میں سب سے زیادہ حقیقت پسند اور انسانی نفسیات کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے۔ اس میں انسانی جذبات، اخلاقی کش مہ کش اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو سفاکی کی حد تک ایمان داری سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ادب نہ صرف فلسفے اور نفسیات کے […]

نکولائی گوگول، عظیم روسی مصنف

Sattar Tahir

تحریر: ستار طاہر ’’نکولائی واسیلی وچ گوگول‘‘(Nikolai Vasilyevich Gogol) یوکرین میں 1809ء میں پیدا ہوا۔ بچپن ہی میں اُس نے یوکرین کے فوک اَدب اور کرداروں سے گہری واقفیت پیدا کرلی تھی۔ یوکرین ہی میں اُس نے تعلیم حاصل کی۔ وہ 18 برس کا تھا کہ اُس نے پیٹرز برگ کا رُخ کیا۔ تب اُس […]

آرتھر شوپن ہاور کا قول اور اس کی وضاحت

Blogger Amir Badshah

تحریر: امیر بادشاہدست قول ملاحظہ ہو: ’’زیادہ تر یہ نقصان ہے، جو ہمیں چیزوں کی قدر کے بارے میں سکھاتا ہے!‘‘یہ قول ہمیں آرتھر شوپن ہاور کے ایک گہرے فلسفیانہ مشاہدے سے روشناس کراتا ہے۔شوپن ہاور ایک 19ویں صدی کے جرمن فلسفی تھے، جنھوں نے زندگی کو ایک بے معنی اور تکلیف دِہ جد و […]

کل ہو نہ ہو (تبصرہ)

Aqila Mansoor Jadoon

تبصرہ: منیر فراز پہلے کی بات اور تھی، جب مَیں نے عقیلہ منصور جدون کے ابتدائی تراجم پڑھے تھے۔ اُس وقت عقیلہ منصور جدون کا تراجم کی صنف میں حرفِ آغاز تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کی طرح ترجمہ کا عمل بھی آزاد فضا میں تکمیل کو پہنچے، تو ہی تخلیق کار کی فطری […]

اوہنری کی مختصر کہانی ’’دی لاسٹ لیف‘‘

Aurangzeb Qasmi

تحریر: اورنگ زیب قاسمی شاخیں رہیں، تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں،تو اچھے بھی آئیں گے’’دی لاسٹ لیف‘‘ اوہنری کی ایک مختصر کہانی ہے، جو پہلی بار 15 اکتوبر 1905ء کو نیویارک ورلڈ میں شائع ہوئی۔٭ خلاصہ:۔ یہ کہانی گرین وچ گاؤں میں نمونیا کی وبا کے دوران میں جنم […]

کالی داس کا شہرۂ آفاق ڈراما ’’شکنتلا‘‘

Tahir Sattar

تحریر: ستار طاہر ڈرامے کا فن بہت قدیم ہے اور اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے کہ مختلف ممالک میں ڈرامے اور تھیٹر کا آغاز کس طرح ہوا اور کون سے ارتقائی مراحل طے کرنے کے بعد آج کہاں پہنچ گیا ہے؟قدیم عہد کے جن ڈراموں کا شہرہ ساری دنیا میں ہے، اُن میں […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چھبیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

چکیسر سے میرا تبادلہ تحصیل بلڈنگ کی چھت کے سلیب سے مشروط تھا۔ ٹھیکہ دار کی الم ناک موت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ اس کا خاندان شدید صدمے میں تھا۔ نومبر کے آخر میں، ٹھیکہ دار کے بیٹے نے، جو ابھی کالج کا طالب علم تھا، نے بقیہ کام کا چارج […]

’’مَیں نے سیکھا ہے کہ……!‘‘

Romania Noor

تحریر: رومانیہ نور مَیں نے سیکھا ہے کہ دنیا کا بہترین تدریسی مقام ایک بزرگ کے قدموں میں ہے۔مَیں نے سیکھا ہے کہ جب آپ محبت میں مبتلا ہوتے ہیں، تو یہ ظاہر ہوتا ہے۔مَیں نے سیکھا ہے کہ بچے کو اپنی بانہوں میں سلانا دنیا کے سب سے پُرسکون احساسات میں سے ایک ہے۔مَیں […]

اندھوں کا دیس (تبصرہ)

Book Review by M Irfan

تحریر: ایم عرفان انگریزی ناول نگار "HG Wells” نے زیرِ تبصرہ ناول کو پہلی بار 1936ء میں شائع کیا تھا اور آج بھی یہ باربار چھپ رہا ہے۔اس کہانی میں مصنف ہمیں ایک عجیب و غریب بیماری کے بارے میں بتاتا ہے۔ برف پوش پہاڑوں کے بیچوں بیچ دنیا سے الگ تھلگ ایک کٹے ہوئے […]

اگر مَیں اپنی زندگی دوبارہ جی سکتی تو……!

Arma Bombik

تحریر: ارمابومبک ’’کاش! مَیں اپنی زندگی دوبارہ جی سکتی، تو مَیں خود کو بیمار محسوس کرنے پر آرام کرنے کے لیے فوراً بستر میں گھس جاتی، یہ سوچنے کی بہ جائے کہ میرے ایک دن کام نہ کرنے سے زمین کی گردش رُک جائے گی۔ مَیں گلاب کی شکل میں بنی گلابی موم بتی کو […]

کامل کیلانی: عربی ادبِ اطفال کا روحِ رواں

Asad Ullah Mirul Hasni

تحریر: اسد اللہ میر الحسنی کامل کیلانی مصری مصنف اور ادیب ہیں، جنھیں ’’عربی ادبِ اطفال کا روحِ رواں‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اُنھوں نے بچوں کے لیے کئی شان دار کام پیش کیے، جن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ جیسے ’’چینی‘‘، ’’روسی‘‘، ’’ہسپانوی‘‘، ’’انگریزی‘‘ اور ’’فرانسیسی‘‘۔ اُنھوں نے بچوں کے لیے […]

حکمتِ رومی (تبصرہ)

Book Review by Komal Rania Shaikh

تبصرہ نگار: کومل رانیہ شیخ  ’’لیمپ کی روشنی میں اکیلے بیٹھنا، آپ کے سامنے ایک کتاب کھلی ہو، ماضی میں گزرے کسی شخص سے باتیں (علمی استفادہ) کرنا، جس سے آپ کبھی نہ ملے ہوں، یہ سب سے حیرت انگیز سکون ہے۔‘‘ قارئین! حکمتِ رومی از ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم میرے زیرِ مطالعہ رہی۔ کتاب […]