کچھ امجد خاں تجوانہ کے بارے میں

مَیں زندگی کے حسیں ضابطے میں ہوں درود پڑھ رہا ہوں خدا سے رابطے میں ہوں امجد خاں تجوانہ ایک اُبھرتے ہوئے نوجوان شاعر، بورے والا ٹریکرز کلب کے ایک اہم ممبر اور بہترین ٹریکر ہیں۔ وہ بورے والا شہر کی اُن چنیدہ شخصیات میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی محنتِ شاقہ، آپسی میل […]
کچھ ہسپانوی شاعر "فیڈریکو گارشیا لورکا” کے بارے میں

تحریر: زاہد حسن فیڈریکو گارشیا لورکا (Federico García Lorca) کی ایک نظم ہے: مجھے لگا جیسے اُنھوں نے مجھے قتل کر دیا ہے اُنھوں نے مجھے چائے خانوں، قبرستانوں اور گرجوں میں تلاش کیا اُنھوں نے مجھے گوداموں اور الماریوں میں ڈھونڈا اُنھوں نے تین مردوں کو لوٹ لیا اُن کے سونے کے دانت اُتار […]
وضع داریاں

مرحوم قاضی صاحب سر عزیز الدین احمد وزیرِ اعظم ’’دتیا‘‘ میں جہاں اور درجنوں خوبیاں تھیں، وہاں وضع داری کے اعتبار سے بھی وہ بہت ہی قابلِ احترام شخصیت تھے۔ جب کسی شہر میں جاتے، یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنے پرانے ملنے والے دوستوں کے ہاں نہ پہنچے اور اگر کسی وجہ سے […]
معقولیت باعثِ اطمینان

تحریر: دیوان سنگھ مفتون مَیں جب ریاست نابھہ میں سرکاری ملازم تھا (وہاں مجھے دوسو روپیا ماہوار تنخواہ ملتی تھی)، تو میری سگائی ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں سردار ہرنام سنگھ کی لڑکی سے ہوگئی۔ ہندوستان میں عموماً اور ملازمت پیشہ لوگوں میں خصوصاً تجارت یا صنعت و حرفت کی کوئی قدر نہیں ۔ […]
انتون چیخوف کی ایک لازوال تحریر

ترجمہ: توقیر احمد بھملہ ایک بوڑھے کسان نے اپنی بیمار بیوی کو گھوڑا گاڑی کی عقبی نشست پر لٹا دیا۔ خود وہ اگلی نشست پر سوار ہوا۔ گاڑی کو کھینچنے کے لیے اُس کے آگے مریل سا گھوڑا جتا ہوا تھا…… اور یوں وہ اُسے علاج کے لیے دور دراز شہر لے گیا۔ مسافت طویل […]
ماچس والی لڑکی (انگریزی ادب)

ترجمہ: شازیہ شکور بَلا کی سردی تھی۔ شام اندھیری ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بالآخر رات آگئی۔ سال کی آخری رات۔ ایک چھوٹی سی غریب بچی، ننگے سَر، ننگے پاؤں گلیوں میں پھر رہی تھی۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی، تو اُس کے پاؤں میں اُس کے اپنے نہیں بلکہ ماں کے چپل تھے، […]
’’جنت اور دوزخ‘‘ پائیلو کوئیلہو کے ناول سے مقتبس

انتخاب: محمد احسن جنوبی فرانس کے قصبے ’’وسکوس‘‘ میں ایک روایت مشہور ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک آدمی اپنے گھوڑے اور کتے کے ہم راہ پائنیریز کے پہاڑوں میں جا رہا تھا۔ موسم اَبرآلود تھا۔ بارش ہونے والی تھی۔ وہ ایک درخت کے نیچے سے گزرا۔ اچانک بجلی کڑکی اور درخت پر […]
میرا یار ابو حسن (فلسطینی ادب)

مترجم: ڈاکٹر محمد افتخار شفیع، ساہیوال ابوالحسن ایک سادہ اور خاموش طبع کسان تھا۔ اُس کی شرافت اور نجابت کی وجہ سے لوگ دل سے اُس کی عزت کرتے تھے۔ مَیں اُس کی زندگی کے ماہ و سال سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اُس کی تمام زندگی خاموشی اور نیک نیتی کے ساتھ گزری تھی۔ […]
دو جنرل اور ایک عام آدمی (روسی ادب)

ترجمہ: ظ انصاری (19ویں صدی کے روسی ادیب ’’میخائیل سلتی کوف شیدرن‘‘ کی تحریر جسے 1962ء میں ظ۔ انصاری نے اُردو کے قالب میں ڈھالا) کہتے ہیں کسی زمانے میں دو جنرل تھے ۔ دونوں تھے بڑے من موجی۔ دونوں نے ساری عمر دفتروں میں کام کیا تھا۔ اُنھیں سوائے حکم دینے کے اور کچھ […]
مولانائے روم کی ایک مشہور غزل مع اُردو ترجمہ

مترجم: خضر عباس بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست بگشای لب کہ قند فراوانم آرزوست اے محبوب! تو اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ تو اپنے ہونٹ کھول کہ مجھے بہت زیادہ مٹھاس کی خواہش ہے۔ ای آفتاب حُسن برون آ دمی ز ابر کآن چہرۂ مُشَعشَعِ […]
میکسیکو کے ادب سے ترجمہ شدہ ناول ’’بنجر زمین‘‘
تبصرہ نگار: طارق احمد خان ’’بعض گاؤں ایسے ہوتے ہیں جن سے بدنصیبی کی بو آتی ہے۔ آپ اُنھیں پہچان لیتے ہیں اُن کی ٹھہری ہوئی ہوا کے ایک جھونکے سے باسی اور نحیف۔ ہر پرانی چیز کی طرح یہ گاؤں اُن میں سے ایک ہے سوزانا!‘‘ اوپر تحریر کیا گیا جملہ اُسی گاؤں ’’کومالا‘‘ […]
احمد راہیؔ، شخصیت و فن

احمد راہیؔ پنجابی زبان کا مان تھے۔ پنجابی شاعری کو اُن پر مان تھا۔ تقسیمِ برصغیر سے پہلے نئی پنجابی نظم کے پہلے شاعر شریف کنجاہیؔ تھے جب کہ تقسیم کے بعد نئی پنجابی نظم کے پہلے شاعر احمد راہیؔ تھے۔ احمد راہی 12 نومبر 1923 ء کو امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں خواجہ […]
دریاؤں کے پانی کا مہمان نوازی پر اثر

انتخاب: توقیر احمد بُھملہ پروفیسر آذر کی دعوت میں مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ پنجابی لطائف نے بھی بہت دلچسپی پیدا کر دی اور باتوں باتوں میں آذر صاحب نے سب سے مخاطب ہو کر سوال کیا کہ ہر شخص ایمان داری کے ساتھ بتائے کہ دہلی میں آکر اُس نے کیا کچھ حاصل […]
جون ایلیا، شخصیت و فن

ماہرِ لسانیات، فلسفی، شاعر، ادبی نقاد اور مصنف ’’جون ایلیا‘‘ 14 دسمبر 1931ء کو امروہہ میں اُس علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، جو ’’ساداتِ امروہہ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا۔ جونؔ کا نام سیّد جون اصغر نقوی رکھا گیا۔ والدِ محترم علامہ شفیق حسن ایلیا اُردو، فارسی، عربی اور عبرانی زبان کے عالم تھے۔ تین […]
ایک فوجی کے عشق کی کہانی

انتخاب: احمد بلال جنگ کے ختم ہونے کے بعد جب ایک جنرل کو جنگ میں مارے گئے فوجیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، تو اُس تلاش میں اُنھیں ایک بوڑھا مل جاتا ہے، جو اُسے ایک سپاہی کی کچھ دوسری باقیات اور ساتھ میں ایک ڈائری دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے […]
کچھ فرانسیسی ادیب ماریس ماترلینک کے بارے میں

انتخاب: یاسر حبیب ماریس ماترلینک (Maurice Polydore Marie Bernard Maeterlinck) ، نوبیل انعام یافتہ ڈراما نگار، شاعر اور مضمون نگار ہیں۔ ماریس ماترلینک 29 اگست 1862ء کو بلجیم کے علاقے گینٹ میں ایک متمول فرانسیسی نژاد کیتھولک خاندان میں پیدا ہوا۔ ماترلینک کا شمار یورپ کے صفِ اوّل کے فرانسیسی لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ اُس […]
اورحان پاموک کے ناول کا جائزہ

تبصرہ: حاجرہ ریحان اور سب سے بڑا سانحہ تو یہ ہے کہ آپ 3 سال تک محبت کسی لڑکی سے کرتے رہے ہوں، مگر اپنے ساتھ بھگا کر کسی اور لڑکی کو لے آئیں۔ کتاب میں ترکی اور استنبول کی تاریخ کو دھرایا گیا ہے۔ کس طرح استنبول میں دور دراز گاؤں قصبوں سے غریب […]
گوشت (برازیلی ادب)

مترجم: محمد فیصل (کراچی) کیوں کہ اُس کی سال گرہ تھی، لہٰذا وہ لڑکا اپنی خواہش ظا ہر کر سکتا تھا۔ ویسے بھی اُس کی زندگی میں خواہشیں کرنے کی گنجایش کم ہی تھی۔ اُسے کھلونے نہیں چاہئیں، وہ بس روز چاول اور لوبیا کھاکھا کر تھک چکا تھا۔ اُس کے والد نے اُسے یاد […]
دیوان سنگھ مفتون کی ایک پرانی تحریر

انتخاب: حنظلۃ الخلیق انگریزی کے ایک مصنف نے لکھا ہے: ’’مجھے اُن گناہ گاروں کے ساتھ ہم دردی ہے، جو بے نقاب ہوگئے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب ہی گناہ کرتے ہیں، مگر گناہ گار وہی قرار دیے جاتے ہیں، جن کے گناہوں کا لوگوں کو علم ہو جائے اور وہ […]
زمانۂ جاہلیت کے ایک شاعر کا اپنی محبوبہ کے نام قصیدہ

تحریر: شاہد انصاری عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات کی لکھی ہوئی کتاب بنام ’’تاریخِ ادبِ عربی‘‘ کا مطالعہ کرنے سے زمانۂ جاہلیت کے اہلِ عرب کی مثبت زندگی کا مختصر پہلو ہاتھ آتا ہے۔ زہے عشق زہے خوبی ہوئی رخصت یہ محبوبی اٹھا گھونگٹ تو حق دیکھا، ازل عشقا ابد عشقا زمانۂ جاہلیت […]
کچھ نارویجن ادیب ’’جان فوسے‘‘ کے بارے میں

تحریر: احمد نعیم ادب کا نوبل پرائز ناروے کے 64 سالہ ’’جان فوسے‘‘ (Jon Fosse) لے اُڑے۔ ظاہر ہے ہم اُن کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، جیسے اُن سے پہلے والے ’’نوبل پرائز وِنرز‘‘ سے متعلق اکثر نہیں جانتے۔ بہت سارے تنازعات کے باوجود نوبل پرائز کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ ادب کے ایک […]