محبت کی جیت

تحریر: اسد اللہ میر الحسینی معروف عربی ڈراما نویس اور ناول نگار توفیق الحکیم، جو شادی کے خلاف اپنے مخصوص نظریات کے لیے جانے جاتے تھے، جب اُنھوں نے خود کو یہ قائل کرنے کی کوشش کی کہ اپنی پڑوسن سے شادی کرے، تو اُنھوں نے کچھ سخت شرائط عائد کیں۔ اُن شرائط کے پیچھے […]
ایک والد کی اپنی بیٹی کو نصیحت (انگریزی ادب کا شہ پارہ)

انتخاب و ترجمہ: رومانیہ نور ایک بار میرے والد نے کہا تھا: ’’اگر وہ آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں، تو اُنھیں معاف کر دیں…… لیکن، کبھی نہ بھولیں کہ اُنھوں نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے؟‘‘ اور جب بھی مَیں کسی سے ملتی ہوں اور اُن سے شناسائی ہوتی ہے، تو یہ بات ہمیشہ […]
وہ فہمیدہ ریاض جنھیں میں جانتا ہوں

تحریر: اقبال خورشید وہ میرے لیے ’’گیبرئیل گارسیا مارکیز‘‘ کے کسی کردار کے مانند تھیں۔ ’’تنہائی کے سو سال‘‘ کے کسی کردار کے مانند۔ کردار، جوایک عرصے خوابیدہ رہتا ہے، اُس کے اِرد گرد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، مگروہ کہیں دکھائی نہیں دیتا…… اور پھر اچانک وہ پوری قوت سے لوٹ آتا ہے اور […]
عابدہ پروین اور ہمارا سماجی رویہ

تحریر: وقاص نعیم اگرچہ ہمارا رویہ ہر لحاظ سے ہی الگ ہے، لیکن فنونِ لطیفہ کے بارے میں بھی ہمارے معاشرے کا رویہ بہت عجیب ہے۔ اس عجیب رویے کی زَد میں آنے والی اِک فن کارہ عابدہ پروین بھی ہیں، جن پر قدرے زبردستی کا ’’صوفی رنگ‘‘ چڑھا کر اُن کی گائیکی کو محدود […]
کھانے کی لذت اور اپنا اپنا ہاتھ

میں محلہ گڑھیا میں رہتا تھا، تو وہاں میرے پڑوس میں مسلمانوں کا ایک شریف گھرانا تھا۔ دہلی کے مسلمانوں کے ہاں اُرد کی ایک خاص قسم کی دال پکا کرتی ہے، جسے پھریری دال کہتے ہیں۔ یہ دال بے حد لذید ہوتی ہے۔ اُس گھر میں جب یہ دال پکتی، تو گھر کی مالکہ […]
شاعر کی موت (افسانہ)

رات اپنے تاریک بازو کائنات پر پھیلا چکی تھی۔ فضا پر سناٹا طاری تھا۔ برف گر رہی تھی۔ لوگ اپنے مکانوں محلوں اور جھونپڑیوں میں گھسے ہوئے تھے۔ راستے ویران اور سڑکیں سنسان تھیں۔ شہر سے باہر ایک نواحی بستی میں دوسرے مکانات سے الگ ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی میں ایک نوجوان اپنی زندگی کے […]
جان ملٹن کی ’’گم شدہ جنت‘‘

پیدایش: 1608ء انتقال: 1674ء جان ملٹن (John Milton) انگریزی ادب کا ایک بڑا شاعر ہے، جسے شیکسپیئر کے بعد دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔ اُس نے اعلا تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر اپنے باپ کے دیہاتی مکان میں تنہائی اختیار کرکے چھے سال تک اُن تمام علوم کا مطالعہ کیا، جو اُس […]
کام سے محبت

ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ کی عمر ایک ماہ دس روز کی تھی جب والد کا انتقال ہوگیا اور یتیمی نصیب ہوئی۔ اُس وقت گھر میں روپیا، زیورات، زمین اور مکانات کے کاغذ تھے۔ کیوں کہ والد صاحب نے اپنی کام یاب زندگی میں کافی روپیا پیدا کیا تھا، مگر والد کے انتقال کے بعد رشتہ داروں نے […]
کالی ماتا، ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار

تحریر: حنظلہ خلیق ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار دیوی کالی ماتا کا ہے۔ اس کے دوسرے نام ’’گوری‘‘، ’’پاروتی/ پاربتی‘‘، ’’ستی‘‘ اور ’’درگا‘‘ بھی ہیں۔ تریمورتی کے تین دیوتا میں سے یہ شیوا (مہادیو/ شنکر) کی بیوی ہے۔ اسے دیوی ماں کَہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ کالی دیوی طاقت، ہمت، جنسی جذبے، […]
پبلک لائف

1942ء میں جب کانگرسی اصحاب کے ساتھ راقم الحروف بھی نظر بند کر دیا گیا، تو جیل میں سوائے کتابیں پڑھنے کے دوسرا کوئی کام نہ تھا۔ تو دہلی کے ایک کانگرسی بزرگ شری برج کرشن جی چاندی والا (جو مہاتما گاندھی کے سچے بھگت اور جو غالباً دہلی کے تمام کانگریسیوں سے زیادہ نیک […]
محمد کاظم، ادب کا چھپا رُستم

تحریر: اسلم ملک انجینئرنگ کے ایک طالب علم نے اپنے طور پر عربی پڑھی اور اتنی مہارت حاصل کرلی کہ مولانا مودودی کی چھے کتابوں کا ترجمہ کر ڈالا۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کے ترجمے کی بات چلی، تو عربوں تک نے اصرار کیا کہ ترجمہ ’’محمد کاظم‘‘ ہی سے کرائیں۔ محمد کاظم نے مڈل کلاسوں میں […]
محمد سلیم الرحمان کا ادبی مقام

’’سویر‘‘ سے سلیم صاحب کے تعلق کا آغاز شمارہ نمبر 23 سے ہوا۔ اس میں تیرھویں صدی عیسوی کی دو فرانسیسی کہانیوں ’’نکولیت اور اوکاسن کی کہانی‘‘ اور ’’دو دوستوں کی کہانی‘‘ کا سلیم صاحب کے قلم سے ترجمہ شامل تھا۔ ان کہانیوں کے بارے میں والٹر پیٹر کے مضمون کا ترجمہ اور ’’سورج کے […]
دو شعرا کا تخلیق کردہ فارسی شعر

قارئین! کیا آپ کو معلوم ہے کہ فارسی اَدب میں ایک شعر ایسا بھی موجود ہے، جس کا پہلا مصرع ایرانی شہزادے کا اور دوسرا ہندوستانی شہزادی کا ہے۔ کہاجاتا ہی کہ جس زمانے میں ایران اور ہندوستان میں علم و ادب اپنے عروج پے تھا، ایسے وقت میں ایرانی شہزادے نے ایک مصرع تخلیق […]
عمر ریوابیلا کا ناول ’’ماتم ایک عورت کا‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ڈاکٹر امجد طفیل انسان تشدد کیوں کرتا ہے؟ اس کی شخصیت کے وہ کون سے عناصر ہیں جو اسے دوسروں کو اذیت دینے پر مجبور کرتے ہیں؟ کیا یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے یا وہ انھیں اپنے ماحول سے سیکھتا ہے ؟ یہ اور ان جیسے کئی اور سوال ہیں جنھوں […]
قرقاش زندہ باد! (فلسطینی ادب)

مترجم: محمد افتخار شفیع (ساہیوال) نوٹ:۔ یہ افسانہ انگریزی سے ترجمہ شدہ ہے۔ عدالت کی کارروائی ایک دور افتادہ گاؤں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہوئی۔ یہ کمرا مستطیل شکل کا تھا اوراس میں ایک گول میزاورچندکرسیوں کے سوا اورکچھ نہ تھا۔ کمرے میں موجود واحد میز پر قرآن مجید اور بائبل کا […]
موت کی سرگوشی (افسانچہ)

انتخاب: نواب ایم ایس بغداد میں ایک تاجر رہتا تھا۔ ایک دن اُس نے اپنے ملازم کو بازار بھیجا کہ وہ کچھ چیزیں خرید لائے۔ کچھ دیر بعد وہ ملازم واپس لوٹا، تو حواس باختہ تھا۔ خوف سے کانپ رہا تھا۔ مالک کے استفسار پر ملازم بولا: ’’میرے آقا! جب مَیں بازار میں داخل ہی […]
ثبوت کے کاغذ (چیک ادب )

ترجمہ: حنظلہ خلیق کسی جنگل میں ایک خرگوش کے کام کے لیے کوئی نوکری نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کے لیے درخواست جمع کرا دی۔ اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی، تو اُسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دے دی گئی۔ ملازمت کرتے […]
’’سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن‘‘ (مقدمہ)

تحریر: سیمیں کرن ’’کنفیوشس‘‘ یا ’’کونگ فو زی‘‘ ساڑھے پانچ سو قبلِ مسیح کا وہ مفکر، عالم اور فلسفی ہے جس کی تعلیمات نے چین، جاپان، تائیوان، کوریا اور مشرقِ بعیدمیں زبردست پذیرائی حاصل کی اور یہاں ’’کنفیوشس ازم‘‘ نے نہ صرف ایک مذہب کی حیثیت اختیار کرلی، بلکہ وہ اُن کی زندگیوں کا ایک […]
’’صوابی کی ثقافت کا آئینہ‘‘ (تبصرہ)

ڈاکٹر بشریٰ خاتون پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اُن کا تعلق خیبر پختون خوا کے تاریخی گاؤں صوابی سے ہے۔ ’’صوابی کی ثقافت کا آئینہ‘‘ ڈاکٹر صاحبہ کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو اُنھوں نے پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا ہے۔ […]
چیخوف کا سوانحی خاکہ

تحریر: شکیل عادل زادہ 1888ء سے 1890ء کا عرصہ چیخوف کے لیے بڑی آزمایش کا زمانہ تھا۔ ٹی بی ہوجانے کے انکشاف، دوستوں کی ناقدری، ناقدوں کی سنگ دلی اور بے رحمی نے اُسے بہت ہلکان کیا۔ ناقدوں کا خیال تھا کہ چیخوف اپنے دور کے سیاسی، اخلاقی اور سماجی مسائل کے بارے میں دو […]
نَٹ بے حد اہم ہے (روسی اَدب)

ترجمہ: توقیر بُھملہ روس کے ایک قصبے میں ریلوے اسٹیشن پر نیا محافظ تعینات ہوا۔ تعیناتی کے پہلے روز وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب بچھی ہوئی پٹڑی کی دیکھ بھال کے لیے گشت کر رہا تھا کہ اُس نے ایک شخص کو دیکھا جو بڑا سا آہنی اوزار تھامے پٹڑی کو زمین میں نصب کرنے […]